میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارتی حکومت انٹرنیشنل کرائم میں ملوث

بھارتی حکومت انٹرنیشنل کرائم میں ملوث

جرات ڈیسک
هفته, ۱۷ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مودی حکومت کے کرائم اور ویزا فراڈ میں براہِ راست ملوث ہونے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کوئی سرکاری ثبوت نہیں ملے ہیں، تاہم بھارتی نجی کمپنیوں، ایجنٹوں اور نیٹ ورکس کی جانب سے بڑے پیمانے پر ویزا فراڈ اور مجرمانہ سرگرمیوں کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے مودی حکومت کو سخت سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔حالیہ طور پر امریکی انتظامیہ (نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں) نے بھارت کی بڑی آئی ٹی کمپنیوں (جیسے Infosys، Tata Consultancy Services، Wipro، اور HCL) کو ویزا فراڈ اور امریکی ملازمین کے استحصال کے الزامات کے تحت مستقل لیبر سرٹیفیکیشن (PERM) پروگرام سے معطل کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعت (کانگریس) نے مودی حکومت پر شدید تنقید کی ہے کہ وہ ان کمپنیوں اور بھارتی ویزا ہولڈرز کے حقوق کا تحفظ کرنے اور اس فراڈ نیٹ ورک کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

بھارت کے مختلف حصوں (خصوصاً پنجاب اور چندی گڑھ) میں طلبہ اور تارکینِ وطن کو بیرونِ ملک بھیجنے کے نام پر سینکڑوں جعلی ایجنٹ سرگرم ہیں۔ کینیڈا، نیوزی لینڈ اور برطانیہ جیسے ممالک نے بھارتی طلبہ کی ویزا درخواستوں میں بڑے پیمانے پر جعلی ڈگریاں، بینک اسٹیٹمنٹس اور تجربے کے سرٹیفکیٹس پکڑے ہیں، جس کی وجہ سے بھارتی طلبہ کے ویزے مسترد ہونے کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ اور نیوزی لینڈ کی حکومتوں نے بھارت میں ویزا فراڈ کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی ہے تاکہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو روکا جا سکے۔

امریکی محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے حال ہی میں ایک ایسے گینگ کا پردہ فاش کیا جس میں متعدد بھارتی شہری ملوث تھے۔ یہ لوگ امریکہ میں موجود بھارتی اسٹور مالکان کو پیسے دے کر خود پر جعلی مسلح ڈکیتیاں کرواتے تھے تاکہ وہ امریکی قانون کے تحت ‘مظلوم’ (U non-immigrant visa) بن کر ویزا حاصل کر سکیں۔ اس کیس میں متعدد بھارتی شہریوں کو سزا سنائی گئی اور ڈی پورٹ کیا گیا۔مودی حکومت انفرادی سطح پر ہونے والے ان جرائم اور ویزا فراڈ نیٹ ورکس کو روکنے کے لیے قانونی اقدامات کا دعویٰ کرتی ہے۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت میں بڑھتے ہوئے "ڈیجیٹل اریسٹ” اور آن لائن مالیاتی فراڈ کے خلاف شہریوں کو خبردار کیا ہے۔ تاہم، اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت کی کمزور نگرانی اور سیاسی سرپرستی کی وجہ سے یہ مافیا کھلے عام کام کر رہا ہے۔

مودی کی سرپرستی میں بھارت دنیا بھر میں سائبر فراڈ کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کی تحقیقات نے بھارت میں وسیع پیمانے پر ہونے والے سائبر جرائم کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ امریکی ریاست میری لینڈ میں کروڑوں ڈالر کے فراڈ کی تحقیقات کے دوران بھارتی کال سینٹرز کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین بھارتی کال سینٹرز نے 650 سے زائد افراد کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متاثرین کو 48 ملین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ بھارتی جعل ساز خود کو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے ظاہر کرتے رہے اور ای میل، فون کالز اور پاپ اپس کے ذریعے امریکی شہریوں کو ہدف بناتے تھے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کی معلومات پر بھارتی ایجنسیوں نے کارروائی کرتے ہوئے جعل ساز گروہ کے چھ سرغنہ گرفتار کر کے فراڈ میں استعمال ہونے والا سازوسامان ضبط کر لیا۔ ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ جمی پال نے بھی بھارت میں قائم تین کال سینٹرز کے فراڈ نیٹ ورک کے خاتمے کی تصدیق کی ہے۔بین الاقوامی ماہرین کے مطابق غیر ملکی ریاستی اداروں کی جعلی شناخت کو بطور ہتھیار استعمال کرنا مودی حکومت کی سفارتی اور انتظامی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں منظم دھوکہ دہی کے حالیہ واقعات کمزور ریاستی نگرانی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کو کھل کر بے نقاب کرتے ہیں، جبکہ مسلسل سامنے آنے والے فراڈ اسکینڈلز مودی حکومت کی ناقص حکمرانی اور داخلی کمزوریوں کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔

کینیا کے صدر ولیم روٹو نے بھارتی کاروباری گروپ ٹاٹا سے وابستہ کمپنی ٹاٹا کیمیکلز کو ملک میں اپنی سرگرمیاں ختم کرکے نکلنے کا حکم دیا ہے کہ کمپنی ملک کے قدرتی وسائل سے مطلوبہ معاشی فائدہ حاصل کرنے کے باوجود مقامی صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کے فروغ میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر رہی۔ولیم روٹو نے کاجیادو کاؤنٹی کے دورے کے دوران کہا کہ ٹاٹا کیمیکلز جھیل مگاڈی سے حاصل ہونے والی سوڈا ایش کو مقامی سطح پر مزید پراسیس کرنے کے بجائے بیرون ملک برآمد کر رہی ہے۔ان کے مطابق حکومت نے کمپنی کی جگہ نئے سرمایہ کار لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے مقامی سطح پر صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔صدر روٹو نے الزام عائد کیا کہ ٹاٹا کیمیکلز طویل عرصے سے مگاڈی میں کام کر رہی ہے، تاہم اس نے مقامی سطح پر مطلوبہ صنعتی انفراسٹرکچر قائم نہیں کیا۔جھیل مگاڈی پر قائم ٹاٹا کیمیکلز کا پلانٹ سوڈا ایش تیار کرتا ہے، جو شیشہ سازی سمیت متعدد صنعتی شعبوں میں استعمال ہونے والا اہم خام مال ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے مگاڈی آپریشنز میں تقریباً 500 افراد براہِ راست ملازمت کرتے ہیں جبکہ علاقے میں اس کے سماجی منصوبوں سے ہزاروں افراد مستفید ہوتے ہیں۔کینیا کی حکومت اور کمپنی کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب تقریباً پانچ ہفتے قبل ملک کی وزارتِ کان کنی نے ٹاٹا کیمیکلز مگاڈی کو اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کی ہدایت کی۔ اطلاعات کے مطابق اس اقدام کی وجوہات میں رائلٹی کی ادائیگی اور دیگر ضابطہ جاتی معاملات شامل تھے۔کمپنی نے اس وقت بھی حکام کو اپنا جواب جمع کراتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے متعلقہ ضابطوں کی پاسداری سے متعلق ضروری معلومات فراہم کردی ہیں اور وہ حکومتی دستاویزات کے جائزے اور آئندہ ہدایات کی منتظر ہے۔جھیل مگاڈی میں سوڈا ایش کی پیداوار کا منصوبہ ایک صدی سے زائد پرانا ہے۔ یہاں صنعتی سرگرمیوں کا آغاز 1911 میں ہوا تھا جبکہ 1928 میں کینیا کی حکومت کے ساتھ کان کنی سے متعلق ایک اہم معاہدہ کیا گیا۔

ٹاٹا کیمیکلز نے 2005 میں برطانوی کمپنی برونر مونڈ گروپ کے حصول کے ذریعے مگاڈی کے منصوبے کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں