میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، قواعد و ضوابط عام شہریوں کے لیے ، بینکوں کو استثنیٰ کیوں؟

سندھ بلڈنگ، قواعد و ضوابط عام شہریوں کے لیے ، بینکوں کو استثنیٰ کیوں؟

جرات ڈیسک
منگل, ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

فیڈرل بی ایریا بلاک 10کے پلاٹ نمبر C-7پر نجی بینک کی تعمیر، مکینوں میں تشویش

بلڈنگ انسپکٹر فرحان ایوب کے طرزِ عمل اور تعمیراتی ٹھیکیداروں کو رعایت کے الزامات

کراچی  شہر کے معروف رہائشی علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 10 میں پلاٹ نمبر C-7 پر نجی بینک کی تعمیر کے معاملے نے علاقہ مکینوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔

رہائشی پلاٹوں کے کمرشل استعمال اور تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی نگرانی اور ذمہ داریوں کا معاملہ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رہائشی علاقے میں نجی بینک کی تعمیر کے حوالے سے اس امر کی جانچ ضروری ہے کہ آیا مذکورہ پلاٹ کا کمرشل استعمال قانونی طور پر منظور شدہ ہے، تعمیراتی نقشہ متعلقہ ادارے سے منظور کرایا گیا ہے اور تعمیرات مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کی جارہی ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بلڈنگ انسپکٹر فرحان ایوب کے حوالے سے تعمیراتی ٹھیکیداروں کو مبینہ رعایت دینے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ افسر کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے ۔ یہ معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی کے نظام اور قواعد پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا جائے۔

علاقہ مکینوں کے تحفظات کے تناظر میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ پلاٹ نمبر C-7 کی قانونی حیثیت، منظور شدہ نقشے ، زمین کے مجاز استعمال اور تعمیراتی اجازت ناموں کی جانچ کی جائے۔

اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ۔شہری حلقوں کے مطابق تعمیراتی قوانین کا یکساں نفاذ ضروری ہے تاکہ عام شہریوں اور بڑے کاروباری اداروں کے لیے یکساں اصول لاگو ہوں۔ متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر وضاحت سامنے آنے سے صورتِ حال مزید واضح ہوسکتی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں