سندھ بلڈنگ، لیاری کے نیا آباد میں خلاف ضابطہ دندناتی عمارتیں
شیئر کریں
ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سی اے کشن چند کی مافیا سے ملی بھگت سے انسانی جانیں خطرے میں
پلاٹ نمبر 104، 1286پر حفاظتی معیارات پامال شہریوں میں تشویش، تباہی کا خدشہ
شہر قائد کے قدیمی اور انتہائی گنجان آباد علاقے لیاری کے نیا آباد میں گذشتہ چند ماہ سے عمارتی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ علاقے میں خلافِ ضابطہ دندناتی بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر نے مقامی شہریوں کی نیندیں اُڑا دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان غیر قانونی تعمیرات میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کشن چند کی مبینہ ملی بھگت سامنے آئی ہے ۔عینی شاہدین اور متاثرین کا کہنا ہے کہ محکمانہ طور پر ان عمارتوں کو تعمیر کے لیے کوئی نوٹس نہیں دیا جا رہا،بلکہ عملے کی جانب سے سرپرستی فراہم کی جا رہی ہے ۔ پلاٹ نمبر 104, 1286 کی پرانی عمارتوں پر بالائی منزلوں کا بوجھ ڈالا جارہا ہے ، ماہرین کے مطابق یہ عمارتیں نہ تو فائر سیفٹی کے بنیادی معیارات پر پورا اترتی ہیں اور نہ ہی ان کے پاس پارکنگ اور راہداریوں کے لیے مناسب جگہ موجود ہے ۔ مقامی رہائشیوں کا خدشہ ہے کہ اگر کبھی معمولی زلزلہ بھی آیا یا آگ لگنے کا کوئی واقعہ پیش آیا تو یہ عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح گر سکتی ہیں، جس سے سینکڑوں انسانی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ادھر اس حوالے سے جرأت سروے ٹیم کی جانب سے جب اتھارٹی کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ محکمانہ طور پر اپنا کام کر رہے ہیں اور خلاف ورزیوں پر کارروائی جاری ہے ۔تاہم عوام کا کہنا ہے کہ جب تک ان عمارتوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی نہیں کی جاتی اور انہیں گرایا نہیں جاتا، نیا آباد کے عوام کے لیے قیامت ٹلنے والی نہیں۔


