دنیا میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور عالمی امن کا بحران
شیئر کریں
دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی رابطوں کے باوجود امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں، بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، بڑی طاقتوں کے درمیان باہمی عدم اعتماد، جوہری ہتھیاروں کی جدید کاری، معاشی پابندیاں، تجارتی کشمکش اور نئی جنگی ٹیکنالوجی نے عالمی ماحول میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے ۔ مختلف خطوں کے تنازعات اب صرف مقامی نوعیت تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات علاقائی اور عالمی سطح پر محسوس کیے جارہے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیسIEP))ایک آزاد، غیر منافع بخش تحقیقی ادارہ ہے جو دنیا میں امن، تنازعات، سلامتی، تشدد اور ان کے معاشی اثرات پر تحقیق کرتا ہے ۔ یہ ادارہ 2007 میں قائم ہوا اور اس کا مرکزی دفتر سڈنی، آسٹریلیا میں ہے ۔ آئی ای پی مختلف ممالک اور خطوں میں امن کی صورت حال، تشدد کی معاشی قیمت اور دیرپا امن کے لیے ضروری عوامل کا مطالعہ کرتا ہے ۔ اس کے تحقیقی منصوبوں میں گلوبل پیس انڈیکسGPI))سب سے نمایاں ہے ۔
گلوبل پیس انڈیکس 2026دنیا کے 163آزاد ممالک اور خطوں میں امن کی صورت حال کا جائزہ لیتا ہے ، جو دنیا کی تقریباً 99.7 فیصد آبادی کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس انڈیکس میں 23مقداری اور معیاری اشاریوں کے ذریعے ممالک کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ یہ اشاریے تین بڑے شعبوں، یعنی معاشرتی سلامتی و تحفظ، جاری داخلی و بین الاقوامی تنازعات اور عسکریت پسندی سے متعلق عوامل پر مشتمل ہیں۔
آئی ای پی کی گلوبل پیس انڈیکس 2026 رپورٹ کے مطابق دنیا میں فعال ریاستی تنازعات کی تعداد 61 تک پہنچ گئی ہے ، جو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے ۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں تنازعات کے نتیجے میں 181 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ، جو ایک نسل کے دوران بلند ترین سالانہ تعداد ہے ۔ رپورٹ کے مطابق 163 ممالک میں سے 99 کی امن پسندی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی آئی، جبکہ صرف 62 ممالک کی امن پسندی میں بہتری ہوئی۔ عالمی امن کی مجموعی صورت حال میں بھی مسلسل بارہویں سال تنزلی ریکارڈ کی گئی ہے ۔
موجودہ عالمی صورت حال میں یوکرین، سوڈان اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات خاص طور پر اہم ہیں۔ یوکرین کی جنگ نے یورپ کے سلامتی کے نظام کو متاثر کیا ہے ، جبکہ سوڈان کا تنازع بڑے پیمانے پر انسانی بحران کا سبب بن رہا ہے ۔ مشرق وسطیٰ میں فلسطین کا مسئلہ بھی عالمی سیاست کے حساس ترین مسائل میں شامل ہے ۔ ان تنازعات کے اثرات متعلقہ علاقوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری، توانائی، تجارت، خوراک اور انسانی امداد کے نظام پر بھی پڑ رہے ہیں۔
عالمی امن کے بحران کے ساتھ ساتھ دنیا میں عسکری اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ SIPRI) )سوئیڈن میں قائم ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقی ادارہ ہے جو مسلح تنازعات، اسلحے ، اسلحہ تجارت، فوجی اخراجات، اسلحہ کنٹرول اور عالمی سلامتی کے معاملات پر تحقیق کرتا ہے ۔ SIPRIدنیا کے ممالک کے فوجی اخراجات کا طویل مدتی ڈیٹا بھی مرتب کرتا ہے اور اس کا فوجی اخراجات کا ڈیٹا بیس 1949سے 2025تک کے اعداد و شمار پر مشتمل ہے ۔ دنیا میں امن کے دعووں کے باوجود جنگی تیاریوں پر خطیر رقوم خرچ کی جارہی ہیں۔ SIPRIکے مطابق 2025 میں دنیا کے مجموعی فوجی اخراجات حقیقی معنوں میں 2.9فیصد بڑھ کر 2.887ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے ۔ یہ مسلسل گیارہواں سال تھا جب عالمی فوجی اخراجات میں اضافہ ہوا۔ 2016سے 2025کے دوران عالمی فوجی اخراجات میں مجموعی طور پر 41فیصد اضافہ ہوا، جبکہ عالمی مجموعی پیداوار میں فوجی اخراجات کا حصہ 2025 میں بڑھ کر 2.5فیصد ہوگیا۔SIPRIکے مطابق 2025 میں یورپ کے فوجی اخراجات میں 14فیصد اضافہ ہوا اور یہ 864ارب ڈالر تک پہنچ گئے ، جبکہ ایشیا اور اوشیانا میں فوجی اخراجات 8.1فیصد بڑھ کر 681ارب ڈالر ہوگئے ۔ امریکہ، چین اور روس دنیا کے تین سب سے بڑے فوجی خرچ کرنے والے ممالک رہے اور ان تینوں نے مجموعی طور پر 1.480 ٹریلین ڈالر خرچ کیے ، جو دنیا کے کل فوجی اخراجات کا 51فیصد بنتا ہے ۔
عالمی بے یقینی کا ایک خطرناک پہلو جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اور ان کی جدید کاری بھی ہے ۔ جوہری طاقتیں اپنے دفاعی اور جوہری نظام کو جدید بنانے پر توجہ دے رہی ہیں۔ موجودہ کشیدہ عالمی ماحول میں کسی غلط اندازے ، حادثے یا غیر متوقع فوجی تصادم کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اس لیے بھی تشویش کا باعث ہے کہ ان سے متعلق کوئی معمولی غلط فہمی وسیع پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہے ۔
عالمی امن کو درپیش خطرات اب صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں رہے ۔ ڈرونز، مصنوعی ذہانت، سائبر حملے اور خودکار جنگی نظام نے جنگ کی نوعیت کو تیزی سے تبدیل کردیا ہے ۔ GPI 2026کے مطابق خودکار ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی اہداف کے استعمال کا پھیلاؤ عالمی تنازعات کی نوعیت کو تبدیل کررہا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق 2018سے 2025کے دوران ڈرون حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔
جنگ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ معاشی پابندیاں، توانائی کے ذرائع، خوراک، پانی، تجارت، سپلائی چین اور جدید ٹیکنالوجی بھی عالمی طاقت کے اہم ذرائع بن چکے ہیں۔ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والی جنگ یا کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو متاثر کرسکتی ہے ۔ اس طرح جنگ کا معاشی بوجھ ان ممالک تک بھی پہنچ جاتا ہے جو براہِ راست جنگ کا حصہ نہیں ہوتے ۔
عالمی بے یقینی کی ایک بنیادی وجہ بین الاقوامی اداروں پر اعتماد کا کمزور ہونا بھی ہے ۔ اقوام متحدہ کا منشور ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور طاقت کے استعمال کے حوالے سے بنیادی اصول فراہم کرتا ہے ، لیکن جب بین الاقوامی قانون کے اطلاق اور عالمی فیصلوں میں اختلافات بڑھتے ہیں تو عالمی نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے ۔ تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی اداروں کے کردار کو مؤثر بنانا اس صورت حال میں پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے ۔
اس بحران کا حل صرف مزید ہتھیار خریدنا نہیں بلکہ سفارت کاری، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور مؤثر احتساب میں ہے ۔ عالمی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک ملک کی مستقل سلامتی دوسرے ملک کے مستقل عدم تحفظ کی بنیاد پر قائم نہیں ہوسکتی۔ جنگوں کو روکنے کے لیے صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ان بنیادی سیاسی، معاشی اور علاقائی مسائل کو حل کرنا بھی ضروری ہے جو تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔
دنیا کو ایک ایسے نئے عالمی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے جس میں طاقت کے بجائے قانون، دھمکی کے بجائے مذاکرات اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جائے ۔ عالمی سطح پر اسلحہ کنٹرول، جوہری خطرات میں کمی، مصنوعی ذہانت اور خودکار ہتھیاروں کے لیے واضح بین الاقوامی ضابطے اور جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اس سمت میں اہم اقدامات ہوسکتے ہیں۔
آج عالمی امن صرف ایک مثالی تصور نہیں بلکہ پوری انسانیت کی بنیادی ضرورت ہے ۔ موجودہ حالات واضح کرتے ہیں کہ جنگ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات سرحدوں سے نکل کر پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی، باہمی عدم اعتماد اور کمزور ہوتی سفارت کاری کے رجحان کو روکنے میں ناکام رہیں تو عالمی بے یقینی مزید گہری ہوسکتی ہے ۔ دنیا کو جنگ کی تیاری سے زیادہ امن کی تیاری کی ضرورت ہے ، کیونکہ حقیقی طاقت تباہی کی صلاحیت سے زیادہ تباہی کو روکنے کی صلاحیت میں مضمر ہے ۔
٭٭٭


