میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آمدن سے زائد اثاثے ،حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں 10روز کی توسیع

آمدن سے زائد اثاثے ،حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں 10روز کی توسیع

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۴ جولائی ۲۰۱۹

شیئر کریں

آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 10روز کی توسیع کر دی گئی،احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کو3 اگست دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔بدھ کو احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان نے کیس کی سماعت کی۔ نیب حکام نے حمزہ شہباز کو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر احتساب عدالت کے رو برو پیش کیا۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے ملزم حمزہ شہباز کی فنانشل اسٹیٹمنٹس پیش کی گئی،جس میں بتایا گیا کہ ملزم کے اکائونٹس اور آمدن کا 30 جون2006سے 2007 تک کا موازنہ کیا ہے ،ملزم نے 16 ملین کی رقم اپنی والدہ کے اکائونٹس میں منتقل کی۔نیب حکام نے عدالت کو بتایا کہ دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ حمزہ کی یونیڈاس اسپیڈ پرائیوٹ لمیٹڈ اور ووڈ نیچر پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کا انکشاف ہوا،جو ان کے ملازم نثار احمد، علی احمد خان، ندیم سعید اور محمد طاہر حمزہ کے نام پر ہیں،نثار احمد وزیر اعلی ہائوس میں کنٹریکٹ پر ملازم بھی رہا ہے ۔ نیب نے کہا 5ارب روپے منتقل ہوئے ۔سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے بے نامی کمپنیوں کا ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے حمزہ شہباز کے مزید 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔جس پر حمزہ شہباز کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے جو دلائل دیئے وہ بالکل بے بنیاد ہیں،بیرون ملک ترسیلات کو اکنامک ریفارمز اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت تحفظ حاصل ہے ،نیب حمزہ شہباز کے خلاف کرپشن کے کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں دس روز کی توسیع کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو 3 اگست دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔حمزہ شہباز نے احتساب عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اس حکومت نے غریب کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے ، لوگ موجودہ حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں، احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے ، حکومت فاشزم کا مظاہرہ کر رہی ہے ، مہنگائی اور حکومتی انتقامی کارروائیوں کیخلاف عوام احتجاج کیلئے نکلیں گے ، عوام موجودہ حکومت سے تنگ آچکے ہیں۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں