میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ریلیزکلچر، فائر بریگیڈ میں ڈیوٹی سے آزاد عملہ کارروائی سے بچ نکلا

ریلیزکلچر، فائر بریگیڈ میں ڈیوٹی سے آزاد عملہ کارروائی سے بچ نکلا

جرات ڈیسک
هفته, ۵ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

سانحہ گل پلازہ کے بعد بعض افسران کو سزائیں،ریلیز ملازمین پر خاص آشیرباد برقرار
چمک کے نتیجے میں فائر فائٹنگ ڈیوٹی سے آزادی،غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(رپورٹ:محمد قادر عباسی)بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ فائر بریگیڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا سلسلہ تاحال جاری، مبینہ رشوت کے عوض عملہ ریلیز پر ڈیوٹی سے آزاد افسران آنکھیں موند کر نوٹوں کے مزے لینے لگے۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کی مبینہ سرپرستی میں دُہرا معیار عملے کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق سانحہ گل پلازہ 17جنوری 2026کے حوالے سے محکمہ فائر بریگیڈ کے بعض افسران و اہلکاروں کی کارکردگی اور ذمہ داریوں کا معاملہ تاحال سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے محکمہ فائر بریگیڈ کے گریڈ 17کے فائر اسٹیشن آفیسر ظہیر صدیقی کو مبینہ طور پر جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دی گئی جبکہ گریڈ 17کے فائر آفیسر توفیق اورگریڈ 12 کے سب فائر آفیسر زاہد کو بھی سانحہ گل پلازہ میں مبینہ ناقص کارکردگی اور بدعنوانی کے الزامات کی بنیاد پر سزائیں دی گئیں تاہم ذرائع کے مطابق محکمہ فائر بریگیڈ میں ایسا عملہ بھی موجود ہیں جو مبینہ چمک کے عوض طویل عرصے سے ‘‘ریلیز’’پر ڈیوٹی سے آزاد ہیں مگر ان کے خلاف کسی قسم کی مؤثر محکمانہ پوچھ گچھ یا کارروائی نہیں کی جارہی ۔

ذرائع کے مطابق مبینہ ریلیز پر رہنے والے افسران و عملے میں سید شاہد علی لینڈنگ فائر مین (ایمپلائی نمبر 357920)، دانش فاروق فائر مین (FB-0154)، راحیل ابرار فائر مین (0176-FB)، محمد علی فائر مین (0215-FB)، سید نعیم احمد فائر مین (0222-FB)، سلیم اللہ فائر مین (0298-FB)، یاسر عمر فائر ڈرائیور (0269-FB)، طاہر حسن فائر مین (358930)، شجاعت علی رضوی فائر مین (0109-FB)، آصف علی خان فائر مین (0144-FB)، محمود فائر مین (0090-FB)، محمد دانش فائر مین (0178-FB)، شوکت علی فائر مین (0194-FB)، جاوید اسلم فائر مین (0142-FB) اور اشرف فائر مین (FB-0325) شامل ہیں مذکورہ عملے میں بعض 2009سے محکمہ فائر بریگیڈ سے وابستہ ہیں اور طویل عرصے سے مبینہ طور پر عملی فائر فائٹنگ ڈیوٹی سے دور ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر 17جنوری کے سانحہ گل پلازہ کے فائر بریگیڈ ریکارڈ،ڈیوٹی روسٹر،حاضری رجسٹر،فائر کال لاگ اور جائے وقوعہ پر پہنچنے والے عملے کا ریکارڈ چیک کیا جائے تو مذکورہ اہلکاروں میں سے کئی کے نام موقع پر موجود عملے میں دکھائی نہیں دیں گے۔

محکمہ فائر بریگیڈ میں مبینہ ریلیز پالیسی،ڈیوٹی سے غیرحاضری اور اس کے عوض مبینہ مالی لین دین کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا ہے ۔سوال یہ ہے کہ اگر سانحہ گل پلازہ میں ناقص کارکردگی پر افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جاسکتی ہے تو طویل عرصے سے مبینہ طور پر فائر فائٹنگ ڈیوٹی سے دور رہنے والے اور سانحہ گل پلازہ کے موقع پر مبینہ طور پر فائر پر موجود نہ ہونے والے عملے کے خلاف کارروائی سے گریز کیوں کیا جارہا ہے ؟

ذرائع کے مطابق ایسے مزید نام اور بھی موجود ہیں جو محکمہ فائر بریگیڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل انکوائری کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں ۔محکمہ فائر بریگیڈ کے افسران اور عملے میں اس حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے محکمہ فائر بریگیڈ سے وابستہ ملازمین نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے محکمے میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مذکورہ خبر کے حوالے سے جب چیف فائر آفیسر ہمایوں خان سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مصروفیت کا بہانہ بنا کر اس حساس مسئلے پر کسی وضاحت یا موقف دینے سے گریز کیا البتہ وہ دفتر آنے کی ترغیب دیتے رہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں