سندھ بلڈنگ ، مافیا کے ساتھ ملی بھگت سے غیر قانونی تعمیرات بے لگام
شیئر کریں
فیڈرل بی ایریاسی 56 ، ڈی 157 پر تعمیراتی لاقانونیت ،بیٹر مافیا کی دہشت قائم
ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی پر مافیا کو تحفظ فراہمی ، قواعد میں نرمی برتنے کے گمبھیر الزامات
ضلع وسطی کے معروف رہائشی علاقے فیڈرل بی ایریا کے رہائشی بلاک نمبر 4میں غیر قانونی تعمیرات نے ایک بار پھر شہریوں اور قانون پسند شہریوں کو بے چین کر دیا ہے ۔ مقامی رہائشیوں اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہاں بغیر کسی منظور شدہ نقشے ، تعمیراتی اجازت نامے یا ضروری دستاویزات کے کئی منزلہ عمارات، دکانیں اور رہائشی یونٹس تیزی سے بنائے جا رہے ہیں۔ ان غیر قانونی سرگرمیوں کے پیچھے طاقتور "تعمیراتی بیٹر مافیا”کو قرار دیا جا رہا ہے جو انتظامیہ کے بعض افسران کے ساتھ ملی بھگت سے شہری قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دھڑلے سے کام کر رہا ہے ۔پلاٹ سی 56اور ڈی 157پر تعمیراتی لاقانونیت کا راج برقرار ہے ،علاقہ مکینوں نے بتایا کہ ان تعمیراتی سرگرمیوں کی وجہ سے نہ صرف علاقے کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے ، بلکہ پانی، گیس، بجلی کی لائنیں بھی غیر محفوظ ہو گئی ہیں، جبکہ پارکنگ اور سڑکوں کی گنجائش بھی شدید متاثر ہوئی ہے ۔ انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے خلاف بھی سخت احتجاج کا اظہار کیا، جو ان غیر قانونی تعمیرات کو روکنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے ۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، اس سلسلے میں خاص طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جعفر امام مافیائی عناصر کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی میں جان بوجھ کر تاخیر یا نرمی برت رہے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ بلاک 4میں جاری غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں متعلقہ حکام کو مؤثر طور پر کارروائی کرنے سے روک رہے ہیں۔شہری حقوقی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر اس معاملے کی جامع انکوائری کروائے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیت تمام مشکوک افسران کے خلاف کارروائی کرے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو فیڈرل بی ایریا جیسا منظم علاقہ بھی رہائشیوں کے لیے غیر محفوظ ہو جائے گا۔اتھارٹی کے ترجمان نے اس بارے میں ابتدائی رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہر قسم کے غیر قانونی تعمیراتی کام کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ضروری قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے ”۔ تاہم، ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کی جانب سے ابھی تک ان الزامات کا کوئی باقاعدہ جواب سامنے نہیں آیا ہے ۔صورت حال کے پیش نظر مقامی لوگ احتجاجی مہم تیار کر رہے ہیں اور وہ صوبائی وزیر بلدیات، اینٹی کرپشن اتھارٹی اور عدلیہ سے فوری مداخلت کی اپیل کر رہے ہیں۔


