زمین کی ہیرا پھیری سے یلو لائن تک۔۔۔ جب خبر، ریکارڈ اور احتساب ایک ہی سوال بن جائیں
شیئر کریں
نجم انوار
۔۔۔۔۔
قسط چہارم
٭وزیر اطلاعات شرجیل میمن خود ماضی میں بڑے احتسابی مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں،2016ء میں نیب نے ان کے خلاف سندھ حکومت کی اشتہاری مہمات سے متعلق ایک ریفرنس دائر کیا تھا
٭ منگھوپیر میں نا کلاس تقریباً 5؍ہزارایکڑسرکاری زمین کو غیر قانونی انتقالات کے ذریعے نجی افراد کو منتقل کیا گیا، مختلف دیہات میں زمین کی قیمتوں کی بنیاد پر اس کی تخمینی مالیت تقریباً 250 بلین روپے ہے
٭سپریم کورٹ سے سرکاری زمینوں کے معاملات پر پابندی کے باوجود منگھوپیر میں ریکارڈ آف رائٹس میں متعدد اندراجات ، لین دین ہوئے اور سرکاری زمینوں کے لیے این او سی یا سیل سرٹیفکیٹس بھی جاری ہوئے
٭مارچ 2025میں شرجیل میمن کی زیرصدارت یلو لائن اجلاس میں ضمیر عباسی نے بریفنگ دی،جون 2026میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کے خلاف 8.5 بلین کی غیر معمولی پیشگی ادائیگی کا مقدمہ سامنے آیا
٭ یلو لائن کیس میں ضمانت کے بعد 19؍ستمبر کو ایف آئی اے نے ضمیر عباسی کو ایک الگ فارن ایکسچینج، مالیاتی مقدمے میں گرفتار کر لیا۔ جس میں سرکاری اکاؤنٹس سے رقوم بیرونِ ملک منتقل کرنے کی تحقیقات جاری ہے
٭ نیب کے مطابق 2013سے 2015کے دوران تقریباً 5.766 بلین روپے سات اشتہاری کمپنیوں کو ادا کیے گئے اور سندھ حکومت کو مبینہ طور پر3.279 بلین روپے کا نقصان پہنچا
٭ خبر میں سرکاری ریکارڈ،ایف آئی آر، آڈٹ رپورٹ، عدالتی کارروائی یا احتسابی ریفرنس موجود ہو تو اسے صرف اس لیے ‘‘فیک نیوز’’ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حکومت کے لیے ناگوار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنیادی سوال
اگر ریاستی ادارے عوامی اطلاعات، میڈیا اور سوشل میڈیا کی نگرانی کر سکتے ہیں تو کیا عوام اور صحافت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریاست کے اپنے فیصلوں، ریکارڈ، منصوبوں، ادائیگیوں اور احتسابی کارروائیوں کا اسی سختی سے جائزہ لیں؟پچھلی اقساط میں سوال یہ تھا کہ ‘‘فیک نیوز’’ کی تعریف کون کرتا ہے اور حکومت کی جانب سے معلومات کی نگرانی کہاں تک جائز ہے ۔ اس قسط میں سوال کو کاغذ سے زمین تک لے جایا جا رہا ہے ۔
یہاں کہانی کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک افسر کے بارے میں نہیں۔ یہ اس نظام کو دیکھنے کی کوشش ہے جس میں ایک طرف حکومت کے پاس خبر کی نگرانی، وضاحت، تردید اور اپنے مؤقف کی تشہیر کے لیے باقاعدہ ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے ، جبکہ دوسری طرف اسی حکومت کے زیرانتظام زمین، ترقیاتی منصوبوں، ادائیگیوں اور سرکاری ریکارڈ میں ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کے جواب بھی عوامی ریکارڈ سے ملنے چاہئیں۔اور کراچی کی سرکاری زمین کے بعد ‘‘یلو لائن بی آر ٹی’’اس سوال کی ایک نئی اور اہم مثال سامنے لاتی ہے ۔
1۔ کراچی کی سرکاری زمین:ریکارڈ میں کیا ملا؟
کراچی میں سرکاری زمین کے بارے میں وزیرِ اعلیٰ انسپیکشن، انکوائریز اینڈ امپلی منٹیشن ٹیم (CMIE&ITD)کی رپورٹ نے ایک ایسا ریکارڈ سامنے رکھا جسے محض زمین کا تنازع قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق ضلع غربی کے منگھوپیر میں نا کلاس کی تقریباً 5؍ہزارایکڑ سرکاری زمین کو مبینہ طور پر غیر قانونی انتقالات کے ذریعے نجی افراد کو منتقل کیا گیا۔ رپورٹ نے مختلف دیہات میں زمین کی قیمتوں کی بنیاد پر اس کی تخمینی مالیت تقریباً 250 بلین روپے بیان کی ہے ۔ یہ رقم عدالت سے ثابت شدہ سرکاری نقصان نہیں بلکہ خود انکوائری رپورٹ کا تخمینہ ہے ۔رپورٹ کا ایک بنیادی حوالہ سپریم کورٹ کا 28 ؍ نومبر 2012کا فیصلہ ہے ، جس کے بعد بعض سرکاری زمینوں کے معاملات پر پابندی موجود تھی۔ اس کے باوجود رپورٹ کے مطابق منگھوپیر میں ریکارڈ آف رائٹس میں متعدد اندراجات کیے گئے ، بعد کے لین دین ہوئے اور بعض سرکاری زمینوں کے لیے این او سی یا سیل سرٹیفکیٹس بھی جاری ہوئے ۔
یہاں الزام صرف کسی ایک اہلکار پر نہیں رک جاتا۔ رپورٹ میں لینڈ یوٹیلائزیشن، ریونیو، سروے اور اینٹی انکروچمنٹ سے متعلق متعدد اہلکاروں کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے ۔ بعض افراد کے خلاف چارج شیٹس تیار کرنے اور معاملات نیب کو بھیجنے کی سفارش بھی کی گئی۔رپورٹ نے یہ بھی لکھا کہ 2023میں معائنہ کے دوران لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ کے بعض متعلقہ افسران دستیاب نہیں تھے اور حساس فائلیں نچلے گریڈ کے اہلکاروں کے پاس تھیں۔ ضلع ایسٹ، ملیر اور کورنگی کے 2012سے 2023تک کے بعض مطلوبہ ریکارڈ بھی تفتیشی ٹیم کو فراہم نہیں کیے گئے ۔یہاں اصل سوال رقم سے بھی پہلے ریکارڈ کا ہے ۔اگر سرکاری زمین کی مالک ریاست ہے تو اس زمین کے ریکارڈ میں تبدیلی کس اختیار، کس دستاویز اور کس نگرانی کے تحت ہوئی؟اور اگر ریکارڈ ہی دستیاب نہ ہو تو پھر جواب دہی کس بنیاد پر ہوگی؟اس سرکاری زمین پر ہاتھ صاف کرنے والے افراد ، بلڈرز اور سسٹم مافیا کے کارندوں کی نام بہ نام اور مقام بہ مقام تفصیلات الگ سے شائع کی جائے گی۔
- اگر 8.5 بلین روپے کی ادائیگی واقعی غیر قانونی تھی تو ذمہ داری آخر کس سطح پر طے ہوگی؟صرف ایک پروجیکٹ ڈائریکٹر پر؟صرف پروکیورمنٹ کے افسر پر؟یا ان تمام منظوریوں، نگرانی کے مراحل اور ادارہ جاتی فیصلوں پر بھی جن کے ذریعے اتنی بڑی رقم جاری ہوئی؟یا کوئی اوپر بھی ہاتھ تھا، جو سرکاری سرپرستی کے ساتھ سمیٹنے والا بھی تھا۔خود عدالت کے تفتیش پر سوال کے بعد عوام میں سوالات کا پیدا ہونا بھی فطری ہے، عوامی دولت کے ساتھ اس سلوک پر عوامی سوال کیا فیک نیوز کے زمرے میں آئے گا؟

سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی
2۔ یلو لائن:جب 8.5بلین کا سوال سامنے آیا
زمین کے بعد یلو لائن بی آر ٹی کا معاملہ اس لیے اہم ہے کہ یہاں بھی بنیادی سوال سرکاری وسائل، اختیار اور نگرانی کا ہے ۔یلو لائن بی آر ٹی، کراچی اربن موبیلٹی پروجیکٹ کا اہم حصہ ہے ۔ اس منصوبے کے لیے سندھ حکومت اور عالمی بینک سمیت مختلف ادارے مالی و انتظامی طور پر منسلک ہیں۔ موجودہ سرکاری پروجیکٹ ریکارڈ میں شرجیل انعام میمن کو ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کا نگران وزیر جبکہ ضمیر عباسی کو اس منصوبے کا سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر دکھایا گیا ہے ۔مارچ 2025میں شرجیل میمن کی زیرصدارت یلو لائن سے متعلق اجلاس میں ضمیر عباسی نے خود منصوبے کی پیش رفت پر بریفنگ دی تھی۔ اس اجلاس میں منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی مسائل اور تعمیراتی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔یہ انتظامی تعلق اس لیے اہم ہے کہ جون 2026میں اسی منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کے خلاف 8.5 بلین روپے کی مبینہ غیر معمولی پیشگی ادائیگی کا مقدمہ سامنے آیا۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ(ACE )کے مطابق ٹھیکیداروں کو یہ رقم ایسی پیشگی ادائیگی کی صورت میں دی گئی جس کے لیے معاہدوں میں واضح شق موجود نہیں تھی، جبکہ مبینہ طور پر مطلوبہ بینک گارنٹیز بھی موجود نہیں تھیں۔ ایف آئی آرمیں منصوبے کے مالی انتظام کو شدید بے ضابطگیوں سے تعبیر کیا گیا اور ضمیر عباسی اور اس وقت کے ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جمن داس سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا۔
موجودہ ریکارڈ میں یہ رقم ایک مبینہ غیر مجاز یا معاہدے سے متصادم پیشگی ادائیگی کے مقدمے کا مرکز ہے ۔ حتمی ذمہ داری عدالت یا مکمل قانونی کارروائی سے طے ہونی ہے ۔
3۔ ضمیر عباسی:گرفتاری کے بعد کہانی کہاں پہنچی؟
22 ؍جون 2026 کو ضمیر عباسی کو لاہور سے گرفتار کیا گیا، کراچی لایا گیا اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE)کی تحویل میں دیا گیا۔ وہ گریڈ 19 کے سندھ حکومت کے افسر اور کراچی موبیلٹی پروجیکٹ کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر تھے ۔ابتدائی کارروائی میں ان کا جسمانی ریمانڈ بڑھایا گیا۔ 2 جولائی کو عدالت نے ان کی ڈسچارج کی درخواست مسترد کی، جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی اور عبوری چارج شیٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔12جولائی کو صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے ان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
لیکن معاملہ یہیں نہیں رکا۔
17 ؍ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ضمیر عباسی کو 10 ملین کی ضمانت پر بعد از گرفتاری ضمانت دے دی۔ عدالت نے ایک اہم نکتہ اٹھایا: رقم بہت بڑی دکھائی گئی تھی، لیکن تفتیشی ادارے نے اپنا کام مناسب طور پر نہیں کیا اور تفتیش میں کئی خامیاں رہ گئی تھیں۔ عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ CMIE&ITDاس نوعیت کی انکوائری شروع کرنے کا مجاز تھا یا نہیں۔یہاں پھر وہی بنیادی اصول سامنے آتا ہے : ضمانت بریت نہیں ہوتی۔لیکن اسی طرح گرفتاری بھی جرم ثابت ہونا نہیں ہوتی۔ایک سنجیدہ تحقیق کو دونوں باتیں بیک وقت یاد رکھنی پڑتی ہیں۔
4۔ پھر ایک دوسرا مقدمہ سامنے آیا
یلو لائن کیس میں ضمانت کے بعد 19؍ستمبر کو ایف آئی اے نے ضمیر عباسی کو ایک الگ فارن ایکسچینج، مالیاتی مقدمے میں گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے کے مطابق اس کیس میں سرکاری اکاؤنٹس سے مبینہ طور پر رقوم بیرونِ ملک منتقل کرنے ، فارن ایکسچینج قوانین کی خلاف ورزی اور دیگر معاملات کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ 26؍ستمبر کی عدالتی کارروائی میں ان کا جسمانی ریمانڈ مزید بڑھایا گیا۔یہ دونوں مقدمات الگ ہیں۔اب یلو لائن کے8.5 بلین روپے کیس کے علاوہ ایف آئی اے کے اگلے مقدمہ کے الزامات سے تناظر واضح ہے کہ پیشگی ادائیاں اور بیرون ملک رقوم منتقلی کے درمیان کوئی تعلق ہوگا، اگر نہیں تو بھی یہاں ایک سرکاری افسر کے ہاتھوں میں موجود رقوم اس کی اپنی قانونی کمائی یا دستاویزی بساط سے زیادہ ہے۔ یہاں کالی دولت کی

یلو لائن مین کوریڈور کا لے آؤٹ جس کی لکیروں کے درمیان بدعنوانیوں کے راستے بھی بنائے گئے
موجودگی کا اشتباہ کوئی غیر منطقی نکتہ نہیں، سوال یہ ہے کہ یہ نکتہ اُٹھانا کیا فیک نیوز کے زمرے میں آئے گا یا نہیں؟
5۔ اور پھر عدالت نے خود تفتیش پر سوال اٹھا دیا
یہ شاید اس کیس کا سب سے اہم موڑ ہے ۔26؍ستمبر 2026کو سندھ ہائی کورٹ نے یلو لائن کے 8.5 بلین روپے مقدمے میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے چارج شیٹ پیش کرنے میں تاخیر پر سخت سوالات اٹھائے ۔عدالت نے معاملے کو مزید تحقیقات کے لیے نیب کو بھیجنے کے امکان پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے وضاحت طلب کی۔ اس سے پہلے عدالت خود یہ نشاندہی کر چکی تھی کہ ابتدائی تفتیش میں خامیاں موجود ہیں۔یوں چند ماہ کے اندر کیس کا سفر کچھ یوں بنتا ہے :انکوائری ،ایف آئی آر، گرفتاری، ریمانڈ، عبوری، چارج شیٹ، ضمانت، تفتیشی خامیوں کی عدالتی نشاندہی ، چارج شیٹ میں تاخیر، ممکنہ نیب تحقیقات کا سوال۔یہ سلسلہ خود ایک خبر ہے ۔اور اس خبر کا اگلا سوال یہ ہے :اگر 8.5 بلین روپے کی ادائیگی واقعی غیر قانونی تھی تو ذمہ داری آخر کس سطح پر طے ہوگی؟صرف ایک پروجیکٹ ڈائریکٹر پر؟
صرف پروکیورمنٹ کے افسر پر؟یا ان تمام منظوریوں، نگرانی کے مراحل اور ادارہ جاتی فیصلوں پر بھی جن کے ذریعے اتنی بڑی رقم جاری ہوئی؟یا کوئی اوپر بھی ہاتھ تھا، جو سرکاری سرپرستی کے ساتھ سمیٹنے والا بھی تھا۔خود عدالت کے تفتیش پر سوال کے بعد عوام میں سوالات کا پیدا ہونا بھی فطری ہے، عوامی دولت کے ساتھ اس سلوک پر عوامی سوال کیا فیک نیوز کے زمرے میں آئے گا؟
6۔ یہ گرفتاری کس کس کو متاثر کرتی ہے ؟
ضمیر عباسی کی گرفتاری کے کچھ گہرے مضمرات و اثرات بھی ہیں۔ یہ ایک دھاگہ ہے جو اپنے ‘اثرات’ سے اوپر تک موجود لوگوں کو سوالات کے دائرے میں باندھتا چلا جاتا ہے،یہ دھاگہ کب ہتھکڑی بن کر ملزمان کو باندھتی چلی جائے، پاکستان میں ذرا سی سیاسی سوچ بدلتے ہی ایسے مناظر بننے میں دیر نہیں لگتی،مگر پھر بھی یہاں‘‘ اثرات’’ کا مطلب کسی شخص پر جرم عائد کرنا نہیں، بلکہ انتظامی اور جواب دہی کے دائرے کو سمجھنا ہے ۔
سب سے پہلے ، اس کا تعلق کراچی موبیلٹی پروجیکٹ کے انتظامی ڈھانچے سے ہے ۔
دوسرا، اس کا تعلق ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ سے ہے ، جس کے موجودہ نگران وزیر شرجیل انعام میمن ہیں۔ سرکاری پروجیکٹ ریکارڈ میں بھی انہیں یلولائن کی سپروائزری اتھارٹی کے طور پر درج کیا گیا ہے ۔
تیسرا، اس کا تعلق ان اداروں سے ہے جنہوں نے منصوبے کی مالی، تکنیکی اور انتظامی نگرانی کی۔
لیکن یہاں ایک بنیادی قانونی لکیر بھی ہے :ضمیر عباسی کی گرفتاری سے ازخود کسی پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوجاتا۔مگر یہاں یہ نکتہ اُٹھانا کوئی غیر قانونی معاملہ کیونکر ہو سکتا ہے جو پاکستان کے مروجہ معاملات میں ہر اسکینڈلز سے نکلتا ہے کہ اس قسم کے اسکینڈلز جہاں سامنے آتے ہیں وہاں نچلے سطح کی کچھ گرفتاریاں کرکے‘ اصل لوگوں ’کو خوف زدہ کیاجاتا ہے۔ اس کے پس پردہ بڑے کھیل یا سیاسی اہداف ہوتے ہیں۔ یہ پاکستان کے اندر عام طور پر ہوتا ہے، چنانچہ یہاں ایسا کوئی شک اگر پیدا ہوتا ہے اور اس کا اظہار بھی ہوتا ہے ، تو یہ بالکل فطری ہوگا۔ کیادقانونی لکیر واضح ہونے کے باجوود ایک ‘‘پیٹرن’’ کے طور پر یہ ایک کھلا کھیل نہیں۔ اب اس پر نگرانی او رجواب دہی کا کوئی دائرہ بنایا جاتا ہے ، تو یہ غلط تونہیں۔ جب ایک منصوبے کے تحت اربوں روپے کی ادائیگیوں پر مقدمہ قائم ہو اور اس منصوبے کی سیاسی نگرانی ایک وزیر کے پاس ہو تو عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ منظوری کا پورا انتظامی سلسلہ کیا تھا، کس نے کیا منظور کیا، کس نے اعتراض کیا، کس نے نگرانی کی اور کس مرحلے پر احتسابی ادارے کو شکایت پہنچی؟یہ سوال کسی کو مجرم قرار نہیں دیتا۔لیکن یہ سوال پوچھنا عوامی مفاد ہے ۔
7۔ دلچسپ اتفاق:یہی وزیر اطلاعات بھی ہیں
یہاں اس سلسلہ تحریر کا اصل سوال دوبارہ سامنے آتا ہے ۔شرجیل انعام میمن اس وقت سندھ حکومت میں اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کے قلم دان رکھتے ہیں۔ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ انہیں سینئر منسٹر برائے اطلاعات ، ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ قرار دیتی ہے ۔یعنی ایک ہی انتظامی دائرے میں دو الگ ذمہ داریاں موجود ہیں:ایک طرف:حکومت کے بارے میں خبروں کی نگرانی، تردید، وضاحت اور سرکاری مؤقف۔دوسری طرف:اربوں روپے کے عوامی ٹرانسپورٹ منصوبوں کی سیاسی نگرانی۔ابھی یہاں بطور وزیر اطلاعات مفادات کے ٹکراؤ والے اُن کے مختلف پراجیکٹس اور کاروباری منصوبے زیربحث نہیں لائے جا رہے، جو اُن کی موجودہ ذمہ داریوں کوزیادہ قانونی سوالات کے نرغے میں لاتے ہیں۔
بہر کیف! سندھ حکومت خود بتاتی ہے کہ اس کاڈائریکٹورٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریپڈ ریسپانس سینٹرٹی وی چینلز کی نگرانی کرتا ہے ، حکومت کے بارے میں رپورٹ ہونے والی خبروں کا جائزہ لیتا ہے اور ایسی رپورٹ کو، جو حکومت کے مطابق ،توڑ مروڑ کر یا مبالغہ آمیز طور پر یا پھرسیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی جاتی ہو تو اس کے خلاف تردید، وضاحت یا سرکاری مؤقف جاری کرنے میں متعلقہ محکموں کی مدد کرتا ہے ۔اسی طرح محکمہ اطلاعات کی اپنی ویب سائٹ کے ‘ایف اے کیو’ زمرے کے مطابق سوشل / الیکٹرانک میڈیا ڈائریکٹوریٹ حکومت کی تشہیر کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف آنے والی خبروں کی نگرانی کرتا اور اعلیٰ حکام کووضاحت، تردید یا حقیقی پوزیشن کے لیے میڈیا رجحانات سے آگاہ کرتا ہے ۔ ریسرچ اینڈ ریفرنس ڈائریکٹوریٹ بھی حکومت کے اعلیٰ حکام، چیف منسٹر، وزیر اطلاعات اور سیکریٹری اطلاعات کو حکومت کے بارے میں شائع ہونے والے موادخواہ حکومت کے حق میں ہو یا خلاف، سے آگاہ کرتا ہے ۔یہ سرکاری طور پر بیان کردہ نظام ہے ۔اس لیے سوال یہ نہیں کہ حکومت کو غلط خبر کی تردید کا حق ہونا چاہیے یا نہیں۔یقینا ہونا چاہیے ۔سوال یہ ہے کہ کیا ‘‘غلط خبر’’ کی نگرانی کا یہی سخت معیار سرکاری منصوبوں کے بارے میں سامنے آنے والی اصل، دستاویزی اور تکلیف دہ خبروں پر بھی لاگو ہوتا ہے ؟

یہی راستے اور یہی منزلیں، جہاں سوالات کے جواب فیک نیوز کی آڑ میں نہیں دیے جاتے
8۔ شرجیل میمن کا اپنا احتسابی ریکارڈ
یہ سوال اس لیے مزید اہم ہو جاتا ہے کہ شرجیل میمن خود ماضی میں بڑے احتسابی مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں۔2016میں نیب نے ان کے خلاف سندھ حکومت کی اشتہاری مہمات سے متعلق ایک ریفرنس دائر کیا تھا۔ نیب کے مطابق 2013سے 2015کے دوران تقریباً 5.766 بلین روپے سات اشتہاری کمپنیوں کو ادا کیے گئے اور سندھ حکومت کو مبینہ طور پر3.279 بلین روپے کا نقصان پہنچا۔ ستمبر 2024میں احتساب عدالت نے یہ ریفرنس، دائرۂ اختیار کے مسئلے پر نیب کو واپس کر دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے الزامات ثابت کر دیے اور اسے بریت کہنا بھی درست نہیں ہوگا۔اسی طرح 2019میں نیب نے شرجیل میمن اور دیگر کے خلاف 2.27 بلین روپے سے زائد‘ آمدن سے زائد اثاثوں’کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ دسمبر 2024میں یہ ریفرنس بھی دائرۂ اختیار کے سوال پر نیب کو واپس کیا گیا۔لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ زمین کے اسی بڑے سوال کے ایک دوسرے سرے پر بحریہ ٹاؤن کراچی کا مقدمہ موجود ہے۔فروری 2025 میں نیب نے ایک ریفرنس دائر کیا جس میں شرجیل میمن سمیت 33افراد کو نامزد کیا گیا۔ نیب کا الزام تھا کہ 2013-14 میں تقریباً 17,671.87ایکڑسرکاری زمین کی ترمیمی انتقال /تبادلہ/ چک بندی کے ذریعے منتقلی سے قومی خزانے کو 708.08 بلین روپے سے زائدکا نقصان ہوا۔ ریفرنس میں شرجیل میمن پر الزام لگایا گیا کہ اس وقت ایم ڈی اے کے چیئرمین اور بلدیات کے وزیر کی حیثیت سے انہوں نے بعض قواعد اور زمین کے ترمیمی انتقال سے متعلق فیصلوں میں کردار ادا کیا۔مئی 2026میں احتساب عدالت نے اس مقدمے میں بعض مفرور ملزمان کے خلاف دائمی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ، رپورٹ کے مطابق شرجیل میمن اور سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے اس کیس میں سندھ ہائی کورٹ سے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کر رکھی تھی۔اگرچہ یہ حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔لیکن یہ ریکارڈ ایک اہم سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ اگر ایک طرف کراچی کی سرکاری زمین کے بارے میں ایک سرکاری انکوائری ہزاروں ایکڑ زمین کے مبینہ غیر قانونی انتقالات کی بات کرتی ہے ، اور دوسری طرف ایک الگ نیب ریفرنس میں بھی شرجیل میمن کا نام بڑے پیمانے پر سرکاری زمین کی مبینہ منتقلی کے معاملے میں آتا ہے ، توریاستی نظام میں زمین، اختیار اور منظوری کے تعلق کی آزادانہ جانچ کتنی ضروری ہو جاتی ہے ؟*یہ سوال کسی الزام کو ثابت شدہ حقیقت نہیں بناتا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنے بڑے الزامات کے بعد دستاویزی جواب دہی کا معیار بھی اتنا ہی بلند ہونا چاہیے ۔ یا کم ازکم فیک نیوز کا فیصلہ ان ہاتھوں کی بازیگری نہیں بننا چاہئے۔کیوں؟
- شرجیل انعام میمن اس وقت سندھ حکومت میں اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کے قلم دان رکھتے ہیں۔ یعنی ایک ہی انتظامی دائرے میں دو الگ ذمہ داریاں موجود ہیں:ایک طرف:حکومت کے بارے میں خبروں کی نگرانی، تردید، وضاحت اور سرکاری مؤقف۔ دوسری طرف:اربوں روپے کے عوامی ٹرانسپورٹ منصوبوں کی سیاسی نگرانی۔ابھی یہاں بطور وزیر اطلاعات مفادات کے ٹکراؤ والے اُن کے مختلف پراجیکٹس اور کاروباری منصوبے زیربحث نہیں لائے جا رہے، جو اُن کی موجودہ ذمہ داریوں کوزیادہ قانونی سوالات کے نرغے میں لاتے ہیں۔
9۔ فیک نیوز کے خلاف کارروائی اور اصل خبر کی حفاظت
یہیں آ کر ہماری پہلی قسط کا سوال واپس آتا ہے ۔حکومت کہتی ہے کہ غلط، مبالغہ آمیز یا سیاق سے ہٹ کر خبر کا جواب دینا ضروری ہے ۔ یہ ایک جائز حکومتی ذمہ داری ہو سکتی ہے ۔لیکن اسی وقت ایک دوسرا اصول بھی ہے ،اگر خبر میں سرکاری ریکارڈ،ایف آئی آر، آڈٹ رپورٹ، عدالتی کارروائی یا احتسابی ریفرنس موجود ہو تو اسے صرف اس لیے ‘‘فیک نیوز’’ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حکومت کے لیے ناگوار ہے ۔اسے دستاویزات سے جانچنا ہوگا۔اگر خبر غلط ہے تو حکومت دستاویز سامنے لائے ۔اگر خبر درست ہے تو عوام کو مکمل تناظردیا جائے ۔اور اگر معاملہ زیرِ تفتیش ہے تو خبر کو الزام، تفتیش اور عدالتی نتیجے کے فرق کے ساتھ رپورٹ کیا جائے ۔یہی معیار صحافی پر بھی لاگو ہونا چاہیے اور ریاست پر بھی۔
اصل سوال:کون کس کو دیکھ رہا ہے ؟
کراچی کی زمین کے معاملے میں سوال تھا،سرکاری زمین کے ریکارڈ میں تبدیلی کیسے ہوئی؟یلو لائن میں سوال ہے ، 8.5بلین روپے کی پیشگی ادائیگی کس اختیار اور کس نگرانی کے تحت ہوئی؟ضمیر عباسی کے معاملے میں سوال ہے ،کیا تفتیش اتنی مضبوط تھی کہ عدالت کے سامنے قائم رہ سکے ؟اور شرجیل میمن کے معاملے میں سوال یہ نہیں کہ وہ کسی مقدمے میں ‘‘مجرم’’ ہیں یا نہیں یہ فیصلہ عدالتوں کا ہے ۔اصل سوال یہ ہے :کیا ایک ہی حکومتی نظام میں خبر کی صحت جانچنے کے لیے جو معیار دوسروں سے مانگا جاتا ہے ، وہی معیار حکومت کے اپنے مالی فیصلوں، ترقیاتی منصوبوں، زمین کی منتقلی اور احتسابی کارروائی پر بھی لاگو ہوتا ہے ؟یہی اس سیریز کا بنیادی سوال ہے ۔ریاست اگر ‘‘فیک نیوز’’ کو روکنے کے لیے نگرانی کر سکتی ہے ، تو عوامی مفاد کی صحافت کو ریاست سے یہ پوچھنے کا حق بھی ہونا چاہیے کہ اصل خبر کہاں ہے ؟اور اگر اصل خبر کسی ایف آئی آر، آڈٹ، انکوائری یا عدالتی حکم میں موجود ہے تو اسے دبانے کے بجائے دستاویز کے ساتھ عوام کے سامنے رکھنا ہی شفافیت کا تقاضا ہے ۔ (جاری ہے)
٭٭٭
(نوٹ: اس سلسلہ تحاریر میں کچھ بنیادی نوعیت کے سوالات اُٹھائے گئے ہیں، زیادہ راست طور پر سندھ حکومت کے مختلف شعبوں کی بدعنوانیوں کو سامنے نہیں لایا جا رہا، جس کی دستاویزات جرأت کے پاس موجود ہیں۔ موجودہ قسط میں منگھوپیر میں تقریباً 5؍ہزارایکڑ سرکاری زمین اور یلو لائن بی آر ٹی اسکینڈل کا محض اشارتاً ذکر کیا گیا ہے، اگلی قسطوں میں اس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مزید اسکینڈلز سے پیدا ہونے والے سوالات کے ساتھ ‘فیک نیوز’ کے تعین کی بحث کی طرف واپس رخ کریں گے)
٭٭٭


