میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ڈونلڈ ٹرمپ، ناکام امریکی صدر

ڈونلڈ ٹرمپ، ناکام امریکی صدر

منتظم
اتوار, ۷ جنوری ۲۰۱۸

شیئر کریں

حفیظ خٹک
ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا وہ صدر ہے کہ جسے مورخ اچھے لفظوں میں نہیں لکھے گا۔ صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد سے اب تلک ان کے اقدامات سے امریکی عوام ہی نہیںممالک کی عوام بھی غیر مطمئن و ناخوش ہے۔امریکا کا یہ صدر ماضی میںعالمی ریسلنگ (WWE)میں اک شاطر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس کردار کو وہیں پر چھوڑ کر دیگر ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھانے کے بجائے اس کے اب تک سار ے اقدامات طنز و مزاح اور ذومعنی ہی رہے ہیں۔ ریسلنگ کے کھیل میں کامیاب وہی پہلوا ن ہوتا ہے کہ جو طاقتور ہونے کے ساتھ شاطر بھی ہو ، دھوکہ دہی سے وہ اپنے مد مقابل کو ہرانے کی اہلیت رکھتا ہو، اس مکاریت میں اسے شکست اس وقت ہوتی ہے کہ جب اسی طرح کی صلاحیتوں والا کوئی اور پہلوان اسے کے سامنے آجاتا ہے۔بحرحال اس تفصیل میں جانے کے بجائے اس امریکی صدر کے لیے یہی کہنا بدرجہ درست ہوگا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سابق سپر پاور ملک روس کے نقش قدم پر گامزن ہے ۔ جس طرح روس اپنی حرکات کے سبب متعدد حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے اسی طرح مستقبل قریب میں امریکا کو اس کا یہ صدر اسی حال میں پہنچائے گا۔

روس یہ سمجھتا تھا کہ وہ افغانستان کو روندتا ہواپاکستان کو فتح کر سمندری حدود تک پہنچ جائیگا لیکن اس کی یہ سمجھ اس کی ہی تباہی کا سبب بن گئی۔ افغانستان میں روس کو شکست ہوئی اور وہ روس ویسا نہ رہا ، اس کے متعدد ٹکرے ہوگئے۔امریکا بھی روسی روش پر عمل پیرا ہے اس نے ماضی میں جہاں قدم رکھے اپنی فوج کو قبضوں کے لیے استعمال کیا ، اس ملک کی عوام نیست و نابود کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی اس کے باوجود بھی انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو پائی۔عراق کے حالات سے اس امریکی صدر کو کچھ حاصل کرنا چاہئے

اسے اس صحافی کا وہ جوتا بھی یاد ہوگا کہ جس سے امریکی صدر کو بھری مجلس میں نشانہ بنایا گیا۔ اپنا اسلحہ کم ترقی یافتہ ممالک کو بیچ کر ، انہیں امداد کے نام پر رقم دے کر امریکا اپنے من پسند قائدین کو اس ملک کا حکمران بناتا رہا ہے اور اس کے بعد اپنے مفادات حاصل کرتارہا ہے۔ امریکا نے اب تک کوئی جنگ اپنے ملک کے اندر نہیں لڑی ہے ،ڈھائی کڑور آبادی والا ملک شمالی کوریا جو براہ راست امریکا پر حملے کرنے کی بات کرتاہے اوراس کا صدر نئے سال کی آمد پر یہ پیغام تک دیتا ہے کہ وہ امریکا کو تباہ کرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتاہے ، ایسے حکمران اور ایسے ملک کے سامنے امریکا کی ساری بہادری ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی ساری منافقت عروج پر رہنے کے بعد بھی بھٹک جاتی ہے ، اس کے ہم خیال بھارت و دیگر ممالک بظاہر امریکا کا ساتھ دینے والے رویئے رکھتے ہیں لیکن اب دنیا کی عوام یہ جان چکی ہے ایسے ممالک کا یہ کردار کیونکر اور کن وجوہات کے باعث ہوتے ہیں۔

اس بات کا یقین ہے کہ جس افغانستان کو امریکا نے برسوں کی محنتوں کے باوجود فتح نہیں کیا اور اب امریکی فوجیوں میں خودکشیوں تک کا رجحان بڑھ رہا ہے ، نیٹو کی افواج ان کا مزید وہاں ساتھ دینے کے لیے راضی نہیں ہیں ، بھارت تک اپنی فوج کو امریکی ایما پر افغانستان نہیں بھیجنا چاہتا ،تو اس مخدوش صورتحال میں امریکا کا یہ ذہین صدر عافیت اسی میں سمجھتا ہے کہ اپنی تمام تر ناکامیوں کو پاکستان کے سر ڈال دے اپنے سر میں خم نہ لائے اور اپنے مفادات کو مستقل انداز میں حاصل رکھنے کے لیے اقدامات کرئے اور نئے مورچے کی جانب بڑھے لیکن حقیقت میں یہ سب ناممکن ہے۔امریکا معاشی طور پر چین کے سامنے جھک چکا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی اب وہ حالت نہیں رہی جو کھبی ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ اسرائیل کے دارلخلافے کے نام پر اقوام متحدہ میں 129ممالک نے امریکی اقدام کی مخالفت میں اپنی رائے کا اظہار کیا حتی کے سلامتی کونسل میں بھی 14اراکین اس کے خلاف رہے ۔اس صورتحال کے منفی اثرات امریکا کی حکومت پر مرتب ہورہے ، اس کے ساتھ امریکی صدر و پوری حکومت پاک چین کے سی پیک منصوبے کو بھی منفی نظروں سے دیکھ رہے ہیں انہیں اس بات کا علم ہے کہ اس منصوبے سے چین سمیت پاکستان کی معیشت کس قدر مضبوط ہوگی ، یہ امریکا نہیں چاہتا ہے ۔ سی پیک کے خلاف وہ بھارت کو اپنے ساتھ رکھ کر اس منصوبے کو ناکا م کرنا چاہتا ہے ان مقاصد کے لیے امریکا کی اندورنی و بیرونی حرکات و سازشیں جاری ہے لیکن تمام تر کاوشوں کے باجود اسے اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئیں ہیں اور ان شاء اللہ ہونگی بھی نہیں ۔

دہشت گردی کے عالمی جنگ میں اقوام عالم سمجھتی ، جانتی اور ماننے کے ساتھ یہ کہتیں ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کا کردار ناقابل بیاں ہے ، پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف اس عالمی جنگ میں شدید جانی و مالی نقصان پہنچا ہے ، اندرونی و بیرنی تمام تر سازشوں کے باجود پاکستان کی افواج و عوام نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیشہ کامیابی حاصل کی ہے اس حقیقت کے باوجود امریکی صدر کا یہ کہناکہ پاکستان نے اسے دھوکہ دیا بے وقوف بنایاہے ، 15برسوں میں اربوں ڈالرز لے بھی پاکستان نے کچھ نہیں کیا ۔ اب امریکا پاکستان کے ان اقدامات سے باخبر ہوگیا ہے ، یہ اور اسی طرح کی دیگر قابل مذمت باتوں بھرے ٹویٹ کے ذریعے امریکی صدر نے یہ سمجھا کہ وہ درست قدم اٹھا رہے ہیں بعدازاں وائٹ ہائوس کی ترجمان نے اسی طرح کی دیگر باتوں کا اضافہ کرکے پاکستان کی حکومت و عوام کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔ چین جو کہ پاکستان کا بہترین ہمسایہ و دوست ملک ہے اس نے امریکی صدر کی اس ٹویٹ پر فورا اپنا بیان دیا اور امریکا کے اس اقدام کی محالفت کی۔ چین کے اس اقدام نے پاکستانی عوام وحکومت میں اس کے تاثر کو مزید مثبت لیا ۔

ملک کے اندر کی سیاسی صورتحال جس طرح بھی تاہم جب ملکی ساکھ کا معاملہ آتا ہے تو سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ وطن عزیز کے محالفین یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان کو سامنے سے شکست نہیں دی جاسکتی اسے اندورنی طور پر سازشوں کے ذریعے ہی نقصان پہنچایا جاسکتاہے ، دشمنان وطن ہمیشہ یہ کاوشیں کرتے رہے ہیں ، وقت گذرنے کے ساتھ افواج پاکستان کے ساتھ عوام نے اب ملک دشمنوں کو ختم کردیا ہے اور اس خاتمے کا سفر ابھی جاری ہے۔ پاکستان باصلاحیت عوام سے بھراہے وہ صلاحیت کسی بھی شعبے میں ہو وقت اسے دنیا کے سامنے لے آتاہے۔ بھارت کسی بھی طرح سے اکھنڈ بھارت کا سپنا پورا نہیں کرسکتا ہے ، کھیل کے میدان تک میں وہ پاکستان کا سامن نہیں کرسکتا فوج کا اور پوری عوام کا سامنا وہ کیا کرے گا۔

وہ تو وہ اب امریکا بھی پاکستانیوں کا سامنا نہیں کرسکتا ہے اسے روس کے ماضی سے ہی کچھ سبق لینا چاہئے ۔ امریکی صدر اگر امداد کی بات کرتاہے تو اسے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ پاکستان کی سرزمین کو اس افغانستان کی جنگ میں کس طرح سے استعمال کی ہے۔ پاکستان کو کس قدر نقصان پہنچا ہے اس نقصان کو امریکا نے دیگر نیٹوافواج نے پورا کرنے کی کیا کاوشیں کیں ہیں۔ پاکستان کی پوری عوام متحد ہے اور یہ اتحاد امریکا ، بھارت و اسرائیل توکیا ہر دشمن کے خلاف رہے گا۔ پاکستان کی پوری عوام فوج کے ساتھ ہے اور ساتھ رہے گا ۔ آزمائش و پریشانی کا یہ وقت بھی گذر جائیگا اور ان شاء اللہ کشمیر بھی پاکستان حصہ بنے گا یہ ملک بہترین مستقبل کی جانب منظم منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے پہنچے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں