بھارت میں یومِ سیاہ، انتخابی بحران
شیئر کریں
بھارت میں 10؍اکتوبر جمہوریت کا سیاہ ترین دن تھا۔ مودی سرکار نے آمریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہلی پولیس کے ذریعے نہتے اور بے گناہ نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد کیا، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ جنتر منتر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال ہے، جبکہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی پولیس کی کارروائیوں کو ’’آمرانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے تینوں رہنماؤں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، احتجاج سے قبل نئی دہلی ضلع میں بھارتی قانون (بی این ایس ایس)کی دفعہ 163نافذ کی گئی
تھی، جس کے تحت پیشگی تحریری اجازت کے بغیر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع، جلوس اور مظاہروں پر پابندی عائد تھی۔انڈیا کا
دارالحکومت اس وقت سکیورٹی کے ایسے غیرمعمولی حصار میں ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش
کمار کے خلاف انتخابی فہرستوں سے مبینہ طور پر ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور ’’ووٹ چوری‘‘ کے نعرے کے تحت 10 اکتوبر کو نئی
دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی کال دی گئی تھی۔ اس احتجاج کا اعلان کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے)کی قومی صدر نیہا بورا اور دیگر طلبہ و نوجوان تنظیموں نے کیا تھا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں اور شہری حلقوں سے بھی شرکت کی اپیل کی گئی تھی۔ مظاہرین نے انتخابی عمل میں شفافیت، ووٹروں کے حقوق کے تحفظ، انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کی درخواست مقررہ مدت سے کم وقت پہلے دی گئی تھی۔ پولیس نے امن و امان، عوامی تحفظ اور ٹریفک سے متعلق خدشات کو بھی اجازت مسترد کرنے کی وجوہات میں شامل کیا۔ رپورٹ میں جنتر منتر پر مظاہرین کی ممکنہ تعداد اور وہاں انتظامات کی گنجائش سے متعلق خدشات کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس طرح احتجاج سے قبل ہی منتظمین اور پولیس کے درمیان اختلاف سامنے آ گیا، جبکہ پولیس نے مجوزہ مظاہرے کو روکنے کے لیے سکیورٹی اور پابندیاں سخت کر دیں۔
10 اکتوبر کی صبح نئی دہلی میں دہلی پولیس نے مجوزہ احتجاج کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کی۔ رائٹرز کی رپورٹ کے
مطابق، پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور اس کے دو سینئر رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو ممبئی سے آنے والی
پرواز کے دہلی ایئرپورٹ پر اترتے ہی طیارے کے اندر حراست میں لے لیا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی
ایشن کی قومی صدر نیہا بورا، سماجی کارکن یوگیندر یادو اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کو بھی دہلی ہاٹ سے جنتر منتر کی جانب
مارچ کے دوران حراست میں لیا گیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، دوپہر تقریباً 2 بج کر 49 منٹ تک حراست میں لیے گئے
افراد کی تعداد تقریباً دو ہزار تک پہنچ چکی تھی، جبکہ بعد کی رپورٹوں میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیے جانے کی تفصیلات سامنے آئیں۔
احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے ۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، پولیس اور نیم فوجی
دستوں کے تقریباً 25 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ، جنتر منتر اور اس کے اطراف جانے والے راستوں پر بیریکیڈز لگائے گئے اور مختلف
مقامات پر سخت چیکنگ کی گئی۔ رپورٹ میں تقریباً 45 میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیوں اور 250 سے زیادہ ٹرینوں کی منسوخی کا بھی ذکر کیا
گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو احتجاج کے مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی مختلف مقامات پر روک کر بسوں اور عارضی حراستی مراکز میں منتقل کیا۔
رائٹرز کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کا تعاقب کیا اور متعدد افراد کو گھسیٹ کر بسوں میں لے گئے ۔ اس کارروائی کے دوران
پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی اور مظاہرین نے پولیس کے خلاف نعرے لگائے ۔ نوجوانوں اور کارکنوں نے الزام لگایا
کہ پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے انہیں احتجاج سے روکنے کی کوشش کی۔
خواتین مظاہرین اور وکلا کے ساتھ پولیس کے مبینہ ناروا سلوک کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ مظاہرین نے مودی حکومت اور انتخابی اداروں کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹروں کے حقوق اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ دہرایا۔دہلی پولیس کا مؤقف تھا کہ احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور کارروائی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کی گئی، جبکہ احتجاج کے منتظمین اور اپوزیشن رہنماؤں نے ان اقدامات کو اختلافِ رائے دبانے اور انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف اٹھنے والی آواز کو روکنے کی کوشش قرار دیا۔
10 اکتوبر کو دہلی میں بڑے پیمانے پر حراستوں کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انڈین
ایکسپریس کی 10 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، پارٹی کے قومی تنظیمی انچارج اجنکیا شندے نے اعلان کیا کہ 11 اکتوبر بروز اتوار صبح 10 بجے نئی دہلی کے جنتر منتر کی جانب دوبارہ مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے حامیوں سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر
دہلی پولیس نے انہیں راستے میں روکا تو وہیں احتجاج کیا جائے ۔ شندے نے واضح کیا کہ پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے تک
احتجاج جاری رکھے گی۔ دہلی پولیس نے بھی بتایا کہ اتوار کو حفاظتی تعیناتی برقرار رکھی جائے گی اور صورتِ حال کے مطابق میٹرو اور ٹرینوں
سے متعلق اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ 10 اکتوبر کی پولیس کارروائی کے باوجود منتظمین نے اگلے روز
احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
مظاہرین احتجاج کے دوران ‘‘ووٹ چوری بند کرو’’، ‘‘ووٹ چور، گدی چھوڑ’’، ‘‘گیانیش کمار استعفیٰ دو’’، ‘‘دہلی پولیس ہائے ہائے ’’، ‘‘جے بھیم’’ اور ‘‘انقلاب زندہ باد’’، مودی اور امیت شاہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے ۔احتجاج کے سلسلے میں معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی، سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئیٹر کویہ کرناٹک اور کاکروچ جنتا پارٹی کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ کو بھی پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم ان تینوں کی موجودہ حراستی حیثیت کی الگ سے تصدیق نہیں ہوئی۔ممبئی میں احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے بالی وڈ اداکار عمران خان بعد میں پولیس کی حراست سے نکل کر اپنے گھر کی جانب روانہ ہو گئے ، جبکہ مہاتما گاندھی کے پڑپوتے اور سماجی کارکن تُشار گاندھی کی رہائی کے بارے میں 10 اکتوبر کی رات تک دستیاب رپورٹوں میں واضح تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔
سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اور ممتا بنرجی سمیت ہزاروں مظاہرین اور سیاسی رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لیا۔سماجی کارکن سونم وانگچک نے ابھیجیت ڈپکے ، سورو داس، آشوتوش رانکا اور کئی اپوزیشن رہنماؤں سمیت سینکڑوں افراد کو حراست میں لیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ ’اگر آئندہ 24 گھنٹوں میں گرفتار کیے جانے والوں کو رہا نہ کیا گیا تو میں بھی پرامن احتجاج پر غور کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔
انڈیا کی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے ۔اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس احتجاج کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے راہول گاندھی نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کے نوجوانوں، مجھے آپ پر فخر ہے ۔ اپنا احتجاج جاری رکھیں۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حکومت اور آئین پر حملہ کرنے والوں کو شکست سے دوچار کیا جائے ۔
بھارت میں سیاسی تبدیلی کی فضا گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ جین زی بھگت سنگھ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جمہوریت کی بقا،
انتخابی شفافیت اور منصفانہ نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ناقدین کے نزدیک مودی حکومت کی پالیسیاں اور احتجاج کو روکنے
کے لیے سخت اقدامات خود حکومت کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ نوجوانوں میں نریندر مودی اور امیت شاہ کی
قیادت کے خلاف غم و غصہ بڑھنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتجاجی تحریک جاری رکھنے کے اعلانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مزاحمت فوری طور
پر ختم ہونے والی نہیں۔
٭٭٭


