پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری
شیئر کریں
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے اور امریکی عوام کو بہتر روزگار کی فراہمی کیلئے امریکی صنعتوں کیلئے بیرون ملک سے درآمد کردہ اشیا کے مقابلے کو کم کرنے کیلئے مختلف ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا جو کھیل شروع کیا ہے اس کی وجہ سے آج پوری دنیا اقتصادی اعتبار سے انتہائی اتھل پتھل کا شکار نظر آرہی ہے اور بھارت سمیت تیسری دنیا کی بظاہر مضبوط معیشتوں کو اپنی کرنسی کی قدر برقرار رکھنا مشکل ثابت ہورہاہے اور ان کی عالمی کریڈٹ ریٹنگ میں تیزی سے تنزلی کا سلسلہ جاری ہے، ایسی صورت حال میں خوش آئند بات یہ ہے کہ 6 سال کے طویل عرصے بعد امریکی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز (S&P) گلوبل نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ CCC+ سے B- مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ اپ گریڈ کردی ہے۔ S&P کے مطابق درجہ بندی میں بہتری پاکستان کی بہتر اقتصادی صورتحال اور بیرونی ادائیگیوں کے رسک میں کمی کے باعث کی گئی ہے۔دنیا میں اس وقت3 بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں موڈیز (Moody‘s)، فچ (Fitch) اور اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز (S&P) قابل ذکر ہیں جو قرضہ اور سرمایہ کاری کیلئے ممالک کی کریڈٹ ریٹنگ جاری کرتی ہیں جس کا مقصد کسی بھی ملک کی معیشت کو لاحق خطرات کا جائزہ لے کر اس کی رینکنگ متعین کرنا ہوتا ہے جس پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس ملک کو قرضہ دینے اور اسکے بانڈز میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کریڈٹ ریٹنگ منفی ہونے کی صورت میں ملک کو قرضے مشکل اور مہنگے ملتے ہیں اور انہیں دوست ممالک سے سافٹ ڈپازٹ اور مالی امداد پر انحصار کرنا پڑتاہے جبکہ معاشی طور پر مضبوط AAA ریٹنگ والے ممالک اپنے مالی وعدے پورے کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہوتے ہیں جسکے بعد BBB اور پھر CCC رینکنگ ممالک آتے ہیں جنکی معاشی صورتحال کمزور ہوتی ہے اور آخر میں D رینکنگ والے ممالک آتے ہیں جو اپنے قرضوں کی ادائیگیوں میں دیوالیہ ہوچکے ہوتے ہیں جس کی مثال سری لنکا ہے۔ ملکی معیشت جو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی، دوبارہ بحالی کی طرف گامزن ہے۔
اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز (S&P) کی جانب سے پاکستان کے طویل اور قلیل مدت قرض حاصل کرنے کی ریٹنگ میں بہتری کا فیصلہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے پیش نظر کیاگیا ہے جو وزارت خزانہ کے اعدادوشمار کے مطابق 19 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ S&P نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان آئندہ 12 مہینے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر 20ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم رکھے گا تاہم S&P نے توقع کی اس توقع پر پورا اترنے کیلئے ہمیں چین، سعودی عرب، یو اے ای اور کویت کے سیف ڈپازٹس اور کمرشل قرضوں کو رول اوور کرانا ہوگا۔(S&P) کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے بعد اب پاکستان کیپٹل مارکیٹ میں کم شرح سود پر نئے یورو اور سکوک بانڈز جاری کرسکے گا تاکہ پرانے بانڈز کی ادائیگی کیلئے نئے بانڈز کا اجرا کیا جاسکے جس کیلئے بہتر کریڈٹ ریٹنگ ضروری تھی۔ اطلاعات کے مطابق ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی طویل مدت 2031ئاور 2036ء سکوک اور ڈالر بانڈز کی قیمتوں میں بہتری آئی ہے اور 2036 ئکا ڈالر بانڈ جو کم ہو کر 40 سینٹ تک آگیا تھا، بڑھ کر 90 سینٹ پر آگیا ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے اسٹاک ایکسچینج میں بھی بہتری آئی ہے اور انڈیکس ایک لاکھ 41 ہزار کی حد عبور کرگیا ہے ،اس سے قبل موڈیز (Moody‘s) نے بھی پاکستان کے معاشی حالات میں بہتری کے باعث کریڈٹ ریٹنگ CAA3 سے CAA2 کی تھی اور پاکستان کا آؤٹ لک مثبت سے مستحکم کیا تھا۔اس فیصلے کا سبب یہ بتایاجاتاہے کہ2024-25میں 14سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 2.1ارب ڈالر پلس ہوکر 22سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، آئی ٹی کی برآمدات 3.8ارب ڈالر، ٹیکسٹائل برآمدات 17.9ارب ڈالر، غیر ملکی سرمایہ کاری 2.5 ارب ڈالر، جی ڈی پی گروتھ 3سے 4 فیصد، افراط زر میں کمی، ترسیلات زر 27فیصد اضافے سے 38.3ارب ڈالر اور زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب ڈالر ہونے کے باعث روپیہ مستحکم ہوا ہے۔
اس خوش آئند خبر کے ساتھ گزشتہ ہفتے کی تین خبریں ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے شدید تشویش کا باعث سمجھی جاتی ہیں،اول یہ کہ اسٹیٹ بینک (SBP) نے اوپن مارکیٹ سے 8 ارب ڈالر خریدنے کا فیصلہ کیاہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا جا سکے۔ دوسری خبر یہ ہے کہ کمرشل بینکوں سے لیے گئے1.275 کھرب روپے کے قرض کو توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنے میں تاخیر کی جارہی ہے ،اس تاخیر کی وجہ سے ایک طرف کمرشیل بینکوں سے لئے گئے قرض پر سود یامنافع کی شرح میں اضافہ ہورہاہے اور دوسری طرح گردشی قرضے کی ادائیگی نہ کئے جانے سے ان قرضوں پر واجب الادا سود بھی بڑھتاجارہاہے گزشتہ مہینے کے اختتام پر عار ف حبیب لمیٹڈ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے 7.2 ارب ڈالر حاصل کیے ،جن میں سے 885 ملین ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیے گئے، جبکہ باقی رقم قرضوں کی ادائیگی یا واجب الادا اصل زر کی واپسی کے لیے استعمال کی گئی۔روپے کی بیرونی شرح تبادلہ 3 بڑے مقاصد کے تحت متعین کی جاتی ہے:آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق مسلسل 5 دن تک پلس/مائنس 1.25 سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ شرط اس وقت عائد کی گئی جب اکتوبر 2022 سے جون 2023 تک انٹربینک ریٹ کو مصنوعی طور پر کنٹرول کرنے کی ناقص پالیسی کے باعث کئی شرحِ تبادلہ وجود میں آئیں اور سرکاری ذرائع سے ترسیلات زر میں 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔روپے کی قدر میں کمی سے قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں اضافہ ہوتا ہے، جو کہ 2025-26 کے بجٹ میں کل جاری اخراجات کا 50 فیصد اور کل اخراجات کا 46 فیصد بنتا ہے۔ اس سے بجٹ خسارے میں اضافہ اور مہنگائی میں شدت آتی ہے۔ اگرچہ ڈالر کی عالمی قدر اس سال مختلف جغرافیائی سیاسی بحرانوں اور کئی ممالک بشمول پاکستان پر 19 فیصد کی سزا کے طور پر لگائے گئے ٹیرف کے باعث گری ہے، پاکستانی روپیہ غیر متوقع طور پر مستحکم رہا ہے۔ لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ روپے کی قدر میں یہ استحکام درآمدی پابندیوں اور اسٹیٹ بینک کی اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کی مداخلت کے ذریعے حاصل کیا گیا، لیکن اسٹیٹ بینک کی جانب سے کھلی مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری کے باوجود 18 جولائی 2025 کو زرمبادلہ کے ذخائر 14.456 ارب ڈالر رہے، جب کہ دوست ممالک سے ایک سالہ رول اوور قرضے 16 ارب ڈالر تھے یعنی اگر دوست ممالک قرضے رول اوور نہ کرتے تو ہمارے زرمبادلے کے ذخائر منفی ہوجاتے کیونکہ رول اوور کئے گئے قرضے زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر سے 1.5 ارب زیادہ ہیں۔ 2024-25 میں اسٹیٹ بینک نے تقریباً 8 ارب ڈالر اوپن مارکیٹ سے خریدے۔ چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ملک بوستان کے مطابق، اس اقدام سے قانونی ذرائع میں ڈالر کی سپلائی کم ہوئی کیونکہ بلیک مارکیٹ میں بہتر نرخ دستیاب تھے۔یہ مسئلہ اس وقت حل ہوا جب ملک بوستان نے ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کی، جس کے بعد افغانستان اور ایران کے راستوں پر کرنسی اسمگلرز کے خلاف مؤثر کارروائی کی گئی۔
بلومبرگ کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک روپے پر دباؤ کم کرنے کیلئے ڈالرکے ذخائر بڑھانے کا موجودہ عمل آہستہ رفتار سے جاری رکھے گا ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے ابتدا میں آہستہ روی کیوں اختیار نہیں کی، اور کیوں معاملات اس حد تک جانے دیے کہ اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کرنا پڑی؟ تاہم اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری کے نتیجے میں اس ہفتے روپے کی قدر میں استحکام دیکھا گیا۔لیکن اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی مداخلت سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری تو آئی، مگر اتنی نہیں کہ درآمدی پابندیاں ہٹائی جا سکیں یا سی پیک کے تحت قائم کی گئی چینی پاور پروڈیوسرز کو تقریباً 500 ارب روپے (1.72 ارب ڈالر کی ادائیگی کی جا سکے۔ بظاہر حکمتِ عملی یہ تھی کہ 2.381 کھرب روپے کے گردشی قرضوں کو تقریباً آدھا کرنے کے لیے 1.275 کھرب روپے 18 کمرشل بینکوں سے لیے جائیں ، آئی ایم ایف سے اس کی منظوری بھی مل گئی تھی کیونکہ رعایتی شرح سود کا اطلاق ہو چکا تھا۔ یہ قرض 6 سال میں ڈیٹ سروس سرچارج (DSS) کے ذریعے واپس کیا جانا تھا، جو بجلی کے بلوں میں 3.23 روپے فی یونٹ کے حساب سے شامل ہے۔ آئی ایم ایف کی مئی 2025 کی رپورٹ میں درج ہے کہ DSS کا تعین نیپرا کی طے شدہ آمدنی کا 10 فیصد ہوگا اور ہر سال ری بیسنگ کے وقت اسے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اگر DSS کی آمدنی سالانہ ادائیگی کے لیے ناکافی ہو تو اس میں اضافہ کیا جائے گا۔ یعنی اس پر کوئی حد مقرر نہیں، اور عوام صرف اس امید پر ہی رہ سکتے ہیں کہ حکومت کے اندازے درست ہوں۔گردشی قرضے کے باقی حصے کی ادائیگی کم شرح سود اور نئے پاور پرچیز معاہدوں (PPAs) سے ہونی تھی۔ حکومت نے پانچ IPPs بند کروائے (0.77 روپے فی یونٹ کمی)،8 بیگاس پاور پلانٹس کی شرح کم کروائی (0.14 روپے فی یونٹ کمی)، اور 14 IPPs کو ٹیک اینڈ پے ماڈل پر منتقل کیا (0.43 روپے فی یونٹ کمی)۔ لیکن چینی IPPs نے معاہدے میں ترمیم سے انکار کر دیا، جس سے یہ حکمت عملی رکی ہوئی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تمام رکاوٹیں قرض حاصل کرنے سے پہلے کیوں نہیں حل کی گئیں؟ اسٹیٹ بینک اورپاور ڈویژن کو فیصلے کرنے سے قبل زمینی حقائق کا درست ادراک اور اس کے فائدے اور نقصانات کا مکمل تجزیہ اور بچاؤ کی تدابیر تیار کرنا چاہئیں، تاکہ ملک مزید کسی ناقص پالیسی کا شکار نہ ہو۔


