میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ویب ڈیسک
بدھ, ۸ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا
ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت مختلف، اسمارٹ اور کم شدت پسند ہے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بار پھر ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سخت الٹی میٹم دیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمد و رفت کے لیے نہ کھولا تو آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہوجائے گی جو دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔صدر ٹرمپ نے یہ بیان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا جو ان کے حالیہ الٹی میٹم کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے تقریباً 12 گھنٹے قبل سامنے آیا ہے جس سے ان کے سنگین عزائم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا۔ تاہم اب جب کہ مکمل اور کلی رجیم چینج ہو چکی ہے۔ زیادہ سمجھدار اور کم شدت پسند ذہن غالب آ سکتے ہیں، تو شاید کچھ انقلابی اور حیران کن مثبت تبدیلی بھی ممکن ہو۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم آج رات دیکھیں گے، یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک ہوگا۔ 47 سال کی بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کا خاتمہ ہوجائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف اشتعال انگیز بیان پر عالمی سطح پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ ا ہے جبکہ انکی دھمکی کو نسل کشی کا انتباہ قرار دے دیا گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی پوری تہذیب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ٹرمپ کے اس بیان کو تجزیہ کار اور بین الاقوامی امور کے ماہرین و سیاسی شخصیات نے کھلی نسل کشی کی دھمکی قرار دیا۔عرب میڈیا کے ایک صحافی جاوید حسن نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ نوبیل انعام کا امیدوار ٹرمپ شخص نسل کشی کا دیوانہ ہے، اسے فورا قابو کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی صحافی راجدیپ سردیسائی نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا بیان انتباہ کم اور پاگل پن زیادہ لگتا ہے۔ یہ دفاعی نہیں بلکہ پاگل پن ہے۔ نامور برطانوی صحافی پیرس مورگن نے بیان کو براہِ راست ایرانی عوام کی نسل کشی کا اعتراف قرار دیا اور کہا کہ یہ کھلا جنگی جرم ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیان کو پاگل پن بھی قرار دیا۔ کانگریس کی سابق رکن مارجوری ٹیلر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پر ایک بم بھی نہیں گرا اور ہم ایک تہذیب کو ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ سراسر شیطانی عمل اور پاگل پن ہے۔ٹرمپ کے اس بیان کو عالمی سطح پر خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دھمکی ناصرف ایران بلکہ دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔قبل اریں اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت مختلف، اسمارٹ اور کم شدت پسند ہے۔امریکی صدر نے کہاکہ خونریزی، بدعنوانی اور اموات کی 47 سالہ تاریخ بالآخر ختم ہونے جارہی ہے۔انہوںنے کہاکہ (آج)بدھ کو دنیا کی طویل اور مشکل ترین تاریخ کا اہم موڑ ثابت ہوگا۔ شاید کچھ انقلابی طور پر حیرت انگیز ہو سکتا ہے، کون جانتا ہے؟۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں