تقسیم کرو، حکومت کرو ۔۔ صدیوں پرانا نسخہ
شیئر کریں
انسانی تاریخ میں بعض الفاظ تلواروں سے زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔ تلوار ایک جسم کو زخمی کرتی ہے، مگر ایک سیاسی فقرہ پوری قوم کی اجتماعی روح میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔ Divide et Impera تقسیم کرو اور حکومت کرو بھی ایسا ہی ایک فقرہ ہے؛ اقتدار کی دنیا کا ایک قدیم
ترین اور خوفناک ترین اصول، جس میں جنگ میدانِ جنگ سے پہلے انسان کے ذہن میں شروع ہو جاتی ہے۔اس اصطلاح کی تاریخ خود اتنی سیدھی نہیں جتنی یہ فقرہ ہے۔Divide et Imperaلاطینی زبان کا جملہ ہے، مگر اس خیال کی جڑیں قدیم یونانی دنیا تک جاتی ہیں۔
روایت میں اسے فلپ دوم مقدونیہ سے منسوب کیا جاتا ہے، وہی بادشاہ جس نے چوتھی صدی قبلِ مسیح میں یونانی شہر ریاستوں کی باہمی رقابتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقدونیہ کی بالادستی قائم کی اور اپنے بیٹے سکندر کے لیے ایک وسیع سلطنت کی بنیاد چھوڑی۔ تاہم تاریخی اعتبار سے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ حکمتِ عملی قدیم ہے، مگر اس مخصوص لاطینی فقرے کی نسبت قطعی طور پر ثابت نہیں۔یعنی تقسیم کا فلسفہ، فقرے سے کہیں زیادہ پرانا ہے۔ قدیم یونان میں polis یعنی شہر ریاست صرف جغرافیہ نہیں تھی؛ وہ شناخت، عزت، سیاست اور اجتماعی وجود تھی۔ ایتھنز، اسپارٹا اور دوسری ریاستیں اپنے اپنے مفادات، خوف اور اتحادوں کے ساتھ زندہ تھیں۔ فلپ دوم نے اسی منتشر سیاسی منظرنامے کو سمجھا۔ جہاں اتحاد ممکن تھا وہاں رقابتیں موجود تھیں، اور جہاں مشترکہ مزاحمت پیدا ہو سکتی تھی وہاں باہمی مفادات کے تضادات بھی موجود تھے۔یہیں سے اقتدار کا وہ قدیم ریاضیاتی اصول سامنے آتا ہے:اگر دشمن ایک ہے تو اسے شکست دینا مشکل ہے؛اگر دشمن اپنے ہی اندر کئی دشمن پیدا کر لے تو فاتح کو تلوار کم چلانی پڑتی ہے۔بعد میں روم نے اسی قسم کی حکمتِ عملی کو اپنے وسیع سیاسی نظم میں مختلف صورتوں میں استعمال کیا۔
روم ہمیشہ ہر قوم کو ایک ہی طریقے سے نہیں دیکھتا تھا؛ مختلف علاقوں اور اتحادیوں کے ساتھ مختلف معاہدے، مراعات اور قانونی حیثیتیں رکھی جاتی تھیں۔ قدیم ذرائع میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جہاں مقامی سیاسی تقسیموں کو برقرار رکھتے ہوئے رومی اقتدار نے اپنے لیے گنجائش پیدا کی۔یہاں اصل بات روم نہیں، اقتدار کی نفسیات ہے۔حکمران کو ہمیشہ ایک مضبوط عوامی طاقت سے خطرہ ہوتا ہے۔ مگر عوام اگر زبان، نسل، مذہب، قبیلے، طبقے، علاقے یا مفاد کے نام پر چھوٹے چھوٹے حصوں میں بٹ جائیں تو ان کی اجتماعی طاقت کم ہو جاتی ہے۔ بڑے پہاڑ کو توڑنے کے لیے بڑی مشین درکار ہوتی ہے؛ مگر اگر پہاڑ کو پتھروں میں تبدیل کر دیا جائے تو ہر پتھر الگ اٹھایا جا سکتا ہے۔ Divide et Impera دراصل انسان کو توڑنے کی نہیں، اس کی اجتماعی طاقت کو
چھوٹا کرنے کی سیاست ہے۔اور شاید یہی اس کی سب سے خوفناک بات ہے۔کیونکہ اس میں حکمران ہر شخص کو الگ الگ شکست نہیں دیتا؛ وہ صرف لوگوں کو ایک دوسرے سے اس قدر دور کر دیتا ہے کہ وہ اپنی مشترکہ طاقت بھول جاتے ہیں۔میکیاولی نے صدیوں بعد سیاست اور جنگ کے اسی انسانی منطق کو اپنی تحریروں میں مختلف انداز سے بیان کیا۔ On the Art of War میں وہ دشمن کی قوت کو تقسیم کرنے، اس کے اندر بداعتمادی پیدا کرنے اور اسے منتشر کرنے کی فوجی حکمتِ عملی پر گفتگو کرتا ہے۔لیکن میکیاولی سے بھی زیادہ گہری چیز خود انسانی نفسیات ہے۔
انسان کو ہمیشہ زنجیر سے غلام نہیں بنایا جاتا؛ کبھی اسے خوف سے اپنے ہی ہاتھوں سے زنجیر پہنائی جاتی ہے۔ایک حکمران اگر کسی قوم سے کہے:‘‘تمہارا دشمن تمہارے سامنے ہے۔’’اور پھر اس کے سامنے ایک ایسا چہرہ رکھ دے جو اسی محلے میں رہتا ہو، اسی بازار میں خریداری کرتا ہو، اسی زمین پر سانس لیتا ہو، تو سیاست اپنی سب سے خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ اقتدار کس کے پاس ہے؟سوال یہ بن جاتا ہے:‘‘وہ کون ہے جس سے مجھے نفرت کرنی چاہیے؟’’یہی وہ لمحہ ہے جب سیاست، نفسیات پر قبضہ کر لیتی ہے۔
انسان اپنی شناخت سے محبت کرتا ہے۔ زبان، مذہب، نسل، علاقہ، ثقافت، طبقہ-97یہ سب اس کے وجود کو معنی دیتے ہیں۔ مگر جب کوئی سیاسی قوت ان شناختوں کو انسانوں کو جوڑنے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتی ہے تو شناخت محبت سے نفرت کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔پھر زبان مادری زبان نہیں رہتی، سیاسی ہتھیار بن جاتی ہے۔مذہب روحانی تجربہ نہیں رہتا، سیاسی خندق بن جاتا ہے۔ قومیت تہذیبی شناخت نہیں رہتی، دوسرے انسان کو خارج کرنے کا بہانہ بن جاتی ہے۔اور علاقہ گھر نہیں رہتا، دشمنی کی سرحد بن جاتا ہے۔
یہیںDivide et Imperaاپنی اصل طاقت دکھاتا ہے۔اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ دو گروہوں کو لڑا دیا جائے۔اس کی
اصل کامیابی یہ ہے کہ دونوں گروہ اپنی لڑائی کو اپنا ذاتی انتخاب سمجھنے لگیں۔یہ نفسیاتی غلامی کی انتہائی پیچیدہ شکل ہے۔فرائیڈ نے انسانی ذہن
کے اندر دبی خواہشوں، خوف اور تنازعات کی دنیا کھولی۔ یونگ نے اجتماعی لاشعور اور انسانی ذہن میں موجود قدیم علامتوں کی طرف توجہ
دلائی۔ نطشے نے طاقت، ارادے اور انسانی برتری کی خواہش کو فلسفے کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ فوکو نے بعد کے زمانے میں دکھایا کہ طاقت
صرف حکم دینے والے ادارے میں نہیں ہوتی؛ وہ علم، زبان، اداروں اور اس نظام میں بھی کام کرتی ہے جو طے کرتا ہے کہ کون سی بات معمول
ہے، کون سی خطرناک ہے، اور کس کی آواز معتبر ہے۔اس لیے تقسیم صرف دو گروہوں کے درمیان لکیر کھینچنے کا نام نہیں۔تقسیم یہ بھی ہے کہ
لوگوں کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ ان کے مسائل ایک دوسرے سے پیدا ہوتے ہیں، حالانکہ ان کے مسائل کی جڑ کہیں اور ہو سکتی ہے۔اگر
ایک غریب مزدور کو یہ باور کرا دیا جائے کہ اس کی غربت کی وجہ دوسرے صوبے کا مزدور ہے، تو وہ اپنے معاشی استحصال کے سوال سے دور ہو
جاتا ہے۔اگر ایک شہری کو بتایا جائے کہ اس کی محرومی کی وجہ دوسرے شہر کا شہری ہے، تو وہ اس نظام سے سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے جس نے
دونوں کو محروم رکھا ہے۔اگر دو زبانیں بولنے والے لوگ ایک دوسرے کو خطرہ سمجھنے لگیں تو وہ یہ بھول سکتے ہیں کہ دونوں کے بچے ایک ہی
طرح کی مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے مسائل سے گزر رہے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں اقتدار خاموشی سے مسکراتا ہے۔دو
مظلوم ایک دوسرے سے لڑ رہے ہوں تو ظالم کو اپنی حفاظت کے لیے بہت کم محنت کرنا پڑتی ہے۔ادب نے اس انسانی المیے کو بار بار محسوس کیا
ہے۔ شیکسپئر کے ہاں اقتدار صرف تخت نہیں، شک، خوف، خواہش اور سازش کا نام بھی ہے۔ دوستوئیفسکی کے کردار ہمیں دکھاتے ہیں کہ
انسان کے اندر کا اندھیرا کس طرح خود انسان کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے۔
آرویل نے 1984 میں زبان اور حقیقت کے تعلق کو سیاسی طاقت کے ساتھ جوڑا؛ کیونکہ جو طاقت انسان کے الفاظ بدل دے، وہ آہستہ آہستہ اس کی حقیقت بھی بدل سکتی ہے۔پہلے الفاظ بدلتے ہیں۔پھر تصورات۔پھر شناختیں۔پھر دشمن۔اور آخر میں تاریخ۔یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی تاریخ میں تقسیم کی سیاست بار بار نظر آتی ہے۔ وسیع سلطنتوں کے لیے ہر جگہ صرف فوج رکھنا ممکن نہیں تھا۔ مقامی معاشروں کی موجودہ رقابتوں، شناختوں اور مفادات کو سمجھنا، انہیں انتظامی اور سیاسی ڈھانچوں میں استعمال کرنا اور بعض گروہوں کو دوسروں سے مختلف حیثیت دینا حکمرانی کے طریقوں میں شامل رہا۔ برطانوی سامراج کے بارے میں بھی مؤرخین نے ‘‘Divide and Rule’’ کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی ہے۔ لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے: ہر تاریخی تقسیم کو کسی ایک حکمران کی سازش قرار دینا تاریخ کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔ کئی تقسیمیں پہلے سے موجود تھیں؛ اقتدار نے بعض جگہ انہیں استعمال کیا، بعض جگہ مضبوط کیا اور بعض جگہ نئی شکل دی۔یہ فرق سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر اختلاف سازش نہیں ہوتا؛ مگر ہر اختلاف کو نفرت میں تبدیل کرنا سیاسی عمل ضرور بن سکتا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں بھی یہی سوال بار بار ہمارے سامنے آتا ہے۔یہاں زبانیں ہیں، قومیتیں ہیں، صوبے ہیں، فرقے ہیں، طبقے ہیں، شہر اور دیہات ہیں۔ یہ سب پاکستان کی سماجی حقیقتیں ہیں؛ مسئلہ ان کا وجود نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شناخت کو انسانوں کے درمیان پل بنانے کے بجائے خندق بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔سندھی اور اردو بولنے والا ایک دوسرے کا فطری دشمن نہیں۔پنجابی اور سندھی ایک دوسرے کے دشمن پیدا نہیں ہوئے۔ پشتون، بلوچ، سرائیکی، سندھی، اردو بولنے والے ان سب کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں، سیاسی مطالبات مختلف ہو سکتے ہیں، تاریخ کے بارے میں مختلف نقط نظر ہو سکتے ہیں؛ مگر اختلاف کو لازماً دشمنی بنا دینا وہ سیاسی عمل ہے جس سے معاشرہ کمزور ہوتا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ ہم مختلف کیوں ہیں؟اصل سوال یہ ہے:ہماری مختلف شناختوں کو کون، کب اور کس مفاد کے لیے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتا ہے؟یہ سوال خطرناک ہے۔کیونکہ اس سوال کا رخ عوام سے اقتدار کی طرف مڑ جاتا ہے۔اور اقتدار ہمیشہ یہ پسند نہیں کرتا کہ عوام اس سے سوال کریں۔تاریخ کا عجیب المیہ دیکھیے:لوگ اکثر اس شخص سے لڑتے رہتے ہیں جو ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، صرف اس لیے کہ کسی طاقتور نے انہیں یقین دلا دیا ہوتا ہے کہ وہ دشمن ہے۔پھر نسلیں گزرتی ہیں۔نفرتیں وراثت بن جاتی ہیں۔جھوٹ روایت بن جاتا ہے۔اور سیاسی ضرورت تاریخ کا لباس پہن لیتی ہے۔
تاریخ کا سب سے تلخ سبق یہ نہیں کہ حکمران طاقتور ہوتے ہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ عوام جب اپنی اجتماعی طاقت بھول جاتے ہیں تو حکمران طاقتور دکھائی دینے لگتے ہیں۔تلواریں سلطنتیں فتح کرتی رہی ہیں، مگر سلطنتوں کو قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ تلوار کافی نہیں رہی۔ کبھی خوف نے کام کیا، کبھی مذہب نے، کبھی نسل نے، کبھی زبان نے، کبھی قومیت نے، کبھی افواہ نے، اور کبھی ایک ایسا جھوٹ جسے اتنی مرتبہ دہرایا گیا کہ وہ اجتماعی سچ بن گیا۔مگر ہر تقسیم کے اندر ایک امکان چھپا ہوتا ہے:دوبارہ جڑنے کا امکان۔جس دن انسان دوسرے انسان کو اپنے سیاسی خانے سے نکال کر دوبارہ انسان کی حیثیت سے دیکھنے لگے گا، اسی دن تقسیم کی سیاست کی سب سے مضبوط دیوار میں پہلی دراڑ پڑے گی۔کیونکہ اقتدار کی آخری طاقت بندوق نہیں ہوتی۔اقتدار کی آخری طاقت یہ یقین ہوتا ہے کہ عوام ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔اور جب عوام سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا اختلاف ان کی دشمنی نہیں، ان کی تنوع ہے؛ ان کی شناختیں ان کی خندقیں نہیں بلکہ ان کی تاریخ ہیں؛ اور ان کا اصل حق کسی دوسرے انسان سے نفرت میں نہیں بلکہ اپنے اجتماعی اختیار میں ہے تو پھر Divide et Imperaصرف ایک قدیم لاطینی فقرہ رہ جاتا ہے۔اور اقتدار کے محل میں ایک خوفناک سوال گونجنے لگتا ہے:اگر عوام نے ایک دوسرے سے لڑنا بند کر دیا، تو پھر حکومت کس پر کی جائے گی؟
٭٭٭


