سیلابی ریلا سندھ کی جانب رواں دواں، پنجاب میں سیلاب سے 42 لاکھ افراد متاثر، 56اموات
شیئر کریں
بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، مزید سیلابی صورت حال کا خدشہ،متعلقہ اداروں کا ہنگامی الرٹ جاری،ملتان میں ریلے سے نمٹنے کیلئے ضلعی انتظامیہ نے ایک عملی منصوبہ تیار کر لیا ،وزارت آبی وسائل
صوبے بھر میں مختلف مقامات پر طوفانی بارشوں کا خطرہ ،پنجاب سے آنیوالا سیلابی ریلا آئندہ چند گھنٹوں میں سندھ میں داخل ہوجائے گا، ، گھوٹکی میں کچے کے مزید علاقے زیر آب آگئے ہیں،پی ڈی ایم اے سندھ
بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، پاکستان میں مزید سیلابی صورت حال کا خدشہ پیدا ہوگیا، بھارتی ہائی کمیشن نے دریائے ستلج میں 2 مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے پاکستان کو آگاہ کر دیا، سیلاب سندھ کی جانب رواں دواں ہے، اور چند گھنٹوں میں صوبے میں داخل ہوجائے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد ہریکے اور فیروز پور کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، وزارت آبی وسائل نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی الرٹ جاری کر دیا۔وزارت آبی وسائل کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن نے دریائے ستلج میں 2 مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کیا ہے، دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقام انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے لہٰذا تمام محکمے الرٹ رہیں، اور متعلقہ آبادیوں سے عوام کی منتقلی سمیت دیگر ضروری انتظامات کرلیں۔پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقامات پر صبح 8 بجے رپورٹ ہونے والی اونچی طغیانی ذیلی اضلاع کو متاثر کرے گی۔ایک الرٹ میں پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی کہ وہ ارلی وارننگ سسٹمز کو فعال کریں، حفاظتی اور انخلا کی معلومات بروقت پہنچانے کو یقینی بنائیں، اور پشتوں کو مضبوط کریں۔الرٹ میں زور دیا گیا کہ بھاری مشینری کو رکاوٹ والے مقامات پر پہلے سے پہنچایا جائے، ریسکیو 1122 کو الرٹ پر رکھا جائے، اور ضروری غذائی اجناس کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب کے 4 ہزار 100 دیہات میں سیلاب سے 41 لاکھ سے زائد افراد متاثر، اموات کی تعداد 56 تک پہنچ گئی ہے۔ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق پنجاب کے 25 اضلاع میں جاری سیلاب کے باعث مجموعی طور پر 4 ہزار 100 دیہات متاثر ہوئے، جب کہ 26 اگست سے اب تک 56 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ ان دیہات میں متاثرہ آبادی کی کل تعداد 41 لاکھ 51 ہزار 118 ہے، جن کے لیے تقریباً 425 امدادی کیمپ اور عارضی شہر بسائے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 500 میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے ہیں جہاں اب تک تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار افراد کا علاج کیا گیا ہے۔اب تک محفوظ مقامات پر منتقل اور ریسکیو کیے گئے افراد کی تعداد 20 لاکھ 73 ہزار 48 ہے، جب کہ 15 لاکھ 22 ہزار 452 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ملتان کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) وسیم حمید سندھو نے کہا ہے کہ ہیڈ تریموں سے آنے والے ریلے سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے ایک عملی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دریائے چناب پر ہیڈ محمدوالا اور شیرشاہ فلڈ بند پر پانی کی سطح میں کمی آرہی ہے، جس سے حفاظتی پشتوں پر دباؤ کم ہو رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیڈ تریموں سے 5 لاکھ 43 ہزار کیوسک پانی کے بہاؤ کے 36 گھنٹوں میں ملتان پہنچنے کی توقع ہے، آبی ریلے کی وجہ سے ہیڈ محمدوالا اور بوسن و شیرشاہ کے بندوں پر پانی کی سطح دوبارہ بلند ہو سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہیڈ محمد والا پر پہنچنے تک پانی کے بہاؤ کی شدت میں کمی آنے کی توقع ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے (پنجاب) عرفان علی کاٹھیا کے مطابق ہیڈ پنجند اگلے 24 گھنٹوں میں اپنی مکمل گنجائش 6 لاکھ کیوسک سے زائد کی سطح پر پہنچ جائے گا، صوبے بھر میں مختلف مقامات پر طوفانی بارشوں کا بھی خطرہ ہے۔عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ ملتان میں سیلابی صورتحال اگلے 72 گھنٹوں تک برقرار رہے گی کیوں کہ ہیڈتریموں سے مزید پانی سے آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شیرشاہ پل پر صرف 3 انچ پانی کم ہوا ہے، لیکن جب تریموں کا پانی آئے گا تو یہی سیلابی صورتحال ملتان میں برقرار رہے گی۔بہاؤ کے سندھ کی جانب بڑھنے کا ذکر کرتے ہوئے، عرفان کاٹھیا نے ہیڈ پنجند پر بڑھتے ہوئے پانی کی سطح کی نشاندہی کی، انہوں نے پیش گوئی کی کہ ہیڈ پنجند اگلے 24 گھنٹوں میں 6 لاکھ سے 6 لاکھ 50 ہزار کیوسک کی سطح پر پہنچ جائے گا، اور آخرکار یہ پانی کوٹ مٹھن پر دریائے سندھ میں شامل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تین دن کے بعد، یہ پانی راجن پور اور رحیم یار خان سے گزرتا ہوا گڈو میں سندھ میں داخل ہو گا، اور وہاں پانی کی سطح 7 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتی ہے۔پنجاب سے آنے والا سیلابی ریلا آئندہ چند گھنٹوں میں سندھ میں داخل ہوجائے گا، سندھ حکومت کی جانب سے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئیں، بڑے سیلابی ریلے سے پہلے سیلابی پانی سے درجنوں دیہات زیر آب آگئے۔محکمہ آبپاشی سندھ حکام کے مطابق گڈو بیراج پر اب پانی کی سطح تیزی سے بلند ہوتی رہے گی، گڈو بیراج کے کچے کے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں، 61 ہزار لوگوں اور ڈھائی لاکھ مویشیوں کو ریسکیو کرکے محفوط مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔چیٔرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ کی ہدایت پر روہڑی میں حفاظتی بند پر ایمرجنسی ایمبولینس ہسپتال قائم کر دیا گیا۔کوٹری بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے، کشمور میں بھی کیکے بند کو حساس قرار دینے کے بعد پتھر ڈال کر بند کو مضبوط کیا جارہا ہے، گھوٹکی میں کچے کے مزید علاقے زیر آب آگئے ہیں۔وزیر زراعت سندھ محمد بخش مہر کے مطابق شینک بند کی مضبوطی کا کام جاری ہے، ٹھٹھہ اور سجاول میں بھی پاکستان نیوی کی جانب سے شاہ بندر میں ریسکیو اور میڈیکل کیمپ قائم کردیے گئے ہیں۔سندھ کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے سندھ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی سامان اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہے۔مزید کہا گیا کہ ’ چار جدید ترک ساختہ نصب شدہ ڈی واٹرنگ پمپ لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر کو بھیجے گئے ہیں تاکہ بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران بروقت نکاسی آب ممکن بنائی جا سکے۔’پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل سید سلمان شاہ کے مطابق ہر ضلع میں صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے اور ضلعی انتظامیہ کے قریبی تعاون سے امدادی سامان کی تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔


