میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پینٹاگون سے معاہدہ، اوپن اے آئی کی ہارڈویئر سربراہ مستعفی

پینٹاگون سے معاہدہ، اوپن اے آئی کی ہارڈویئر سربراہ مستعفی

جرات ڈیسک
پیر, ۹ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کی ہارڈویئر ڈویڑن کی سربراہ کیئٹلن کالینووسکی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

انہوں نے اس فیصلے کی وجہ امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ کمپنی کے معاہدے پر تحفظات کو قرار دیا۔

کیئٹلن کالینووسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کمپنی نے اپنے اے آئی ماڈلز کو امریکی محکمہ دفاع کے خفیہ کلاؤڈ نیٹ ورکس پر تعیناتی پر اتفاق کرنے سے پہلے مناسب وقت لے کر غور نہیں کیا۔

انہوں نے لکھا کہ قومی سلامتی میں مصنوعی ذہانت کا اہم کردار ہے لیکن امریکی شہریوں کی ماورائے عدالتی نگرانی اور انسانی اجازت کے بغیر خودمختار مہلک نظام ایسے معاملات ہیں جن پر زیادہ غور و فکر ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سیم التمین اور ٹیم کا احترام اپنی جگہ، مگر پینٹاگون کے ساتھ معاہدے کا اعلان ضروری حفاظتی ضوابط طے کیے بغیر کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ سب سے پہلے حکمرانی اور پالیسی کا مسئلہ ہے۔ ایسے اہم معاملات میں معاہدوں یا اعلانات میں جلد بازی نہیں ہونی چاہیے۔

کمپنی نے معاہدے کے ایک دن بعد کہا تھا کہ اس میں اضافی حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ اے آئی کے استعمال کو محدود اور محفوظ رکھا جا سکے۔ کمپنی نے حدود واضح کرتے ہوئے دوبارہ بتایا کہ گھریلو نگرانی یا خودکار ہتھیاروں میں اس کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت نہیں دیتیں۔اوپن اے آئی نے کہا کہ اس معاملے پر ملازمین، حکومت، سول سوسائٹی اور عالمی برادری کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔کیئٹلن کالینووسکی 2024 میں میٹا سے اوپن اے آئی میں شامل ہوئی تھیں، جہاں وہ آگمینٹڈ ریئلٹی ہارڈویئر کی ترقی کی قیادت کر رہی تھیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں