میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، ماڈل کالونی میں عمارتی مافیا بے لگام ، تعمیراتی لاقانونیت کا راج

سندھ بلڈنگ، ماڈل کالونی میں عمارتی مافیا بے لگام ، تعمیراتی لاقانونیت کا راج

ویب ڈیسک
پیر, ۱ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

ڈائریکٹر سمیع جلبانی پر بلیدی کے خلاف کارروائی روکنے اور پردہ پوشی کی کوشش کا شبہ
شیٹ نمبر 5کے پلاٹ نمبر 215 پر دکانیں اور کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر شروع

ضلع کورنگی شاہ فیصل ٹاؤن کے علاقے ماڈل کالونی میں تعمیراتی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں جاری ہیں، جہاں عمارتی مافیا نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت سے علاقے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے ۔شیٹ نمبر 5کے پلاٹ نمبر 215پر دکانوں اور کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر میں تعمیراتی لاقانونیت کا راج برقرار ہے ،ذرائع کے مطابق، غیرقانونی تعمیرات میں ایس بی سی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی مبینہ ملی بھگت مرکزی حیثیت رکھتی ہے ۔رہائشیوں اور ایس بی سی اے کے دیانتدار افسران کی طرف سے کی گئی شکایات کے بعد ہونے والی اندرونی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی نے ماڈل کالونی میں متعدد عمارتوں کو بغیر منظوری کے منصوبوں کی نہ صرف تعمیر کی اجازت دی،بلکہ ان کے خلاف کارروائی روک کر انہیں تحفظ فراہم کیا۔یہ عمارتیں نہ صرف بلندیت اور فرش ایریا تناسب کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں بلکہ ان میں پارکنگ اور فرار راستوں جیسی بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں،جس سے رہائشیوں کی جان کو مسلسل خطرہ لاحق ہے ۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ جب اس اسکینڈل کی بھنک ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی کو لگی تو انہوں نے ذوالفقار بلیدی کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرنے کے بجائے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی نے نہ صرف بلیدی کے خلاف تادیبی کارروائی کو موخر کیا بلکہ اس معاملے کو اندرونی طور پر ہی نمٹانے کی ہدایت کی،تاکہ ادارے کے نام کو بچایا جا سکے ۔ ان کے اس طرز عمل پر ایس بی سی اے کے اندر ہی شدید تنقید ہو رہی ہے اور اسے تعمیراتی مافیا کے خلاف کارروائی میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارہا ایس بی سی اے میں درخواستیں دیں لیکن ان کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ان کا الزام ہے کہ بلیدی اور دیگر اہلکار مالی مفاد کے عوض ان غیرقانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ رہائشی خواتین اور بچوں کی حفاظت کو لے کر بھی پریشان ہیں، کیونکہ مسلسل اور بے قاعدہ تعمیرات کی وجہ سے علاقے کی گلیاں تنگ ہوتی جا رہی ہیں اور ہنگامی صورت حال میں گاڑیوں کا داخلہ مشکل ہو گیا ہے ۔شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں ملوث تمام افسران،بشمول اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کے خلاف فوری طور پر تادیبی کارروائی کی جائے ۔ساتھ ہی، ڈائریکٹر سمیع جلبانی کے رویے کی بھی شفاف انداز میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔ماڈل کالونی میں کھڑی کی گئی تمام غیرقانونی عمارتوں کو فوری طور پر نشان زد کر کے انہیں گرایا جائے ،تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔یہ صورت حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کراچی میں عمارتی قوانین کا نفاذ کیسے بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ رہا ہے اور عوام کی شکایات کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں