سندھ بلڈنگ، شاہ فیصل ٹاؤن میں بلڈنگ قوانین پامال، ناجائز کمرشل تعمیرات
شیئر کریں
پلاٹ A157پر دکانوں اور کمرشل یونٹس کے بعد تیسری منزل کی تعمیر، ڈی جی خاموش
راول نامی تعمیراتی ٹھیکیدار کو چھوٹ حاصل،متعلقہ افسران کی چشم پوشی پر عوام کو تشویش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع کورنگی کے شاہ فیصل ٹاؤن میں رہائشی پلاٹوں پر مبینہ کمرشل تعمیرات کے حوالے سے شہریوں کی شکایات کا سلسلہ جاری ہے ۔ علاقہ مکینوں کے مطابق نمبر 3 کے پلاٹ نمبر A157 پر رہائشی استعمال کے بجائے دکانوں اور دیگر کمرشل یونٹس کی تعمیرات کی گئی ہیں، جبکہ اب مبینہ طور پر تیسری منزل کی تعمیر کی چھوٹ راول نامی تعمیراتی ٹھیکیدار کو حاصل ہے۔ جس کے باعث بلڈنگ قوانین اور منظور شدہ نقشوں پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر مذکورہ تعمیرات منظور شدہ بلڈنگ پلان، زمین کے استعمال اور متعلقہ قوانین کے برخلاف ہیں تو تعمیراتی سرگرمی فوری طور پر روکی جانی چاہیے۔ شہریوں کے مطابق رہائشی آبادی میں غیرمجاز کمرشل سرگرمیوں کے باعث ٹریفک، پارکنگ، نکاسی آب اور دیگر بنیادی شہری سہولیات پر اضافی دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔
شہری حلقوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ A157 کی تعمیرات کا ریکارڈ، منظور شدہ نقشہ اور زمین کے استعمال کی قانونی حیثیت سامنے لائی جائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ مذکورہ تعمیرات کس نوعیت کی منظوری کے تحت جاری ہیں۔علاقہ مکینوں نے ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تعمیرات خلافِ ضابطہ ثابت ہوں تو انہیں فوری طور پر رکوانے کے ساتھ قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مکینوں نے مزید مطالبہ کیا کہ رہائشی علاقوں میں کمرشل تعمیرات سے متعلق شکایات کا جامع جائزہ لیا جائے اور ایسے تمام مقامات پر کارروائی کی جائے جہاں منظور شدہ نقشے یا زمین کے استعمال کے قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہو، تاکہ شہری علاقوں کی منصوبہ بندی اور رہائشی ماحول کو مزید متاثر ہونے سے بچایا جاسکے ۔متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔


