میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حکومت کاگندم بحران کی جامع تحقیقات سے گریز

حکومت کاگندم بحران کی جامع تحقیقات سے گریز

ویب ڈیسک
پیر, ۶ مئی ۲۰۲۴

شیئر کریں

وزیر اعظم شہباز شریف نے ’ہر قیمت پر کسانوں کے مفادات کا تحفظ‘کرنے کا عہد کیا ہے ، جبکہ وفاقی حکومت میگا اسکینڈل کی جامع تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے درآمدات میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل ہے ، اس بات کا امکان ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ آئندہ ہفتے کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ سابق وزیراعظم اور (ن) لیگ کے قائد نواز شریف چاہتے ہیں کہ شہباز شریف کی زیر قیادت حکومت اس میگا اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کسی بھی سیاسی اثر کی پرواہ کیے بغیر ’بلاامتیاز‘ کارروائی کریں۔مسلم لیگ (ن) کے ماڈل ٹاؤن دفتر میں ہونے والے اجلاس کے دوران تجویز دی گئی تھی کہ قومی احتساب بیورو (نیب) یا وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کو مبینہ اسکینڈل کی تحقیقات میں شامل کیا جائے ، تاہم شہباز حکومت نے گزشتہ روز بتایا کہ ایسا کوئی فیصلہ زیر غور نہیں۔وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ (نیب یا ایف آئی اے سے گندم اسکینڈل کی تحقیقات کرائی جائیں)، ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس اسکینڈل کا تعلق سابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی حکومت سے ہے ، لہٰذا شہباز شریف انتظامیہ ’بہت احتیاط سے چل رہی ہے ‘۔ان سے پوچھا گیا کہ حکومت نیب کو شامل کرنے سے کیوں گریزاں ہے کیوں کہ نئے قوانین کے مطابق مبینہ اسکینڈل 50کروڑ روپے سے زائد ہے تو سابق نگران وزیراعظم کو کیوں طلب نہیں کیا جارہا، اس سوال کا وزیر اطلاعات نے کوئی جواب نہیں دیا۔اس پس منظر میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ شہباز شریف حکومت نے 8 فروری کے انتخابات کے بعد 98 ارب روپے کی گندم درآمد کی، لیکن سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ شہباز کابینہ نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا، تاہم حکومتی انکوائری کمیٹی مبینہ طور پر اس درآمد کی بھی تحقیقات کر رہی ہے ۔گزشتہ روز دن کے اوائل میں میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ انوار الحق کاکڑ اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے طلب کیا تھا، جس کے بعد کمیٹی کے سربراہ نے وضاحتی بیان جاری کیا، کامران علی افضل نے کہا کہ کمیٹی نے انوار الحق کاکڑ اور محسن نقوی کو طلب نہیں کیا، تاہم سابق نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کو مبینہ طور پر کمیٹی نے طلب کیا ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں