سندھ بلڈنگ ،کے اے ای سی ایچ ایس میں خلاف ضابطہ کمرشل تعمیرات
شیئر کریں
آصف شیخ اور صحافتی پیکیج مافیا مل کر رہائشی پلاٹوں کو کمرشل زون میں تبدیل کر نے لگے
بلاک 2پلاٹ ،C 79بلاک 4پلاٹ B 308پر خلاف ضابطہ تعمیرات کی چھوٹ
ضلع ایسٹ میں قائم کراچی ایڈمنسٹریشن ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائشی پلاٹوں پر خلاف ضابطہ کمرشل پورشن یونٹس کی تعمیر پر تشویش پھیل رہی ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ اور نام نہاد ’صحافتی پیکیج مافیا‘ کے درمیان گٹھ جوڑ کے باعث علاقے کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کیا جا رہا ہے ، مقامی ذرائع کے مطابق، کراچی ایڈمن سوسائٹی کے بلاک 6، 7 اور 8 میں سب سے زیادہ غیرقانونی کمرشل تعمیرات ہو رہی ہیں۔ بلاک 2 رہائشی پلاٹ نمبر C79پر کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر کی چھوٹ فضل نامی شخص نے حاصل کر رکھی ہے۔ جبکہ بلاک 4کے پلاٹ نمبر B308 پر بھی تعمیراتی لاقانونیت برقرار ہے ،بلاک 8 میںمتعدد پلاٹوں پر شاپنگ یونٹس تقریباً 25-30رہائشی پلاٹوں کو جزوی یا مکمل طور پر تجارتی مقاصد کے لیے تبدیل کیا جا چکا ہے ، اطلاعات کے مطابق ہر غیرقانونی کمرشل یونٹ کے لیے 5سے 10لاکھ روپے کا "معاوضہ” لیا جا رہا ہے ۔ یہ رقم "پیکیج مافیا” کے ذریعے وصول کی جاتی ہے جو بعد میں متعلقہ افسران تک پہنچائی جاتی ہے۔ کل مالیت کروڑوں روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے ۔کراچی ایڈمنسٹریشن ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشیوں نے وزیر بلدیات سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے ،قانون کی حکمرانی قائم ہو، بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہو،شہر کی منصوبہ بندی کو برقرار رکھا جا سکے یہ صورت حال نہ صرف کراچی ایڈمنسٹریشن ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی بلکہ پورے شہر کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے ۔ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو یہ مسئلہ دیگر رہائشی علاقوں میں بھی پھیل سکتا ہے ، جس سے شہری منصوبہ بندی کا پورا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے ۔


