میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی

ویب ڈیسک
پیر, ۶ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان کو پختونوں نے اپنی مرضی سے قبول کیا،غلط پالیسیوں سے پٹرول،ڈیزل مہنگا ہوا
عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ پختونخوا کاامن جرگہ سے خطاب

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے باجوڑ میں منعقدہ امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون "ڈالر کی جنگ”کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہوں نے جرگہ میں شریک عمائدین اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سپاس نامے میں پیش کیے گئے تمام مطالبات منظور کرنے کا اعلان کیا، جن میں ایم پی اے نثار باز کی جانب سے پیش کردہ مطالبات بھی شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پختونوں پر ہونے والے مختلف فوجی آپریشنز کو قریب سے دیکھا ہے اور ہزاروں جنازے اٹھائے گئے، تاہم ان کے باوجود بھی مکمل امن قائم نہ ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ باجوڑ کے 31ہزار سے زائد خاندان بے گھر ہوئے اور عوام نے شدید مشکلات برداشت کیں۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جب وہ وزیر اعلی بنے تو اسلام آباد سے آکر پشاور میں ان کے خلاف پریس کانفرنسیں کی گئیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو پختونوں نے اپنی مرضی سے قبول کیا ہے اور کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں امن کے قیام کو صوبے اور ضلع کی ترقی کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک پر مشکل وقت آیا تو پختون ہمیشہ ساتھ دیں گے لیکن "ڈالر کی جنگ”کا حصہ نہیں بنیں گے، وسائل پختونخوا اور یہاں کے بچوں کا حق ہیں اور ان پر کسی اور کا اختیار نہیں ہونا چاہیے، جبکہ بند کمروں میں فیصلے کرنے کی روایت کو بھی مسترد کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ فوجی جوانوں، سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادتیں ایک بڑا المیہ ہیں اور سوال اٹھتا ہے کہ عوام کا قصور کیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جولائی سے اپریل تک قبائلی اضلاع کیلئے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا، جبکہ دوسری جانب فوجی آپریشنز کے ذریعے لوگوں کو بے گھر کیا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوئے اور عوام کے پیسے بیرون ملک جائیدادیں خریدنے پر خرچ کیے گئے۔انہوں نے اعلان کیا کہ باجوڑ کے مسائل کے حل کیلئے جہاں پالیسی سازی ہوتی ہے وہاں احتجاج کیا جائے گا۔اس موقع پر انہوں نے باجوڑ کیلئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اعلان بھی کیا جن میں یونیورسٹی کیمپس کا قیام، باجوڑ کو دیر اور سوات موٹروے سے منسلک کرنا شامل ہے۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع پر ایک ہزار ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جن میں 200 ارب صحت اور 200 ارب تعلیم کیلئے مختص ہوں گے جبکہ باقی رقم دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ 2007 سے بند باجوڑ نرسنگ کالج کو دوبارہ فعال کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ امن کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے اور یہ سب کی ذمہ داری ہے، جبکہ ترقی اور خوشحالی کی ذمہ داری وہ خود قبول کرتے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ امن کے قیام کیلئے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں