زمین کہاں گئی؟کراچی کی سرکاری زمین، مبینہ جعلی اندراجات اور ایک پورے نظام کا پوسٹ مارٹم
شیئر کریں
نجم انوار
۔۔۔۔۔
قسط پنجم
(فیک نیوز کے نگرانوں کا نگران کون؟)
٭ ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ نے سرکاری زمین کے گورکھ دھندے کو اخباری خبر سے اٹھا کر ‘ریکارڈ، اندراجات، الاٹمنٹ، انتقال، سروے ، حد بندی، قبضے اور متعلقہ افسران’ تک عریاں کر دیا ہے
٭کراچی کے ضلع غربی، بالخصوص منگھوپیر، میں سرکاری زمین کے ریکارڈ کے ساتھ مبینہ جعل سازی، غیر قانونی اندراجات اور نجی افراد تک زمین پہنچانے کا ایک ایسا سلسلہ جس میں مختلف سرکاری دفاتر شامل رہے
٭ منگھوپیر کے معاملے میں رپورٹ کا سب سے سنگین حصہ 2021میں ریونیو ریکارڈ کے جلنے کا واقعہ ہے ۔رپورٹ کے مطابق منگھوپیر کے مختیارکار دفتر میں آگ لگی اور ریونیو ریکارڈ کا ایک بڑا حصہ ضائع ہوگیا
٭سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ آگ مبینہ طور پر ایسے جعلی اندراجات کے ریکارڈ کو ختم کرنے کی کوشش تھی جو ریونیو اہلکاروں اور نجی مستفیدین کی ملی بھگت سے کیے گئے تھے
٭معاملہ مزید حساس ہوجاتا ہے ، کیونکہ سپریم کورٹ نے28؍ نومبر 2012کے حکم میں حکومت سندھ اور ریونیو حکام کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ، منتقلی، میوٹیشن اور متعلقہ کارروائیوں سے روکا تھا
٭٭ہلکانی میں 60؍ایکڑزمین ال ویشا سوسائٹی کے نام سے متعلق معاملے میں ایک نجی فرد کو دی گئی،جام چاکرو میں 100؍ایکڑزمین فلک ناز بلڈرزکو مبینہ طور پر فروخت کیے جانے کا ذکر ہے
٭رپورٹ میں کینال ویوکے نام سے ایک 28ایکڑزمین کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے ، جام چاکرو میں 28ایکڑ زمین کے بارے میں اندراج نمبر 156مورخہ21 اکتوبر2021ء کا ذکر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیک نیوز کی نگرانی درحقیقت فیک نیوز کے لیے نہیں اصل نیوز کے لیے خوف پیدا کرنے کی ایک ناکام کوشش ثابت ہوگی! پچھلی
قسطوں میں ہم حقیقی خبروں کے سوالات کھڑے کر چکے ہیں۔ کراچی میں سرکاری زمین کے متعلق کچھ سوالات ، حقیقی خبروں کا رنگ روپ
رکھتے ہیں، سوال یہ ہے کہ فیک نیوز کی نگرانی ان سوالات کو کیسے ڈیل کرے گی؟اب سرکاری زمین پر ہاتھ صاف کرنے کے حوالے سے کچھ
سوالات کا مزید گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں!
کراچی میں سرکاری زمین کے بارے میں شکایت کوئی نئی بات نہیں۔نئی بات یہ ہے کہ ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ نے اس سوال کو
محض سیاسی الزام یا اخباری خبر کے درجے سے اٹھا کر ‘ریکارڈ، اندراجات، الاٹمنٹ، انتقال، سروے ، حد بندی، قبضے اور متعلقہ افسران’’
کے ایک پورے انتظامی سلسلے کے سامنے رکھ دیا ہے ۔یہ رپورٹ ‘‘چیف منسٹر انسپیکشن اینڈ انکوائری ٹیم ’’(CMIE&ITD)نے تیار کی۔
اس کے مطابق معاملہ صرف چند جعلی کاغذات یا چند ایکڑ زمین تک محدود نہیں، بلکہ کراچی کے ضلع غربی، بالخصوص منگھوپیر، میں سرکاری
زمین کے ریکارڈ کے ساتھ مبینہ جعل سازی، غیر قانونی اندراجات اور نجی افراد تک زمین پہنچانے کا ایک ایسا سلسلہ سامنے آیا جس میں
مختلف سرکاری دفاتر کے کردار کی نشاندہی کی گئی ہے ۔
شکایت سے شروع ہونے والی کہانی
رپورٹ کے مطابق اس معاملے کی انکوائری چیف منسٹر سندھ کی ہدایت پر4؍ مئی2023ء کو شروع ہوئی اور 10 ؍ اکتوبر2023ء کو اسے
باقاعدہ انکوائری نمبر دیا گیا۔ اس کے ساتھ دیگر شکایات بھی شامل کی گئیں، جن میں حمیر ایسوسی ایٹس اور میرو خان گبول گوٹھ کے رہائشیوں کی
شکایات شامل تھیں۔تحقیق کا دائرہ صرف ایک زمین یا ایک دفتر تک محدود نہیں رکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق ٹیم نے 2012سے 2023
تک لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کی الاٹمنٹس کا جائزہ لیا،ضلع غربی، شرقی، ملیر، کورنگی اور کیماڑی کے ریونیو ریکارڈ دیکھنے کی کوشش کی،
ریکارڈ آف رائٹس، پی آر سی، LARMISاور کراچی کے سروے ریکارڈ کو جانچا۔ اور متعلقہ افسران، سرکاری اہلکاروں اور نجی سطح پر فائدہ
اُٹھانے والوں کی ذمہ داری متعین کرنے کی کوشش کی۔تحقیق کو مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا، جن میں پہلے ضلع غربی کے منگھوپیر، پھر ملیر،
شرقی، کیماڑی اور کورنگی شامل تھے ۔یہ تفصیل اہم ہے ، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رپورٹ نے معاملے کو محض ایک شکایت نہیں سمجھا بلکہ
زمین کے ریکارڈ کے پورے سفرکو کھولنے کی کوشش کی۔
زمین کا سچ کہاں لکھا ہوتا ہے؟
زمین کی ملکیت صرف ایک کاغذ سے ثابت نہیں ہوتی۔ریونیو ریکارڈ میں مختلف رجسٹر، اندراجات، انتقالات، الاٹمنٹ اور سابقہ ملکیت کی کڑیاں مل کر یہ بتاتی ہیں کہ زمین کہاں سے آئی اور کس طرح ایک شخص سے دوسرے تک پہنچی۔رپورٹ نے خاص طور پر VF-VII-A، VF-VII-B اور VF-IIجیسے ریکارڈ کا ذکر کیا ہے ۔اس کا مطلب سادہ زبان میں یہ ہے کہ اگر آج کسی شخص کے نام زمین کا اندراج موجود ہے تو سوال صرف یہ نہیں کہ آج کا اندراج کس کے نام ہے ؟اصل سوال یہ ہے ،پہلا اندراج کس بنیاد پر ہوا؟اس سے پہلے زمین کس کے نام تھی؟الاٹمنٹ کہاں ہوئی؟انتقال کس حکم پر ہوا؟سروے نمبر کیسے بنا؟حد بندی کس نے کی؟قبضہ کس نے دیا؟اور بعد کی فروخت یا منتقلی کس بنیاد پر ہوئی؟رپورٹ کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ اگر اس پوری زنجیر کی ابتدائی کڑی غائب ہو یا مشکوک ہو تو بعد کے اندراجات بھی سوال کے دائرے میں آ جاتے ہیں۔یعنی زمین کی اصل کہانی آج کے مالک سے نہیں، پہلی معتبر انٹری سے شروع ہوتی ہے۔
- رپورٹ کے مختلف حصوں میں کئی ریونیو افسران اور اہلکاروں کے نام آتے ہیں۔ان میں عبدالجلیل بروہی، ابراہیم جونیجو، ممتاز علی کلور، ابو بکر، محمد ہاشم شیخ، دوست محمد سومرو، نیاز احمد جَمڑو، سید عابد علی، خان محمد عمرانی، جمال الدین مہر، سلیم رضا پاہورے اور دیگر شامل ہیں۔ رپورٹ کے مختلف حصوں میں بعض دیگر افسران کے نام بھی زمین، سروے ، اندراجات یا متعلقہ انتظامی معاملات کے تناظر میں آتے ہیں۔لیکن یہاں بھی ناموں کی ایک طویل فہرست بنانا مقصد نہیں۔اصل سوال یہ ہے :کس افسر نے کیا کیا؟کس تاریخ کو کیا کیا؟کس اندراج پر دستخط کیے ؟کس حکم کی بنیاد پر کیا؟کس زمین کا ریکارڈ کس کے پاس تھا؟اور پھر اس کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
پھر 2021میں ریکارڈ جل گیا
منگھوپیر کے معاملے میں رپورٹ کا سب سے سنگین حصہ 2021میں ریونیو ریکارڈ کے جلنے کا واقعہ ہے ۔رپورٹ کے مطابق منگھوپیر
کے مختیارکار دفتر میں آگ لگی اور ریونیو ریکارڈ کا ایک بڑا حصہ ضائع ہوگیا۔اس وقت کے ڈپٹی کمشنر غربی سے تحقیقاتی ٹیم نے یہ سوال بھی کیا
کہ اگر اصل ریکارڈ موجود نہیں رہا تو اس کے بعد زمین کے مزید لین دین کیسے ہوتے رہے ؟یہ سوال معمولی نہیں تھا۔کیونکہ جب ملکیت کی
بنیادی دستاویزات ہی ضائع ہوجائیں تو اس کے بعد ہونے والے ہر نئے اندراج کے لیے اصل ماخذدکھانا ضروری ہوجاتا ہے ۔رپورٹ
مزید کہتی ہے کہ سابق ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن نے آگ کے واقعے کی انکوائری کی تھی اور اس میں اس وقت کے مختیارکار اور دیگر ریونیو اہلکاروں کی ذمہ داری کا تعین کیا گیا تھا۔لیکن CMIE&ITDرپورٹ نے اس واقعے کی اپنی تشریح اس سے بھی زیادہ سنگین انداز میں کی۔ رپورٹ کے مطابق یہ آگ مبینہ طور پر ایسے جعلی اندراجات کے ریکارڈ کو ختم کرنے کی کوشش تھی جو ریونیو اہلکاروں اور نجی مستفیدین کی ملی بھگت سے کیے گئے تھے ۔آگ لگنا ایک واقعہ ہے ۔آگ جان بوجھ کر ریکارڈ مٹانے کے لیے لگائی گئی ایک تحقیقاتی الزام ہے ۔دونوں کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔
جعلی ڈومیسائل، شناختی کارڈ اور زمین
رپورٹ نے 2012سے 2021کے دوران منگھوپیر اور اورنگی کے علاقوں میں جاری ہونے والے ڈومیسائل کے ریکارڈ کا بھی ذکر کیا ہے ۔رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ اس عرصے میں ایسے جعلی ڈومیسائل جاری کیے گئے جن کی بنیاد پر جعلی الاٹمنٹس اور ریونیو اندراجات ہوئے ۔
رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ جعلی شناختی دستاویزات کے ذریعے زمین کے معاملات آگے بڑھائے گئے ، مگر متعلقہ ریونیو اہلکاروں یا نجی
مستفیدین کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ اگر یہ دعویٰ درست تھا تو سوال صرف زمین کا نہیں رہتا۔پھر سوال یہ بنتا ہے ،ریاستی شناختی
دستاویز، ریونیو ریکارڈ اور سرکاری زمینی یہ تین الگ نظام ایک ہی جعلی معاملے میں کیسے جڑ گئے ؟اور اگر یہ غلط تھا تو پھر اس دعوے کی تردید کے لیے اصل ریکارڈ کہاں ہے ؟
سپریم کورٹ کا حکم:پابندی تھی تو پھر یہ سب کیسے ہوا؟
یہاں معاملہ مزید حساس ہوجاتا ہے ۔سپریم کورٹ نے28؍ نومبر 2012کے حکم میں حکومت سندھ اور ریونیو حکام کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ، منتقلی، میوٹیشن اور متعلقہ کارروائیوں سے روکا تھا، جب تک عدالت کی مزید ہدایات نہ ہوں۔یعنی سرکاری زمین کے بارے میں معمول کی انتظامی کارروائی پر ایک واضح عدالتی بندش موجود تھی۔اس کے باوجود CMIE&ITDرپورٹ کا دعویٰ ہے کہ منگھوپیر اور دیگر علاقوں میں اس عرصے کے دوران ایسے اندراجات ہوئے جو اس عدالتی حکم سے متصادم تھے ۔یہی اس پوری رپورٹ کا شاید سب سے بنیادی سوال ہے ، اگر پابندی موجود تھی تو ریونیو ریکارڈ میں نئے اندراجات کس بنیاد پر ہوئے ؟اور اگر کسی اندراج کے پیچھے کوئی قانونی استثنیٰ، عدالتی اجازت یا معتبر الاٹمنٹ آرڈر موجود تھا تو وہ دستاویز کہاں ہے ؟رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ متعدد معاملات میں مطلوبہ بنیاد یا دستاویز موجود نہیں تھی۔
زمین صرف مختیارکار کے دفتر سے نہیں گزرتی
یہ رپورٹ پڑھتے ہوئے ایک چیز بار بار سامنے آتی ہے ،زمین کی مبینہ منتقلی ایک دفتر کا کام نہیں تھی۔رپورٹ میں جس انتظامی زنجیر کی تصویر بنتی ہے ، وہ کچھ یوں ہے ،لینڈ یوٹیلائزیشن، ڈیپارٹمنٹ، الاٹمنٹ ، ریونیو ریکارڈ، مختیارکار، تپیدار، اسسٹنٹ کمشنر ، سروے، حد بندی اینٹی انکروچمنٹ، قبضہ ، نجی فرد، سوسائٹی یا بلڈر، بعد کی منتقلی۔اگر رپورٹ کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو پھر سوال کسی ایک اہلکار سے آگے بڑھتا ہے ۔اتنے مختلف مرحلوں سے گزرنے والی زمین کو کسی ایک مرحلے پر کیوں نہیں روکا گیا؟اور اگر روکا گیا تو کس نے روکا؟
اور اگر کسی نے نہیں روکا تو کیوں نہیں روکا؟
لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ:ریکارڈ کہاں تھا؟
26 ؍ اکتوبر2023ء کو CMIE&ITDٹیم نے لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ کا معائنہ کیا۔رپورٹ کے مطابق سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن اور بعض سیکشن افسر اپنے دفاتر میں موجود نہیں تھے ۔ رپورٹ نے یہ بھی لکھا کہ حساس زمین کے ریکارڈ کو نچلے گریڈ کے اہلکار سنبھال رہے تھے ۔مزید اہم بات یہ ہے کہ ضلع شرقی، ملیر اور کورنگی میں 2012سے 2023تک ہونے والی بعض الاٹمنٹس کا مطلوبہ ریکارڈ تحقیقاتی ٹیم کو فراہم نہیں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق بار بار درخواست کے باوجود متعلقہ افسران دستیاب نہیں ہوئے اور مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ریکارڈ کا دستیاب نہ ہونا خود بخود کرپشن کا ثبوت نہ بھی سمجھا جائے تو جب انکوائری ہی ریکارڈ کے ذریعے یہ جاننا چاہ رہی ہو کہ زمین کس بنیاد پر منتقل ہوئی، اور وہ ریکارڈ فراہم نہ کیا جائے ، تو یہ بذاتِ خود ایک سنجیدہ انتظامی سوال ضرور پیدا کرتا ہے ۔
منگھوپیر:کہانی یہاں سب سے زیادہ گہری ہوتی ہے
رپورٹ کے مطابق منگھوپیر میں کئی ایسے اندراجات سامنے آئے جنہیں تحقیقاتی ٹیم نے سپریم کورٹ کی پابندی کے باوجود قرار دیا،چارج شیٹس میں متعدد تپیداروں اور سپروائزنگ تپیداروں کے نام بھی شامل کیے گئے ۔مثلاً رپورٹ میں ابو بکرکے بارے میں 11اندراجات کا ذکر ہے ، جبکہ ممتاز علی کلور کے بارے میں 13اندراجات کا دعویٰ کیا گیا۔ دونوں کے بارے میں رپورٹ نے مزید لین دین اور 69ایکڑ سرکاری زمین سے متعلق مبینہ نقصان کا ذکر کیا اور بعض معاملات میں اثاثوں کی چھان بین اور نیب کو ریفرنس بھیجنے کی سفارش کی۔نیاز احمد جَمڑوکے بارے میں رپورٹ نے 14اندراجات کا ذکر کیا اور 69؍ایکڑ زمین کی مالیت 600؍ ملین روپے بتائی۔ رپورٹ نے 2021 کے ریکارڈ کے ضائع ہونے کے معاملے میں بھی ان کا نام لیا اور اثاثوں کی چھان بین کی سفارش کی۔سید عابد علی کے بارے میں 5 اندراجات کا ذکر ہے اور 69؍ایکڑ سے متعلق 100ملین روپے کا مبینہ نقصان رپورٹ میں درج ہے ۔محمد خان عمرانی کے بارے میں 6 مبینہ غیر قانونی اور بوگس اندراجات کا ذکر کیا گیا، جبکہ ان کی تقرری اور سروس ریکارڈ کی بھی مزید جانچ کی سفارش کی گئی۔یہ سب رپورٹ کے الزامات اور سفارشات ہیں۔ان ناموں کے بارے میں کسی عدالت کی حتمی سزا کا دعویٰ اس رپورٹ کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا۔
65 ؍اندراجات کا سوال
سلیم رضا پاہورے کے بارے میں رپورٹ کا الزام اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں 65اندراجات کا ذکر ہے ۔رپورٹ کے مطابق
ان کی بطور سپروائزنگ تپیدار تقرری اور ترقی کا ریکارڈ دستیاب نہیں تھا، جبکہ ان کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کی پابندی
کے دوران منگھوپیر کے ریونیو ریکارڈ میں 65 مبینہ غیر قانونی اندراجات کیے ۔رپورٹ نے اسے نجی مفاد رکھنے والے عناصر سے مبینہ ملی
بھگت سے جوڑا اور نیب قانون کے تحت کارروائی کی سفارش کی۔یہاں بھی سوال وہی ہے ۔اگر 65اندراجات ہوئے تو ان کے پیچھے 65 الگ قانونی بنیادیں تھیں یا ایک ہی طریقہ بار بار استعمال ہوا؟اور اگر یہ اندراجات غیر قانونی تھے تو ان پر بعد میں کیا کارروائی ہوئی؟
اب آتے ہیں ان ناموں پر جنہیں رپورٹ نے زمین کے ممکنہ مستفیدین سے جوڑا
رپورٹ کے ایک چارج شیٹ حصے میں حق نواز اجن اور امجد بھٹی کے نام آتے ہیں۔رپورٹ ان دونوں کے بارے میں مختلف زمینوں اور مختلف نجی اداروں سے متعلق متعدد سنگین الزامات عائد کرتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق:
٭منگھوپیر میں 60؍ایکڑزمین نجی فرد کے حق میں منتقل کی گئی
٭ہلکانی میں 60؍ایکڑزمین ال ویشا سوسائٹی کے نام سے متعلق معاملے میں ایک نجی فرد کو دی گئی
٭جام چاکرو میں 100؍ایکڑزمین فلک ناز بلڈرزکو مبینہ طور پر فروخت کیے جانے کا ذکر ہے
٭ہلکانی، جام چاکرو اور سرجانی میں 100؍ایکڑ زمین پر جی ایف ایس بلڈرزکے قبضے کا الزام عائد کیا گیا
٭جام چاکرو میں 400ایکڑ زمین کوعلی ڈریم سٹی منصوبے سے جوڑا گیا
٭جام چاکرو میں 200ایکڑزمین OKبلڈرزکو مبینہ طور پر دیے جانے کا ذکر ہے
ٔ
٭90ایکڑزمین سمیہ بلڈرزکو مبینہ طور پر دیے جانے کا دعویٰ ہے
٭گلشن خیر سوسائٹی کے لیے 80؍ایکڑ
٭بخت پلھ کے لیے 100؍ایکڑ
٭اور سرجانی میں 100؍ایکڑکے ایک مبینہ غیر قانونی گاؤں کا ذکر بھی رپورٹ میں موجود ہے ۔
یہ تمام تفصیلات رپورٹ میں وضاحت سے درج ہیں۔ مذکورہ بلڈرز، سوسائٹی، نجی فرد یا سرکاری اہلکارکو تاحال ان الزامات میں کہیں پر بھی جواب دہ نہیں بنایا گیا۔ کیوں؟ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن سے احتیاطاً پوچھ لینا چاہئے کہ یہ سوال پوچھنا کیا فیک نیوز کے زمرے میں آئے گا؟
28 ؍ایکڑ:کینال ویو کا ایک اور سوال
رپورٹ میں کینال ویوکے نام سے ایک 28ایکڑزمین کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق جام چاکرو میں 28ایکڑ زمین کے بارے میں اندراج نمبر 156مورخہ21 اکتوبر2021ء کا ذکر ہے ، جو ایک سروے سپرنٹنڈنٹ کے خط کی بنیاد پر کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق اس زمین پر کنال ویو پراجیکٹ قائم تھا، جبکہ اس اندراج میں محمد شریف ولد رحیم بخش اور دیگر کے نام شامل تھے ۔رپورٹ نے اس اندراج کے سلسلے میں مختیارکارعبدالغنی پٹافی اور اسسٹنٹ کمشنر مشتاق احمد جتوئی کے نام بھی لیے ہیں۔یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ یہاں سوال صرف زمین کس کے نام تھی؟ کا نہیں۔سوال یہ ہے :
٭اندراج کس دستاویز کی بنیاد پر ہوا؟
٭سروے کا خط کیوں جاری ہوا؟
٭اندراج کس نے منظور کیا؟
٭اور اگر زمین سرکاری تھی تو نجی منصوبہ وہاں تک کیسے پہنچا؟
30 سال کی لیز، 99سال کی کہانی
رپورٹ کا ایک اور حساس دعویٰ سرکاری زمین کی 30سالہ لیز کو 99سالہ لیز میں تبدیل کرنے کے معاملات سے متعلق ہے ۔رپورٹ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات اور بعد کی عدالتی کارروائی کے باوجود ایسے معاملات کے آثار لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ میں موجود تھے ۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ رپورٹ میں مذکور ہر 99سالہ لیز غیر قانونی تھی۔لیکن اگر کسی عدالتی پابندی کے دوران لیز کی نوعیت تبدیل ہوئی، تو اس تبدیلی کی قانونی بنیاد، منظوری اور عدالتی حیثیت سامنے آنی چاہیے ۔یہی شفافیت کا بنیادی تقاضا ہے ۔
سروے ڈیپارٹمنٹ بھی سوال کے دائرے میں
زمین صرف کاغذ پر نہیں بنتی۔اس کا سروے نمبر، حدود اور زمینی شناخت بھی ضروری ہوتی ہے۔CMIE&ITDرپورٹ نے سروے ڈیپارٹمنٹ کے کردار پر بھی سوال اٹھایا ہے ۔رپورٹ کے مطابق دستیاب ریکارڈ اور ریونیو افسران کے بیانات کی بنیاد پر یہ الزام سامنے آیا کہ سرکاری ناکلاس زمین سے نئے سروے نمبر نکالے گئے اور حد بندی میں نجی افراد کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچایا گیا۔تحقیقاتی ٹیم نے سروے سپرنٹنڈنٹ سے ایسے سروے نمبروں کی تفصیل بھی طلب کی، مگر رپورٹ کے مطابق مطلوبہ جواب فراہم نہیں کیا گیا۔اگر زمین کا اصل ریکارڈ ایک جگہ بنتا ہے ، سروے دوسری جگہ ہوتا ہے ، حد بندی تیسری جگہ ہوتی ہے اور قبضہ چوتھی جگہ منتقل ہوتا ہے تو پھرکیا یہ سب الگ الگ اتفاقات تھے یا ایک مربوط انتظامی سلسلہ؟یہ سوال رپورٹ کے بعد بھی زندہ رہتا ہے ۔
اینٹی انکروچمنٹ:قبضہ کس کے نام پر؟
رپورٹ نے اینٹی انکروچمنٹ اہلکاروں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا ہے ۔حق نواز اجن اور امجد بھٹی کے بارے میں رپورٹ میں بعض معاملات میں اینٹی انکروچمنٹ اہلکاروں کے نام بھی لیے گئے ہیں، جن میں فیضان کریم، بابر راؤ مکرّم اور دیگر شامل ہیں۔رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ بعض نجی زمینوں کے قبضے کے معاملات میں اینٹی انکروچمنٹ اہلکاروں کی موجودگی یا مبینہ ملی بھگت کا کردار تھا۔
100 سے زیادہ ایف آئی آرز ایک اور حیران کن دعویٰ
حق نواز اجن اور امجد بھٹی کے بارے میں رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ انہوں نے ضلع غربی میں 100سے زیادہ افراد کے خلاف مقدمات درج کرائے اور رپورٹ نے اس عمل کو اپنی گرفت قائم کرنے اور عوام پر دباؤ ڈالنے کے الزام سے جوڑا۔یہ دعویٰ بھی اپنی جگہ ایک الگ تحقیق کا تقاضا کرتا ہے ۔اگر 100سے زیادہ مقدمات درج ہوئے توان میں کتنے مقدمات درست ثابت ہوئے ؟کتنے ختم ہوئے ؟کتنے میں چالان پیش ہوا؟کتنے میں ملزمان بری ہوئے ؟اور کتنے مقدمات صرف زمین کے تنازع میں دباؤ کے لیے استعمال ہوئے ؟یہ وہ معلومات ہیں جو رپورٹ کے بعد اگلے مرحلے کی آزادانہ تحقیق کا حصہ ہونی چاہئیں۔
5,000 ؍ایکڑ اور 250 بلین کا سوال
اب آتے ہیں اس رپورٹ کے سب سے بڑے عدد پر۔CMIE&ITDرپورٹ کے مطابق ضلع غربی، بالخصوص منگھوپیر کی ناکلاس
سرکاری زمین میں تقریباً پانچ ہزار ایکڑزایسی زمین سامنے آئی جسے رپورٹ نے مبینہ غیر قانونی انتقالات کے ذریعے نجی افراد تک پہنچنے سے جوڑا۔رپورٹ نے مختلف علاقوں میں زمین کی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے اوسط50 ؍ملین فی ایکڑکا اندازہ لگایا اور یوں مجموعی مالیت تقریباً 250 بلین روپے بتائی۔یہ عدد چونکا دینے والا ہے ۔جو تحقیقاتی رپورٹ کا بھی محتاط تخمینہ ہے۔
کراچی ایسٹ، ملیر اور کورنگی کا خلا
رپورٹ نے ضلع شرقی، ملیر اور کورنگی کے 2012سے 2023کے ریکارڈ بھی طلب کیے تھے ۔لیکن رپورٹ کے مطابق مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔یہاں ایک عجیب صورت حال پیدا ہوتی ہے ۔تحقیق نے ایک بڑے ممکنہ مسئلے کی نشاندہی کی، مگر جس ریکارڈ سے یہ معلوم ہوسکتا تھا کہ یہی طریقہ کراچی کے دوسرے اضلاع میں بھی استعمال ہوا یا نہیں، یہ سنجیدہ تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے۔سوال موجود ہے کہ اگر ضلع غربی میں یہ سب ممکن تھا تو مشرقی، ملیر اور کورنگی میں کیا ہوا؟
نام بہت ہیں، مگر اصل سوال ایک ہے
رپورٹ کے مختلف حصوں میں کئی ریونیو افسران اور اہلکاروں کے نام آتے ہیں۔ان میں عبدالجلیل بروہی، ابراہیم جونیجو، ممتاز علی کلور، ابو بکر، محمد ہاشم شیخ، دوست محمد سومرو، نیاز احمد جَمڑو، سید عابد علی، خان محمد عمرانی، جمال الدین مہر، سلیم رضا پاہورے اور دیگر شامل ہیں۔رپورٹ کے مختلف حصوں میں بعض دیگر افسران کے نام بھی زمین، سروے ، اندراجات یا متعلقہ انتظامی معاملات کے تناظر میں آتے ہیں۔لیکن یہاں بھی ناموں کی ایک طویل فہرست بنانا مقصد نہیں۔اصل سوال یہ ہے :کس افسر نے کیا کیا؟کس تاریخ کو کیا کیا؟کس اندراج پر دستخط کیے ؟کس حکم کی بنیاد پر کیا؟کس زمین کا ریکارڈ کس کے پاس تھا؟اور پھر اس کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟نام صرف آغاز ہیں۔ دستاویزی ذمہ داری اصل منزل ہے ۔
چارج شیٹ اور سزا میں زمین آسمان کا فرق
یہاں ایک بار پھر اس قسط کا بنیادی قانونی اصول یاد رکھنا ضروری ہے ۔رپورٹ نے بعض افسران کے خلاف چارج شیٹ تیار کیں۔کسی جگہ نیب کو کارروائی کے لیے معاملہ بھیجنے کی سفارش کی گئی۔کسی جگہ اثاثوں کی چھان بین کی سفارش ہوئی۔لیکن چارج شیٹ سزا نہیں۔ نیب
کو سفارش ریفرنس نہیں۔ریفرنس سزا نہیں۔اور الزام جرم کا حتمی ثبوت نہیں۔اسی لیے اس قسط میں ہم کرپشن ثابت ہوگئی نہیں لکھ رہے ۔
ہم یہ لکھ رہے ہیں کہ ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ نے کرپشن، جعل سازی، غیر قانونی اندراجات، ریکارڈ میں ردوبدل اور سرکاری زمین کی مبینہ منتقلی کے سنگین الزامات عائد کیے اور بعض اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی۔یہ فرق ہماری صحافت کی طاقت ہے ، کمزوری نہیں۔
رپورٹ کا سب سے خطرناک جملہ
رپورٹ کے اختتام میں ایک نہایت سنگین نتیجہ اخذ کیا گیا ہے ۔اس کے مطابق لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ اور ضلع ریونیو حکام نے سپریم کورٹ کے 28 ؍ نومبر 2012 ء کے حکم کی خلاف ورزی کی، اور 2012سے 2022تک کراچی میں سرکاری زمین کے ریکارڈ کے حوالے سے جعل سازی اور فراڈ کا ایک طویل سلسلہ سامنے آیا۔رپورٹ نے اس مبینہ عمل کو الاٹمنٹ، میوٹیشن، سروے ، حد بندی، قبضے اور بعد کی منتقلی سے منسلک مختلف سرکاری دفاتر کے درمیان ملی بھگت سے جوڑا۔اور پھر ایک ایسا سوال اٹھایا جس کا جواب آج بھی سب سے اہم ہے ،پورے عمل میں مؤثر احتساب کا نظام کہاں تھا؟اگر یہ دعوے درست ہیں تو مسئلہ چند بدعنوان اہلکاروں کا نہیں۔پھر مسئلہ نظام کے ڈیزائن کا ہے ۔
زمین کیسے نجی ہوجاتی ہے ؟
یہاں اس پوری تحقیق کو ایک سادہ مثال سے سمجھیں۔ایک سرکاری زمین ہے ۔پہلا قدم:کسی کاغذ میں الاٹمنٹ۔دوسرا:ریونیو ریکارڈ میں اندراج۔تیسرا:سروے نمبر۔چوتھا:حد بندی۔پانچواں:قبضہ۔چھٹا:نجی نام۔ساتواں:سوسائٹی یا منصوبہ۔آٹھواں:بعد کی خرید و فروخت۔
اور آخر میں ایک دن کوئی شخص اس زمین پر کھڑا ہوکر کہتا ہے :یہ میری زمین ہے ، میرے پاس کاغذات ہیں۔اصل صحافتی سوال یہ نہیں کہ اس کے ہاتھ میں کاغذ ہے یا نہیں۔اصل سوال یہ ہے :اس کاغذ تک پہنچنے کے لیے ریاستی مشینری نے کتنے دروازے کھولے ؟اور اگر وہ دروازے غیر قانونی طور پر کھلے تو انہیں کھولنے والے کون تھے ؟اور شرجیل میمن صاحب یہ سوال فیک نیوز نہیں ہے؟
پھر کیا ہوا؟
یہ وہ سوال ہے جو ہماری پوری سیریز کا بنیادی اصول بن چکا ہے ۔پھر کیا ہوا؟رپورٹ بن گئی۔چارج شیٹس تیار ہوگئیں۔افسران کے نام آگئے ۔نیب کو کارروائی کی سفارش ہوگئی۔پانچ ہزار ایکڑز کا تخمینہ سامنے آگیا۔ 250بلین کی ممکنہ مالیت لکھی گئی۔مگر اس کے بعد؟کیا زمین واپس آئی؟کیا مشکوک اندراجات منسوخ ہوئے ؟کیا ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی مکمل ہوئی؟کیا کسی عدالت نے کسی شخص کو مجرم قرار دیا؟کیا نیب نے ریفرنس دائر کیا؟کیا کسی نجی مستفید کو زمین واپس کرنی پڑی؟کیا 250بلین کے تخمینے کو کسی آزاد ادارے نے جانچا؟کیا ضلع شرقی، ملیر اور کورنگی کا باقی ریکارڈ بھی کھولا گیا؟اور سب سے بڑھ کرکیا 2023 کی اس تحقیق کے بعد وہ انتظامی طریقہ کار تبدیل ہوا جس پر خود رپورٹ نے انگلی اٹھائی تھی؟جب تک ان سوالوں کے جواب سامنے نہیں آتے ، رپورٹ ایک انتہائی اہم تحقیقاتی نقشہ ضرور ہے ، مگر آخری فیصلہ نہیں۔
اصل کہانی زمین سے بڑی ہے
اس قسط کا موضوع صرف کراچی کی زمین نہیں۔یہ اس سوال کا بھی امتحان ہے کہ ریاست اپنے ہی ریکارڈ کو کتنی سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔ ایک طرف حکومت عوام، میڈیا اور سوشل میڈیا کے لیے درست معلومات اور غلط معلومات کا معیار مقرر کرنا چاہتی ہے ۔دوسری طرف جب عوامی زمین، سرکاری ریکارڈ، الاٹمنٹ، انتقال، سروے اور اربوں روپے کی ممکنہ سرکاری مالیت کا سوال اٹھتا ہے تو عوام بھی یہی حق رکھتے ہیں کہ وہ پوچھیں:اصل ریکارڈ کہاں ہے ؟اگر کسی صحافی کی خبر کے لیے دستاویز مانگی جاتی ہے تو سرکاری دعوے کے لیے بھی دستاویز ہونی چاہیے ۔اگر شہری سے کہا جاتا ہے کہ الزام لگانے سے پہلے ثبوت دو، تو ریاست سے بھی یہی سوال کیا جاسکتا ہے :ثبوت کہاں ہے کہ زمین قانونی طریقے سے منتقل ہوئی؟اور اگر حکومت کسی خبر کو فیک قرار دے سکتی ہے تو عوام کو یہ پوچھنے کا بھی پورا حق ہے :کیا سرکاری ریکارڈ کے خلاف آنے والی خبر کو غلط کہنے سے پہلے حکومت نے اپنا ریکارڈ کھول کر دیکھا؟
اے جی مجید سسٹم کی جانچ ابھی باقی ہے
سندھ حکومت کے متوازی ایک ایسا نظام بھی کام کر رہا ہے، جسے اے جی سسٹم کہا جاتا ہے، جوان دنوں نظام کی داخلی کشاکش کے باعث خاموشی کی چادر اوڑھے ہوئے ہے، مگر درحقیقت سندھ کے ریونیو سسٹم، کراچی کی زمینوں کے ساتھ جو سلوک اس سسٹم نے کیا ہے، وہ راجہ پورس کے ہاتھیوں نے بھی نہیں کیا تھا۔ ایک مفتوحہ سرزمین کی طرح یہ نظام کراچی کی زمینوں کو نگلتا رہا، جرأت نے نہایت عرق ریزی سے اس سسٹم کی تہہ داریوں میں جھانکا ہے اور اس سسٹم سے ہڑ پ کیے گئے پیسے اربوں ڈالر ز سے زیادہ بنتے ہیں۔ اس سسٹم کو قسط وار ایک نئے سلسلے میں زیربحث لایا جائے گا۔ جس میں کراچی کی مختلف اتھارٹیز کے تحت ڈیل ہونے والی زمینوں سے لے کر سندھ حکومت کے اندر ہونے والی تعیناتیوں کے اندر پھیلائے گئے منفعت بخش کھیل سے بٹوری گئی رقم کے بیرون ملک منتقلی (منی لانڈرنگ )کے حساس معاملات بھی شامل ہوں گے۔
- اس قسط کا موضوع صرف کراچی کی زمین نہیں۔یہ اس سوال کا بھی امتحان ہے کہ ریاست اپنے ہی ریکارڈ کو کتنی سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔ ایک طرف حکومت عوام، میڈیا اور سوشل میڈیا کے لیے درست معلومات اور غلط معلومات کا معیار مقرر کرنا چاہتی ہے ۔دوسری طرف جب عوامی زمین، سرکاری ریکارڈ، الاٹمنٹ، انتقال، سروے اور اربوں روپے کی ممکنہ سرکاری مالیت کا سوال اٹھتا ہے تو عوام بھی یہی حق رکھتے ہیں کہ وہ پوچھیں:اصل ریکارڈ کہاں ہے ؟اگر کسی صحافی کی خبر کے لیے دستاویز مانگی جاتی ہے تو سرکاری دعوے کے لیے بھی دستاویز ہونی چاہیے ۔اگر شہری سے کہا جاتا ہے کہ الزام لگانے سے پہلے ثبوت دو، تو ریاست سے بھی یہی سوال کیا جاسکتا ہے :ثبوت کہاں ہے کہ زمین قانونی طریقے سے منتقل ہوئی؟
زمین خاموش نہیں رہتی
زمین بولتی نہیں۔مگر اس کے کھاتے بولتے ہیں۔اس کے انتقال بولتے ہیں۔اس کے سروے نمبر بولتے ہیں۔اس کی حد بندی بولتی ہے۔ اس کی الاٹمنٹ بولتی ہے ۔اس کے رجسٹر بولتے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر، اس کے کاغذات بولتے ہیں۔CMIE&ITDکی رپورٹ نے کراچی کی سرکاری زمین کے بارے میں ایک انتہائی سنگین تصویر پیش کی ہے ۔ہم نے اس تصویر کو حتمی حقیقت قرار نہیں دیا۔ہم نے اسے عدالت کا فیصلہ نہیں بنایا۔ہم نے کسی الزام کو سزا نہیں بنایا۔ہم نے صرف وہ سوال اٹھایا ہے جو خود اس رپورٹ سے پیدا ہوتا ہے :
اگر سرکاری زمین واقعی غیر قانونی طریقے سے نجی ہاتھوں تک پہنچی، تو ذمہ دار کون ہے ؟اور اگر رپورٹ کے بعض دعوے درست نہیں تھے تو پھر حکومت کے پاس ان دعووں کو غلط ثابت کرنے والا ‘اصل ریکارڈ’کہاں ہے ؟کیونکہ آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ:زمین کہاں گئی؟
اصل سوال یہ ہے :زمین کس کے نام ہوئی، کس کے حکم سے ہوئی، کس ریکارڈ پر ہوئی اور آج وہ ریکارڈ کس کے پاس ہے ؟اور شاید اس سے بھی بڑا سوال:ریاست جب دوسروں کی خبر کی سچائی جانچتی ہے ، تو اپنے ریکارڈ کی سچائی کون جانچے گا؟
(جاری ہے)
٭٭٭


