میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ

ویب ڈیسک
جمعرات, ۸ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان
تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکمہ لوکل گورنمنٹ اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری دے دی، جس کا مقصد شہر میں عالمی معیار کی ترقی کے لیے ایف ڈبلیو او کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا ہے۔یہ اجلاس وزیراعلی ہاس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی اور سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی نے شرکت کی۔ ایف ڈبلیو او کے وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عبدالسمیع کر رہے تھے۔اجلاس میں وزیراعلی سندھ نے کراچی کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی اقدامات پر گفتگو کی، جن میں میگا انفراسٹرکچر اور کنیکٹیویٹی کے منصوبے شامل ہیں۔ ابتدا میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے لیے ایک جامع ترقیاتی منصوبہ نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور شہر میں 523 ترقیاتی اسکیموں کے لیے 84 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ایک مرتبہ کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی سے متعلق اسکیموں کے لیے وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)کے تحت 26 ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔وزیراعلی نے کہا میں معیار، رفتار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایف ڈبلیو او کے ساتھ شراکت داری میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے۔انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ کراچی ڈویژن میں فوری عملدرآمد کے لیے 10 ارب 72 کروڑ روپے کے چھ ترجیحی انفراسٹرکچر منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کا مقصد دیرینہ ٹریفک مسائل کا حل، بہتر کنیکٹیویٹی اور شہری نقل و حرکت کو مضبوط بنانا ہے۔ ان ترجیحی منصوبوں میں ایم-9 سے ملیر-15 تک جناح ایونیو اور شاہراہِ فیصل کے ذریعے سڑک کی بحالی (1ارب 2 کروڑ 50 لاکھ روپے)، ملیر ہالٹ پر پرنٹنگ پریس سے شاہراہِ فیصل تک دائیں موڑ کے انڈر پاس کی تعمیر (1ارب 50 کروڑ روپے)، اور ایئرپورٹ روڈ سے اسٹار گیٹ، شاہراہِ فیصل تک فلائی اوور کی تعمیر (1ارب 20 کروڑ روپے)شامل ہیں، تاکہ ہوائی اڈے تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔دیگر منصوبوں میں ہاکس بے میں وائے جنکشن سے مچھلی چوک تک سڑک کی بحالی، بشمول مسرور بیس سے ٹرک اسٹینڈ تک خراب حصے (1ارب 99 کروڑ 50 لاکھ روپے)، اور سہراب گوٹھ پر 5 ارب روپے کی لاگت سے فلائی اوور کی تعمیر شامل ہے، جو بین الاضلاعی ٹریفک کے لیے کراچی کا مرکزی دروازہ ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں