بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز
شیئر کریں
عطا محمد تبسم
فروری 2026کے الیکشن میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے 40فیصد ووٹ حاصل کرکے سب کو حیران کردیا ہے ۔ میں نے اس کامیابی کی وجوہات جاننے کے لیے مسعود اعجازی سے اس کامیابی کا راز پوچھا؟ مسعود اعجازی اور ان کی اہلیہ حال ہی میں بنگلہ دیش کا دورہ کرکے پاکستان لوٹے ہیں۔ مسعود نے بتایا کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی کامیابیوں کے پیچھے ، اس کی قیادت اور کارکنوں کی انتھک محنت قربانیاں، اپنے مشن سے اخلاص، اور اس کے لیے دی جانے والی قربانیوں سے جڑی ہوئی ہے ۔جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش نے مختلف رفاہی، تعلیمی، سماجی اور تجارتی اداروں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے ۔ ان میں بنگلہ دیش اسلامی چھاترو شبر، بنگلہ دیش چاشی کلیان سمیتی، بنگلہ دیش ٹیچرز فیڈریشن، تجارتی اداروں کا نیٹ ورک، بنگلہ دیش مسجد مشن، پھول کُڑی، پھول میلہ، یونائیٹڈ کلچرل کونسل، بنگلہ دیش سیرامک کلیان فیڈریشن، جماعتِ اسلامی خواتین ونگ، جماعتِ اسلامی یوتھ ونگ، ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا کا نیٹ ورک، نیشنل فریڈم فائٹرز کونسل، تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک، بنگلہ دیش بزنس فورم، بنگلہ دیش لائرز کونسل، اخبارات و رسائل کا نیٹ ورک اور بنگلہ دیش اسلامی چھاتری سنگستا شامل ہیں۔
بچوں کی تنظیم ”پھول کُڑی” بنگلہ دیش کی معروف تربیتی اور فکری تنظیموں میں شمار ہوتی ہے ۔ یہ بچوں اور نو عمر افراد کی ایسی تنظیم ہے جو
تعلیم، کردار سازی، صحت، سماجی خدمت اور مثبت شخصیت کی تعمیر پر توجہ دیتی ہے ۔ اس کے مختلف شعبوں میں ثقافت، کھیل، جسمانی ورزش،
زراعت، فنون، سائنس اور سماجی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان پہلے اپنی ذات کی تعمیر کرے اور پھر معاشرے کی اصلاح میں کردار ادا کرے ۔
عوامی خدمت کے لیے ”سروس نین ڈاٹ کام” کے نام سے ایک پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے جہاں پلمبر، الیکٹریشن، اے سی مرمت، واٹر
ٹینک صفائی، ڈرائیونگ ٹریننگ، کمپیوٹر سروسز اور دیگر فنی خدمات رعایتی نرخوں پر فراہم کی جاتی ہیں۔ مساجد اور بعض فلاحی اداروں کو مفت
خدمات بھی مہیا کی جاتی ہیں۔ ان خدمات کی درخواست فون، انٹرنیٹ یا موبائل ایپ کے ذریعے دی جا سکتی ہے ۔ ادارہ اپنے ٹیکنیشنز کے
معیار اور خدمات کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے جس سے عوام کا اعتماد بڑھتا ہے اور ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
فنی تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے لیے مختلف اسکل لرننگ سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں گرافک ڈیزائننگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فیشن ڈیزائننگ اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت دی جاتی ہے ۔ تربیت مکمل کرنے والوں کو روزگار اور فری لانسنگ کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
”بامبو لینڈ”بنگلہ دیش کا ایک بڑا انڈور پلے گراؤنڈ نیٹ ورک ہے جس کا آغاز 2018ء میں ہوا۔ اس کا مرکزی دفتر ڈھاکا میں واقع ہے جبکہ اس کی متعدد شاخیں پورے ملک میں سرگرم ہیں۔ یہاں بچوں کے لیے محفوظ، صاف ستھرا اور تعلیمی و تفریحی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ لائبریری، فوڈ کارنر اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو کھیلنے ، سیکھنے اور سماجی میل جول کے مواقع ملتے ہیں جبکہ والدین بھی اطمینان محسوس کرتے ہیں۔
بنگلہ دیش کا سب سے بڑا نجی بینک ”اسلامی بینک بنگلہ دیش لمیٹڈ” ملک کے اہم مالیاتی اداروں میں شمار ہوتا ہے ۔ ماضی میں جماعتِ اسلامی اور اس بینک کے درمیان نظریاتی اور مالی روابط کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے ، اسی لیے بعض تجزیہ نگار اسے جماعت کا معاشی بازو قرار دیتے ہیں۔ شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں اس کے انتظامی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں اور بینک کے کنٹرول کے حوالے سے مختلف تنازعات بھی سامنے آئے ۔ اس کے باوجود اسلامی بینک بنگلہ دیش ملک کے بڑے اور بااثر مالیاتی اداروں میں اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے ۔
صحت کے شعبے میں ”ابنِ سینا ٹرسٹ” ایک نمایاں نام ہے ۔ اس کے تحت ہسپتال، میڈیکل کالج، نرسنگ کالج، ڈائگنوسٹک سینٹرز اور دوا سازی کے ادارے کام کر رہے ہیں۔ ابنِ سینا کی لیبارٹریاں اور طبی مراکز بنگلہ دیش کے معتبر طبی اداروں میں شمار کیے جاتے ہیں اور لاکھوں افراد ان کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس کی مالیت تقریبا 9.6 بلین ٹکہ ہے ۔
میڈیا کے میدان میں ”ڈییگا ٹی وی” اور ”اسلامک ٹی وی” اہم ادارے رہے ہیں۔ ڈییگا ٹی وی نے 2008ء میں اپنی نشریات کا آغاز کیا اور مختصر مدت میں مقبولیت حاصل کی، تاہم بعد میں حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس کی نشریات معطل کر دی گئیں۔ اسی طرح اسلامک ٹی وی کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ بعد کے برسوں میں ان اداروں کی بحالی کے حوالے سے مختلف کوششیں جاری ہیں۔تعلیم کے شعبے میں ”مسجد مشن اکیڈمی” 1973ء سے خدمات انجام دے رہی ہے ۔ اس کے تحت مختلف اسکول، کالج اور تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں جن میں ہزاروں طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ ادارے دینی اور عصری تعلیم کے امتزاج کے ساتھ نئی نسل کی تربیت میں مصروف ہیں۔
بنگلہ دیش نے اپنی آزادی کے بعد معاشی، تعلیمی اور سماجی میدانوں میں نمایاں ترقی کی ہے اور کئی معاشی اشاریوں میں پاکستان سے بہتر
کارکردگی دکھائی ہے ۔ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کو قیامِ بنگلہ دیش کی مخالفت کے باعث طویل عرصے تک سیاسی مشکلات اور حکومتی دباؤ کا
سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود جماعت نے رفاہی، تعلیمی اور سماجی میدانوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور معاشرے کے مختلف
طبقات میں کام کو فروغ دیا۔ جماعت اسلامی کے ارکان ہر ماہ اپنی آمدنی کا پانچ فیصد بیت المال مین جمع کراتے ہیں۔ بیت المال کی نصب
آمدنی غریب خاندانوں کی کفالت اور رفاہی کاموں پر خرچ کی جاتی ہے ۔بنگلہ دیش کے یہ ادارے جماعت اسلامی کے نام پر نہیں ہیں،
بلکہ اس کی ملکیت جماعت کے ہمدرد ، کارکنوں کے نام پر ہے ۔ اس تنظیمی استحکام، سماجی خدمات اور تعلیمی منصوبہ بندی کے ذریعے اس نے
اپنی موجودگی برقرار رکھی اور بنگلہ دیش کی سیاسی و سماجی زندگی میں ایک مؤثر قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔
٭٭٭


