میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، وسطی کی تنگ گلیوں میں بلند عمارتیں، مکین پریشان

سندھ بلڈنگ، وسطی کی تنگ گلیوں میں بلند عمارتیں، مکین پریشان

ویب ڈیسک
جمعه, ۶ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

سی ایریا کے پلاٹ نمبر 4/6 اور 21/2 پر بلند تعمیرات قوانین کی خلاف ورزی
ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی کی ایماء پر بلڈنگ انسپکٹر لطافت مرزا کی محکمانہ لاپروائی

شہر قائد کے قدیم رہائشی علاقے لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں غیر قانونی طور پر بلند ہونے والی عمارتوں نے مکینوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے ۔ خاص طور پر سی ایریا میں واقع پلاٹ نمبر 4/9اور 2/21پر تعمیر کی جانے والی بلند و بالا عمارتیں ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ان پلاٹوں پر تین سے چار منزلہ تعمیرات کی گئی ہیں جبکہ رہائشی علاقوں میں دو منزلہ کی اجازت ہے ۔محکمہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی پر شدید سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔ جرأت سروے ٹیم کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ان پلاٹوں پر تعمیرات دورانِ تعمیر ہی انسپکٹر کے نوٹس میں آگئی تھیں مگر اتھارٹی نے قانونی کارروائی نہ کی۔مقامی رہائشی عابد حسین کا کہنا ہے کہ "ہم نے متعدد بار ایس بی سی اے کو شکایات دیں مگر ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی کی ایماء پر بلڈنگ انسپکٹر لطافت مرزا نے توجہ نہ دی، نتیجہ یہ ہے کہ آج یہ عمارتیں ہماری زندگیوں میں زہر گھول رہی ہیں۔”واضح رہے کہ صوبائی محتسب کی 2024 کی سالانہ رپورٹ میں بھی ایس بی سی اے کو ان محکموں میں شامل کیا گیا تھا جن کے خلاف عوامی شکایات کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایس بی سی اے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات روکنے میں ناکام رہا ہے اور اس نظام میں سیاسی مداخلت کے باعث افسران احتساب سے بچ رہے ہیں ۔صوبائی اسمبلی نے اکتوبر 2024میں ایس بی سی اے کی کارکردگی سے متعلق آڈٹ رپورٹ قائمہ کمیٹی کو بھیجی تھی جس میں غیر قانونی تعمیرات اور خطرناک عمارتوں کے معاملے میں محکمے کی ناکامی کا جائزہ لیا جانا تھا ۔ان عمارتوں کے باعث نہ صرف سورج کی روشنی گھروں تک نہیں پہنچ رہی بلکہ ہوا کی روانی بھی رک گئی ہے ۔ پلاٹ نمبر 2/21کے سامنے رہائشی محمد عمران کا کہنا ہے کہ "اگر کسی گھر میں آگ لگ جائے یا کوئی مریض ہو تو فائر بریگیڈ یا ایمبولینس تک نہیں پہنچ سکتی، اور اس ذمہ داری سے کوئی بلڈنگ انسپکٹر جوابدہ نہیں ہے ۔”سول سوسائٹی کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ وسطی میں غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دینے والے بلڈنگ افسران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی جائے اور غیر قانونی عمارتوں پر انہدامی کارروائی کی جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں