میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تعلیمی اداروں کی ناقص عمارتیں ،دو سانحات

تعلیمی اداروں کی ناقص عمارتیں ،دو سانحات

جرات ڈیسک
اتوار, ۲۵ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، شعور اور خوش حالی کی بنیاد ہے ، لیکن تعلیم کے لیے بنائے گئے ادارے ہی اگر بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن جائیں تو یہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ پورے نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ والدین اپنے بچوں کو صبح اسکول بھیجتے ہیں تو ان کے دل میں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ وہ محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کریں گے اور چھٹی کے بعد گھر واپس آکر اپنے خوابوں کی باتیں کریں گے ۔ لیکن جب بچے اسکول سے زندہ واپس نہ آئیں تو خاندانوں پر ٹوٹنے والی قیامت کا اندازہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں رہتا۔

15 ؍اکتوبر 2026ء کو پشاور کے علاقے دیر کالونی میں الخیر ایجوکیشن سینٹر کی چھت گرنے کا المناک واقعہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے ۔ اس سانحے میں 34طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہوئے ، جبکہ متعدد بچے زخمی ہوئے ۔ خبر پھیلتے ہی والدین اور اہلِ علاقہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ۔ ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ مقامی لوگوں نے بھی ملبے میں دبے بچوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حادثے کے وقت عمارت میں تقریباً 110بچے مختلف جماعتوں میں موجود تھے ۔ ان میں سے کئی بچے ایسے تھے جنہوں نے ابھی زندگی کی ابتدا ہی کی تھی۔ ان کے والدین نے انہیں علم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا، لیکن چند لمحوں میں ان کے خواب اور امیدیں ملبے تلے دب گئیں۔

یہ سانحہ اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کہ اسی سال لاہور میں بھی ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14بچے جاں بحق ہوچکے تھے ۔ 30 جون 2026ء کو لاہور کے علاقے کاہنہ نو میں فیروزپور روڈ کے قریب ایک رہائشی عمارت میں قائم نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گری۔ اس واقعے میں بچوں کے ساتھ ایک خاتون ٹیچر بھی زخمی ہوئی۔ پولیس نے عمارت کے مالکان اور تعمیراتی ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ 1 جولائی 2026ء کو درج کیا تھا، جبکہ واقعہ 30 جون 2026ء کو پیش آیا تھا۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کمزور چھت پر مٹی اور تعمیراتی ملبے کا اضافی بوجھ ڈالنے کو حادثے کی وجہ قرار دیا گیا۔ یوں چند ماہ کے اندر دو مختلف شہروں میں تعلیمی سرگرمیوں کے دوران بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ پہلے حادثے سے کیا سبق سیکھا گیا اور دوسرے سانحے کو روکنے کے لیے کیا مؤثر اقدامات کیے گئے تھے ؟

پشاور کے واقعے کے بعد پولیس حکام نے عمارت کے کمزور ڈھانچے اور اس پر اضافی تعمیراتی بوجھ کو چھت گرنے کی وجہ قرار دیا۔ اسکول کے مالک کو گرفتار کیا گیا اور تحقیقات شروع ہوئیں۔ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے عمارت کی حالت اور بارش کے پانی سے چھت کو پہنچنے والے نقصان کے خدشات بھی رپورٹ ہوئے ۔ ان تمام پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ عمارت کی تعمیر، دیکھ بھال، رجسٹریشن اور حفاظتی معائنے کے مراحل میں کہاں غفلت ہوئی۔ کسی شخص کو صرف الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینا درست نہیں، لیکن اگر تحقیقات میں کسی کی لاپروائی ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے ۔

پشاور کے سانحے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معائنے کی ہدایات دیں۔ وزیراعظم اور صدرِ مملکت نے بھی افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کی مدد اور زخمی بچوں کے علاج پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے ادارۂ اطفال نے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں عمارتوں کے حفاظتی معیار پر سختی سے عمل درآمد اور باقاعدہ معائنے کی ضرورت واضح کی۔ یہ تمام اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل کامیابی بیانات اور اعلانات میں نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد میں ہے ۔ہمارے ملک میں اکثر بڑے حادثے کے بعد انکوائری کا اعلان کیا جاتا ہے ، متاثرین کے لیے امداد مقرر ہوتی ہے اور چند دن تک معاملہ خبروں میں رہتا ہے ۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ توجہ کسی دوسرے مسئلے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے ۔ اگر پشاور اور لاہور کے واقعات کے بعد بھی عمارتوں کی حفاظت کے نظام میں بنیادی تبدیلی نہ آئی تو مستقبل میں ایسے سانحات کا خطرہ برقرار رہے گا۔ بچوں کی جانوں کا تحفظ ایسا معاملہ نہیں جسے کسی حادثے کے بعد چند روزہ مہم تک محدود رکھا جائے ۔ اس کے لیے مستقل نگرانی، واضح ذمہ داریوں اور مؤثر احتساب کا نظام ضروری ہے ۔

سب سے پہلے ملک بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں، کالجوں اور ٹیوشن سینٹروں کی عمارتوں کا جامع حفاظتی سروے کیا جانا چاہیے ۔ اس کام کی ذمہ داری صرف متعلقہ تعلیمی ادارے کے سربراہ یا عام انتظامی اہلکار کو نہ دی جائے ، بلکہ مستند تعمیراتی انجینئرز اور فنی ماہرین عمارتوں کا معائنہ کریں۔ بنیادوں، ستونوں، آہنی شہتیر، چھتوں، سیڑھیوں اور دیواروں کی حالت جانچی جائے ۔ عمارت میں دراڑیں، چھت کا جھکاؤ، پانی رسنے یا اضافی بوجھ کی علامات موجود ہوں تو ان کی فنی جانچ لازمی قرار دی جائے ۔ غیر محفوظ قرار دی جانے والی عمارت میں تدریسی سرگرمیاں اس وقت تک جاری نہ رہیں جب تک ضروری مرمت مکمل کرکے ماہرین اسے محفوظ قرار نہ دے دیں۔

دوسرا اہم پہلو اسکولوں کی رجسٹریشن اور اجازت ناموں کا ہے ۔ کسی ادارے کو رجسٹریشن مل جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی عمارت ہمیشہ محفوظ رہے گی۔ وقت کے ساتھ عمارت کی حالت خراب ہوسکتی ہے ، اضافی منزل تعمیر کی جاسکتی ہے یا چھت پر ایسا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جسے ڈھانچہ برداشت نہ کرسکے ۔ اس لیے رجسٹریشن کے ساتھ وقتاً فوقتاً حفاظتی معائنہ بھی ضروری ہونا چاہیے ۔ معائنے کی تاریخ، متعلقہ افسر یا ماہر کا نام، عمارت کی حالت اور ضروری اصلاحات کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے ۔ اگر کسی عمارت میں خلاف ورزی سامنے آئے تو اس کی اصلاح کی نگرانی بھی کی جائے ، محض نوٹس جاری کرکے معاملہ ختم نہ کردیا جائے ۔نجی تعلیمی اداروں کے معاملے میں یہ اصول بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ کم فیس لینے والے اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی جانیں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں جتنی مہنگے اداروں کے طلبہ کی۔ والدین کی مالی حیثیت بچوں کے حفاظتی معیار کا تعین نہیں کرسکتی۔ اگر کسی ادارے کی عمارت مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتی تو انتظامیہ کو اسے محفوظ بنانے کا پابند کیا جائے ۔ مالی مشکلات کی صورت میں متعلقہ حکام مناسب رہنمائی یا قابلِ عمل مدد کے طریقے تلاش کرسکتے ہیں، لیکن بچوں کو غیر محفوظ عمارت میں بٹھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔والدین اور اساتذہ کی شکایات کو بھی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے ۔ اگر کسی اسکول کی چھت سے پانی ٹپکتا ہو، دیواروں میں بڑی دراڑیں ہوں یا عمارت کے کسی حصے میں غیر معمولی تبدیلی نظر آئے تو اس کی اطلاع متعلقہ حکام تک پہنچانے کا واضح نظام موجود ہونا چاہیے ۔ شکایت درج ہونے کے بعد اس پر کارروائی کی پیش رفت معلوم کرنے کا طریقہ بھی ہونا چاہیے ۔ اساتذہ یا والدین کی جانب سے خطرے کی نشان دہی کو انتظامیہ کے خلاف مخالفت نہیں، بلکہ بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ضروری اقدام سمجھا جائے . پشاور اور لاہور کے سانحات کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانا بھی ناگزیر ہے ۔ تحقیقاتی رپورٹوں میں واضح کیا جائے کہ تعمیراتی معیار کی خلاف ورزی کہاں ہوئی، متعلقہ اجازت نامے کس بنیاد پر جاری ہوئے اور عمارتوں کی نگرانی کے ذمہ دار اداروں نے اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کیں۔ اگر انفرادی غفلت کے ساتھ نظام کی خامیاں بھی سامنے آئیں تو انہیں دور کرنے کے لیے قوانین اور طریقۂ کار میں اصلاحات کی جائیں۔ متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرنا انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے ، لیکن مالی معاوضہ انصاف، جواب دہی اور آئندہ حادثات کی روک تھام کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

پشاور کے معصوم بچوں کی شہادت پر ہر صاحبِ احساس دل گرفتہ ہے ۔ ان کے اہل خانہ کا دکھ ناقابلِ تلافی ہے ، مگر اس دکھ کے ساتھ پوری قوم کی یہ ذمہ داری بھی وابستہ ہے کہ ایسے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اسکول بچوں کے لیے علم، شعور اور روشن مستقبل کے مراکز ہونے چاہییں، خوف اور خطرے کی جگہ نہیں۔ والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں، کسی ممکنہ حادثے کے حوالے کرنے کے لیے نہیں۔پشاور اور لاہور کے واقعات نے واضح کردیا ہے کہ تعلیمی عمارتوں کی حفاظت کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ حکومتیں کتنی عمارتوں کا معائنہ کرتی ہیں، خطرناک عمارتوں کو کس طرح محفوظ بناتی ہیں، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے اور حفاظتی قوانین پر عمل درآمد کو کیسے یقینی بنایا جاتا ہے ۔ بچوں کی جانوں کا تحفظ محض حکومتی اعلان نہیں، قومی ذمہ داری ہے ؛ اور اس ذمہ داری میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں