سندھ بلڈنگ ،رام سوامی میں مخدوش عمارت پر غیر قانونی چوتھی منزل تعمیر
شیئر کریں
پلاٹ نمبر 79/1 آر ایس 2 کمزور بنیادوں پر خطرناک تعمیر، بڑے سانحہ کا خدشہ
ماہرین نے عمارت کو ٹائم بم قرار دے دیا،قمر قائم خانی ،بیٹر فرحان پر ملی بھگت کے الزامات
ضلع جنوبی کے گنجان آباد علاقے صدر ٹاؤن کے قدیم محلے رام سوامی میں پلاٹ نمبر 79/1 آر ایس 2 پر قائم مخدوش عمارت پر غیر قانونی طور پر چوتھی منزل کی تعمیر نے سنگین خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ ماہرین تعمیرات نے اس عمارت کو ٹائم بم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کمزور بنیادوں اور غیر معیاری مٹیریل کے باعث یہ ڈھانچہ کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتا ہے ، جس کے نتیجے میں بڑے جانی نقصان کا خدشہ ہے ۔تفصیلات کے مطابق مذکورہ عمارت پہلے ہی خستہ حالی کا شکار تھی، تاہم اس کے باوجود بلڈنگ بائی لاز کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی منزل تعمیر کردی گئی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی عمارتیں نہ صرف زلزلے بلکہ اضافی بوجھ بھی برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، جو اسے رہائش کے لیے انتہائی خطرناک بناتی ہیں۔علاقہ مکینوں اور عینی شاہدین نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ غیر قانونی تعمیر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر قمر قائم خانی اور بیٹر فرحان کی مبینہ سرپرستی میں جاری ہے ۔ مکینوں کے مطابق متعدد بار شکایات درج کروانے ، درخواستیں دینے اور اخبارات میں مسلسل نشاندہی کے باوجود نہ صرف کارروائی نہیں کی گئی بلکہ متعلقہ افسران نے دانستہ طور پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ بعض مکینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریکارڈ میں ردوبدل کر کے معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔مزید برآں، تعمیراتی عمل کے دوران ایس بی سی اے کی جانب سے کسی قسم کا معائنہ نہ ہونا ادارہ جاتی نااہلی اور مبینہ بدعنوانی کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے تو صورتحال یہاں تک نہ پہنچتی۔اس سنگین صورتحال کے خلاف علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی چوتھی منزل کو فوری طور پر مسمار کیا جائے اور ڈپٹی ڈائریکٹر قمر قائم خانی اور بیٹر فرحان سمیت تمام ملوث افسران کے خلاف شفاف اور اعلیٰ سطحی انکوائری کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔مکینوں نے خبردار کیا کہ اتھارٹی کی مسلسل غفلت اور مجرمانہ خاموشی کسی بڑے سانحے کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔واضح رہے کہ رام سوامی اور ملحقہ علاقوں میں اس سے قبل بھی خلاف ضابطہ تعمیرات کے کئی کیسز منظر عام پر آ چکے ہیں، تاہم بارہا شکایات اور اخباری رپورٹس کے باوجود کسی
بھی ذمہ دار افسر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا سوالیہ نشان بن چکا ہے ، جس سے شہریوں میں عدم تحفظ اور شدید بے چینی پائی جا رہی ہے ۔


