این سی سی آئی اے: قانون، اختیار اور عدالت سے پہلے زندگی پر اثرانداز ہونے والے مقدمےاور فیک نیوز
شیئر کریں
نجم انوار
۔۔۔۔۔
قسط دوم
٭سائبر جرم عام جرم نہیں، جعلی شناخت، آن لائن مالی فراڈ، ڈیجیٹل بلیک میلنگ، ہیکنگ، شناختی معلومات کی چوری اور منظم آن لائن جرائم کے لیے خصوصی مہارت، ڈیجیٹل فرانزک اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوتا ہے
٭سائبر جرم ایک حقیقی اور وسیع مسئلہ ہے ۔لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ ریاست سائبر جرائم پر کارروائی کیوں کرتی ہے ؟مسئلہ یہ ہے کہ ریاست سائبر جرم اور اختلافِ رائے کے درمیان لکیر کیسے قائم رکھتی ہے ؟
٭عدالت کے سامنے یہ سوال بھی آیا کہ اگر کسی صحافی کی ایک مخصوص پوسٹ پر ایف آئی اے مقدمہ قائم کرتی ہے تو کیا اسی معیار کے تحت ہر ایسے شخص کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جس نے وہی مواد آگے بڑھایا؟
٭اگر ایک صحافی کو کسی سرکاری دستاویز سے غلط عدد مل گیا، تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ مجرم ہے ؟اگر کسی رپورٹر نے کسی ذریعے کی اطلاع شائع کی مگر بعد میں وہ غلط ثابت ہوئی، تو کیا یہ دانستہ جھوٹ تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر جھوٹی ہو تو اسے روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔کسی شہری کی عزت مجروح ہو تو قانون حرکت میں آنا چاہیے ۔ کسی عورت کو ہراساں کیا جائے ، کسی کے نام پر جعلی اکاؤنٹ بنایا جائے ، کسی کی شناخت چوری ہو، مالی فراڈ ہو یا کسی بچے کو آن لائن بلیک میل کیا جائے ،ریاست کے پاس کارروائی کا اختیار ضرور ہونا چاہیے ۔لیکن سوال وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں ‘خبر اور جرم، تنقید اور توہین، اختلاف اور انتشار، الزام اور ثابت شدہ جرم کے درمیان لکیر دھندلی ہونے لگے ’۔اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے :‘اگر یہ لکیر کھینچنے والا ادارہ خود ریاست کا ادارہ ہو، شکایت بھی ریاستی عہدے دار کی طرف سے آئے ، تفتیش بھی وہی ادارہ کرے اور اسی تفتیش کے نتیجے میں کسی شہری کی آزادی محدود ہوتو اس پورے عمل کی نگرانی کون کرے گا’؟
پاکستان میں یہ سوال اب محض نظری نہیں رہا۔یہ سوال وفاقی تحقیقاتی ادارہ یعنی ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ سے این سی سی آئی اے
(نیشنل سائبر کرائمزانوسٹی گیشن ایجنسی) تک پہنچ چکا ہے ۔
ایف آئی اے سے این سی سی آئی اے تک:ادارہ بدلا، سوال باقی رہا
پاکستان نے سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 2025میں ایک بڑی ادارہ جاتی تبدیلی کی۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ نیشنل سائبر کرائمزانوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)قائم کی گئی، جسے پیکا(PECA)کے تحت سائبر جرائم کی انکوائری، تفتیش اور استغاثے کی ذمہ داری دی گئی۔یہ تبدیلی بظاہر ایک منطقی قدم ہے ۔سائبر جرم عام جرم نہیں۔ جعلی شناخت، آن لائن مالی فراڈ، ڈیجیٹل بلیک میلنگ، ہیکنگ، شناختی معلومات کی چوری اور منظم آن لائن جرائم کے لیے خصوصی مہارت، ڈیجیٹل فرانزک اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوتا ہے ۔مسئلہ ادارہ بنانے میں نہیں۔مسئلہ اختیار کی حد، استعمال کے معیار اور نگرانی کے نظام میں ہے ۔اور یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے ، این سی سی آئی اے کا وجود بذاتِ خود آزادیِ اظہار کے خلاف کوئی دلیل نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ این سی سی آئی اے اپنے اختیار کو کہاں استعمال کرتی ہے ، کس شکایت پر استعمال کرتی ہے ، کس ثبوت پر استعمال کرتی ہے اور کس حد تک استعمال کرتی ہے ۔
پیکا کی نئی دفعہ: فیک نیوز اب صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، فوجداری معاملہ بھی
پیکامیں شامل دفعہ 26-Aنے اس بحث کو ایک نیا قانونی رخ دیا۔اس کے تحت ایسی معلومات کو جان بوجھ کر پھیلانا جرم قرار دیا گیا ہے جسے پھیلانے والا جھوٹا یا جعلی جانتا ہو یا اسے ایسا سمجھنے کی معقول وجہ ہو، اور جو عام لوگوں یا معاشرے میں خوف، گھبراہٹ، بدنظمی یا بے چینی پیدا کرنے کا امکان رکھتی ہو۔اس کی سزا تین سال تک قید، بیس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہے ۔یہاں ایک اہم لفظ ہے :جان بوجھ کر۔اور دوسرا:جاننے یا معقول وجہ سے یقین رکھنے ۔یعنی ہر غلط خبر لازماً فوجداری جرم نہیں ہونی چاہیے ۔غلطی، ناقص اطلاع، غیرمصدقہ دعویٰ، سیاسی رائے ، طنز، تجزیہ، الزام، خبر اور دانستہ جھوٹیہ سب ایک ہی چیز نہیں۔ اگر ایک صحافی کو کسی سرکاری دستاویز سے غلط عدد مل گیا، تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ مجرم ہے؟ اگر کسی رپورٹر نے کسی ذریعے کی اطلاع شائع کی مگر بعد میں وہ غلط ثابت ہوئی، تو کیا یہ دانستہ جھوٹ تھا؟اگر حکومت کسی خبر کی تردید کرتی ہے تو کیا اس تردید سے خبر خودبخود فیک بن جاتی ہے ؟اور اگر خبر کسی حکومتی ادارے کے خلاف ہو تو ‘اس خبر کی غلطی کا فیصلہ کون کرے گا’؟
یہی وہ مقام ہے جہاں فیک نیوز کے خلاف جائز جنگ اور اظہارِ رائے پر غیرضروری دباؤ کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے ۔
ایک مقدمہ ختم نہیں ہوتا، اس کے اثرات فوراً شروع ہوجاتے ہیں
فوجداری نظام میں اصول سادہ ہے :الزام، سزا نہیں۔لیکن شہری زندگی میں معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ایف آئی آر درج ہوئی۔نوٹس آگیا۔
گرفتاری ہوگئی۔موبائل اور لیپ ٹاپ قبضے میں چلے گئے ۔تفتیش شروع ہوگئی۔جسمانی ریمانڈ ہوگیا۔عدالتوں کے چکر شروع ہوگئے ۔ وکیل کی فیس، سفر، پیشیاں، ملازمت کا دباؤ، خاندان کی پریشانی، سماجی بدنامی اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینییہ سب عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی شروع ہوجاتے ہیں۔اسی لیے کسی قانون کا جائزہ صرف اس سوال سے نہیں لیا جاسکتا کہ آخر عدالت نے سزا دی یا نہیں؟اس سے پہلے یہ بھی پوچھنا پڑتا ہے :ریاستی کارروائی شروع
ہونے کے بعد شہری پر کیا گزری؟یہ وہ پہلو ہے جسے ہم اکثر فوجداری اعدادوشمار میں دیکھ ہی نہیں پاتے ۔
شاہ زیب جیلانی: جب مقدمہ ختم ہوا تو سوال باقی رہ گئے
2019 میں صحافی شاہ زیب جیلانی کے خلاف ایف آئی اے نے پیکاکے تحت مقدمہ قائم کیا۔الزام انتہائی سنگین نوعیت کے تھے ۔ اداروں کے خلاف مبینہ توہین آمیز اور اشتعال انگیز گفتگو سے لے کر سائبر دہشت گردی تک کی دفعات استعمال ہوئیں۔لیکن چند ہی ہفتوں میں معاملہ ایک بنیادی سوال تک پہنچ گیا:ثبوت کہاں ہیں؟
کراچی کی عدالت نے بالآخر ایف آئی اے کی جانب سے مناسب ثبوت پیش نہ کیے جانے کی بنیاد پر مقدمہ ختم کردیا۔ عدالت نے ایف آئی آرکو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اسے سی کلاس میں بند کیا۔یہ کسی صحافی کی مکمل بریت سے زیادہ اہم ایک ادارہ جاتی سوال تھا:اگر الزام اتنا سنگین تھا تو تفتیش کے مرحلے میں اس کے شواہد کہاں تھے ؟اور اگر شواہد کافی نہیں تھے تو شہری کو اس پورے عمل سے گزرنا کیوں پڑا؟
یہ سوال صرف شاہ زیب جیلانی کا نہیں۔یہ ہر ایسے مقدمے کا سوال ہے جس میں الزام پہلے عوام تک پہنچتا ہے اور ثبوت بعد میں عدالت میں تلاش کیے جاتے ہیں۔
ظفراللہ اچکزئی:عدالت نے ثبوت اور گواہی دونوں کو پرکھا
بلوچستان کے صحافی ظفراللہ اچکزئی کے خلاف 2017میں ایف آئی اے نے پیکا کے تحت مقدمہ درج کیا۔الزام سوشل میڈیا پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں مبینہ غلط معلومات پھیلانے کا تھا۔2019میں عدالت نے انہیں بری کردیا۔وجہ؟ثبوت ناکافی تھے اور گواہوں کے بیانات میں تضاد تھا۔یہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے۔ ریاست کا دعویٰ اور عدالتی ثبوت ایک چیز نہیں۔
ایف آئی آرایک الزام ہے ۔تفتیش ایک عمل ہے ۔چالان ایک استغاثی مؤقف ہے ۔اور سزا صرف عدالت دے سکتی ہے ۔ یہ فرق ختم کردیا جائے تو قانون، تحقیق اور عدالت کے درمیان موجود پورا حفاظتی بند ٹوٹ جاتا ہے ۔
- سائبر جرم سے لڑنے کے لیے ریاست کو طاقت چاہیے۔ لیکن طاقت کے ساتھ حدود بھی چاہئیں۔ریاست کو جھوٹی خبر روکنے کا اختیار چاہیے۔ لیکن خبر کو جھوٹا قرار دینے کے لیے معیار بھی چاہیے ۔ریاست کو شہری کی عزت بچانے کا اختیار چاہیے ۔لیکن تنقید اور توہین میں فرق بھی چاہیے ۔ریاست کو گرفتاری کا اختیار چاہیے ۔لیکن گرفتاری سے پہلے ثبوت کا معیار بھی چاہیے ۔ریاست کو تفتیش کا اختیار چاہیے ۔لیکن تفتیش کار کے اختیار کی بھی نگرانی چاہیے ۔اور سب سے بڑھ کرریاست کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خود ہی شکایت کنندہ بھی ہو، خود ہی خبر کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنے والا بھی، خود ہی تفتیش کار بھی اور پھر اپنی ہی تفتیش کو آخری سچ بھی سمجھ لے۔
خالد جمیل: ایک پوسٹ، ایک مقدمہ، اور پھر وہ سوال جو عدالت نے خود اٹھایا
صحافی خالد جمیل کے خلاف بھی سائبر قانون استعمال ہوا۔ عدالت نے دسمبر 2023 میں انہیں مقدمے سے بری کیا۔ اس معاملے میں عدالت کے سامنے یہ سوال بھی آیا کہ اگر کسی صحافی کی ایک مخصوص پوسٹ پر ایف آئی اے مقدمہ قائم کرتی ہے تو کیا اسی معیار کے تحت ہر ایسے شخص کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جس نے وہی مواد آگے بڑھایا؟ یہ سوال معمولی نہیں۔کیونکہ ڈیجیٹل دنیا میں ایک پوسٹ صرف ایک پوسٹ نہیں رہتی۔ اسے سینکڑوں لوگ شیئر کرتے ہیں۔ کسی ایک شخص کو چن کر فوجداری کارروائی کا نشانہ بنانا ہو تو پھر سوال اٹھتا ہے :
انتخاب کا معیار کیا تھا؟
اسد طور:گرفتاری سے زیادہ اہم وہ سوال تھا جو عدالت تک پہنچا
2024 میں صحافی اسد طور کی گرفتاری نے بھی اسی بحث کو دوبارہ زندہ کیا۔ایف آئی اے نے ان کے خلاف ریاستی اداروں اور عدلیہ کے خلاف مبینہ آن لائن مہم کے حوالے سے پیکاکی دفعات کے تحت کارروائی کی۔انہیں جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا، ان کے آلات قبضے میں لیے گئے ، اور کئی روز تک تفتیش جاری رہی۔بعد میں عدالت نے ضمانت منظور کی۔یہاں بھی اصل بحث صرف یہ نہیں تھی کہ ضمانت ہوئی یا نہیں۔اصل سوال یہ تھا:کیا کسی صحافی کی تنقیدی گفتگو کو فوجداری جرم میں بدلنے سے پہلے جرم کے بنیادی اجزا واضح طور پر ثابت کیے گئے تھے ؟اس کیس میں عدالتوں کے سامنے ایف آئی آر، شواہد، ریمانڈ اور قانونی دفعات کی حدود سے متعلق متعدد سوالات آئے ۔اور یہی وجہ ہے کہ ایسے مقدمات کو صرف صحافی گرفتار ہوگیا یا صحافی رہا ہوگیا کی دو سطری خبر بنا دینا اصل مسئلہ چھپا دیتا ہے ۔
عامرمیر اور عمران شفقت:گرفتاری چند گھنٹوں کی، اثر کہیں زیادہ طویل
2021 میں صحافی عامر میر اور عمران شفقت کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا۔دونوں پر سوشل میڈیا مواد کے حوالے سے پیکاکے تحت کارروائی ہوئی، دونوں کے آلات قبضے میں لیے گئے اور بعد میں انہیں ضمانت پر رہائی ملی۔یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ اس نے ایک اور سوال سامنے رکھا:کیا ریاستی کارروائی کا مقصد صرف سزا دینا ہوتا ہے ، یا بعض اوقات کارروائی خود ایک پیغام بھی بن جاتی ہے ؟ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہر گرفتاری کا مقصد ڈرانا تھا۔یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہر مقدمہ جھوٹا تھا۔لیکن یہ ضرور پوچھ سکتے ہیں:اگر ایک صحافی کو گرفتار کیا جائے ، اس کا موبائل قبضے میں لیا جائے ، اسے تفتیش سے گزارا جائے اور پھر وہ ضمانت پر باہر آجائے تو کیا اس پورے عمل کے اثرات صرف عدالتی فائل تک محدود رہتے ہیں؟یقیناً نہیں۔
فرحان ملک:ایک مقدمہ، پھر دوسرا مقدمہ
مارچ 2025 میں صحافی فرحان ملک کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا۔ان کے خلاف پیکا کی مختلف دفعات اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت کارروائی ہوئی۔ایک مقدمہ ان کے یوٹیوب پلیٹ فارم پر مبینہ اینٹی اسٹیٹ مواد سے متعلق تھا۔پھر وہ ایک دوسرے کیس میں بھی نامزد ہوئے ، جس میں ڈیٹا چوری اور جعل سازی(spoofing)کے الزامات شامل تھے ۔یعنی ایک گرفتاری کے بعد قانونی بوجھ ایک مقدمے تک محدود نہیں رہا۔فرحان ملک بالآخر اپریل 2025میں دونوں مقدمات میں ضمانت حاصل کرکے جیل سے باہر آئے ۔ان کے ایک پیکامقدمے میں ایک نہایت اہم قانونی سوال بھی سامنے آیا:جس مواد کے بارے میں جرم بنایا گیا، کیا وہ قانون کی نئی ترمیم سے پہلے شائع نہیں ہوا تھا؟عدالت میں دفاع کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 12کے تحت سابقہ فعل پر بعد میں بننے والی سزا کے اطلاق کا سوال اٹھایا گیا۔یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ سائبر قانون میں ایک نئی دفعہ شامل ہوجانا ماضی کے ہر مواد کو خودبخود اس کے دائرے میں نہیں لے آتا۔قانون کی طاقت اپنی جگہ۔قانون کی حد بھی اپنی جگہ۔
وحید مراد:دو دن کا ریمانڈ، پھر ضمانت
مارچ 2025میں صحافی وحید مراد کو بھی آن لائن مواد کے معاملے میں ایف آئی اے نے گرفتار کیا۔انہیں دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر رکھا گیا۔بعد ازاں عدالت نے ضمانت منظور کرلی۔یہاں بھی معاملہ عدالت کی آخری سزا تک نہیں پہنچا تھا، لیکن ایک شہری کی زندگی میں ریاستی گرفتاری کا مرحلہ پہلے ہی آچکا تھا۔یہی وہ مقام ہے جہاں ‘عدالت میں ثابت نہیں ہوا’اور ‘کچھ ہوا ہی نہیں’کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے ۔کچھ ہوا تھا۔ گرفتاری ہوئی۔ تفتیش ہوئی۔جسمانی آزادی محدود ہوئی۔ اور پھر ضمانت ہوئی۔ قانونی نتیجہ اور انسانی نتیجہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔

سائبر جرم کی تعریف سے لے کر گرفتاری اور مقدمے تک، اصل سوال قانون کے متن اور اس کے استعمال کا ہے
اب نیا دور: این سی سی آئی اے کے زمانے میں بھی سوال وہی ہیں
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ایف آئی اے کے سائبر ونگ کی جگہ این سی سی آئی اے آگئی تو مسئلہ بھی وہیں ختم ہوگیا۔2026کے واقعات بتاتے ہیں کہ سوال اب نئے ادارے کے ساتھ بھی موجود ہیں۔ستمبر 2026میں صحافی بلال غوری کو این سی سی آئی اے نے پیکاکی دفعات 20 اور 26-A کے تحت گرفتار کیا۔ان کے خلاف مقدمہ ایک ویڈیو اور سوشل میڈیا مواد سے متعلق تھا جس میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے سربراہ کی تقرری کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔انہیں جسمانی ریمانڈ پر رکھا گیا۔ان کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ قبضے میں لیا گیا۔پھر عدالت نے ان کا جسمانی ریمانڈ مزید دو دن بڑھایا۔اور بالآخر 16 ستمبر کو انہیں بعد از گرفتاری ضمانت مل گئی۔یہاں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ غوری درست تھے یا غلط۔وہ سوال عدالت طے کرے گی۔اصل سوال یہ ہے :‘کسی بیان کو جھوٹا قرار دینے سے پہلے ریاست کو یہ دکھانا ہوگا کہ وہ جھوٹا کیسے ہے’ ۔صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ:یہ جھوٹی خبر ہے ۔سوال ہوگا:اس دعوے کا کون سا حصہ غلط ہے ؟غلط ثابت کرنے کا ثبوت کیا ہے ؟صحافی سے وضاحت لی گئی؟اس کا ماخذ جانچا گیا؟ کیا اسے جواب کا موقع دیا گیا؟اور کیا فوجداری کارروائی آخری راستہ تھی؟
یہ سوال کسی صحافی کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے ۔یہ سوال ریاست کو بھی قانون کے اندر رکھتے ہیں۔
ایک دلچسپ موڑ:جب این سی سی آئی اے نے خود مقدمہ واپس لے لیا
اس پوری بحث کا شاید سب سے طاقتور حالیہ واقعہ وہ ہے جس میں ادارے کو کسی بیرونی نقاد نے نہیں بلکہ خود این سی سی آئی اے نے اپنے مقدمے کے بارے میں پیچھے ہٹنا پڑا۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا شخصیت وقار ذکا کے خلاف تقریباً 86ملین روپے کے مبینہ کرپٹو کرنسی فراڈ کا مقدمہ چل رہا تھا۔لیکن 2026 میں این سی سی آئی اے نے عدالت سے استغاثہ واپس لینے کی درخواست کی۔تحقیقات کے بعد ادارے نے عدالت کو بتایا کہ مالی لین دین باقاعدہ بینکاری ذرائع سے ہوا تھا اور الزامات کو ثابت کرنے کے لیے قابلِ قبول ڈیجیٹل فرانزک شواہد موجود نہیں تھے ۔تحقیقاتی افسر کی رپورٹ میں یہ بھی درج تھا کہ کسی نجی شکایت کنندہ یا متاثرہ شخص نے ایسا دعویٰ سامنے نہیں رکھا جس سے ملزم کے خلاف بنیادی الزام ثابت ہوسکے ۔نتیجہ؟عدالت نے مقدمہ واپس لینے کی اجازت دے دی اور وقار ذکا کو اس مقدمے میں ڈسچارج کردیا۔یہ مثال انتہائی اہم ہے ۔کیونکہ یہاں سوال کسی انسانی حقوق تنظیم نے نہیں اٹھایا۔خود تفتیشی ادارہ آخرکار اس نتیجے تک پہنچا کہ استغاثہ جاری رکھنا بے نتیجہ ہوگا۔تو پھر ہمیں ایک بنیادی اصول تسلیم کرنا ہوگا:تفتیشی ادارے کا کام ہر درج شدہ مقدمے کو سزا تک پہنچانا نہیں،اس کا کام یہ معلوم کرنا ہے کہ جرم ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد ثبوت موجود بھی ہیں یا نہیں۔
سینیٹ کا ایک عدد، جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا
مئی 2026میں سینیٹ کی متعلقہ ذیلی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صحافیوں کے خلاف 13ایف آئی آرزدرج کی گئی تھیں۔ان میں سے 11ابتدائی تفتیش کے بعد منسوخ کردی گئیں۔یعنی اس مخصوص سرکاری بریفنگ میں سامنے آنے والا تناسب معمولی نہیں تھا۔لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے ۔اس عدد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صحافی بے قصور تھا۔یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ہر ایف آئی آر بدنیتی پر مبنی تھی۔مگر یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں درج کیے گئے 13مقدمات میں سے 11اس سطح تک نہیں پہنچے جہاں انہیں برقرار رکھا جاسکے ۔
یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے :کیا ابتدائی چھان بین ایف آئی آرسے پہلے زیادہ مضبوط نہیں ہونی چاہیے ؟اگر شکایت کی ابتدائی جانچ ہی کمزور ہو تو فوجداری مشینری کو متحرک کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعد میں مقدمہ ختم ہوجاتا ہے ، مگر اس سے پہلے شہری اس نظام سے گزر چکا ہوتا ہے ۔
اور پھر سینیٹ نے خود این سی سی آئی اے سے سوال پوچھنا شروع کردیے
یہ معاملہ صرف صحافیوں اور عدالتوں تک محدود نہیں رہا۔جولائی 2026میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے این سی سی آئی اے کی جانب سے بعض اخبارات اور کالم نگاروں کو نوٹس جاری کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔کمیٹی کے ارکان نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے اقدامات این سی سی آئی اے کے قانونی دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ اخبارات یا ان کی ویب سائٹس کے خلاف ایسا اقدام نہ کیا جائے جو ان کے بقول ادارے کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو۔یہاں ایک غیرمعمولی بات سامنے آتی ہے :جس ادارے کو ڈیجیٹل جرائم کی تفتیش کرنی ہے ، اس کے اختیار کی حد پر خود پارلیمانی نگرانی کرنے والے ارکان سوال اٹھا رہے ہیں۔اور 23 جولائی کو اسی کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ سے صرف نو مقدمات این سی سی آئی اے کو منتقل کیے گئے تھے جبکہ باقی مقدمات کی منتقلی ابھی زیرِعمل تھی۔یہ تفصیل اس لیے اہم ہے کہ پیکاکے نئے ادارہ جاتی نظام کا نقشہ ابھی پوری طرح مستحکم نہیں ہوا۔یعنی ہم ایک ایسے مرحلے میں ہیں جہاں:قانون بدل چکا ہے ،ادارہ بدل چکا ہے ،اختیارات بدل چکے ہیں،مگر اداروں کے درمیان ذمہ داری اور دائرۂ اختیار کی عملی لکیر ابھی بھی واضح ہونے کے مرحلے میں ہے ۔ایسے وقت میں اختیار کا استعمال جتنا مضبوط ہوگا، ‘نگرانی بھی اتنی ہی مضبوط ہونی چاہیے ’۔
ایک کالم بھی فوجداری مشینری تک پہنچ سکتا ہے؟
جون 2026 میں لاہور میں کالم نگار توفیق بٹ اور ایک مقامی اخبار کے مدیر کو این سی سی آئی اے نے ایک کالم کے معاملے پر طلب کیا۔شکایت یہ تھی کہ کالم میں بیوروکریٹس کے لیے ایک طنزیہ اصطلاح استعمال کی گئی جو شکایت کنندہ کے مطابق توہین آمیز اور ہتک آمیز تھی۔یہاں پھر ایک بنیادی سوال سامنے آیا:کیا ہر سخت، طنزیہ یا توہین آمیز تحریر سائبر جرم ہے ؟ہتکِ عزت کے اپنے قوانین ہیں۔صحافتی ضابطے موجود ہیں۔پریس کونسل موجود ہے ۔اور عدالتیں بھی موجود ہیں۔اگر ہر اختلافی یا سخت کالم کو سائبر جرم بنا دیا جائے تو پھر قانون کی وہ مخصوص سرحد کہاں رہے گی جو حقیقی سائبر جرم اور صحافتی اظہار میں فرق کرتی ہے ؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ جولائی 2026میں سینیٹ کمیٹی نے ایسے ہی ایک کالم نگار کے معاملے میں شکایت اور معاملہ پریس کونسل کی طرف بھیجنے کی ہدایت کی۔یعنی پارلیمانی سطح پر بھی یہ سوال تسلیم کیا گیا کہ ہر تنازع کا پہلا دروازہ فوجداری سائبر تفتیش نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن دوسری تصویر بھی دیکھنا ضروری ہے
تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ این سی سی آئی اے کو ختم کردیا جائے ۔یہ بھی غلط ہوگا کہ ہر سائبر مقدمے کو آزادیِ اظہار کے خلاف کارروائی سمجھ لیا جائے ۔ریاست کے سامنے حقیقی مسائل موجود ہیں۔آن لائن مالی فراڈ ہے ۔شناخت چوری ہے ۔بلیک میلنگ ہے ۔جعلی اکاؤنٹس ہیں۔
خواتین کو ڈیجیٹل ہراسانی کا سامنا ہے ۔بچوں کے خلاف آن لائن جرائم ہیں۔بین الاقوامی نیٹ ورک کام کرتے ہیں۔اور بعض جرائم میں متاثرہ شخص کے لیے عام پولیس سے زیادہ مؤثر سائبر تفتیشی ادارہ ضروری ہے ۔قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2023 سے 2026 تک این سی سی آئی اے/ایف آئی اے سائبر کرائم نظام کو لاکھوں شکایات موصول ہوئیں اور ہزاروں کیسز درج ہوئے۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ سائبر جرم ایک حقیقی اور وسیع مسئلہ ہے۔ لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ ریاست سائبر جرائم پر کارروائی کیوں کرتی ہے ؟مسئلہ یہ ہے کہ ریاست سائبر جرم اور اختلافِ رائے کے درمیان لکیر کیسے قائم رکھتی ہے؟
مگر ادارہ خود بھی کمزور ہے
یہاں ایک اور دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے ۔دسمبر 2025میں قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کو این سی سی آئی اے کے سربراہ کی طرف سے بتایا گیا کہ ادارے کو تربیت یافتہ عملے ، مالی وسائل، تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے ۔2025میں تقریباً 22,500 شکایات موصول ہوئیں، جبکہ 620کیسز درج ہوئے اور صرف 26میں سزا ہوئی ،اسی بریفنگ میں ادارے کی افرادی قوت اور وسائل کی کمی بھی زیرِبحث آئی۔یہ تصویر ہمیں ایک اور سوال دیتی ہے :اگر ادارہ لاکھوں ڈیجیٹل شکایات کے بوجھ سے دوچار ہے ، تفتیشی عملہ کم ہے ، فرانزک صلاحیت محدود ہے اور پراسیکیوشن کی استعداد بھی مسئلہ ہے تو کیا اسے اظہارِ رائے کے پیچیدہ مقدمات میں وسیع اختیارات دینا مزید احتیاط کا تقاضا نہیں کرتا؟کیونکہ سائبر جرم کی تفتیش صرف گرفتاری کا نام نہیں۔اس کے لیے ڈیجیٹل فرانزک چاہیے ۔ مواد کی اصل شناخت چاہیے ۔سیاق و سباق سمجھنا چاہیے ۔ماخذ کی جانچ چاہیے ۔قصدِ جرم ثابت کرنا چاہیے ۔اور آخرکار عدالت کے سامنے ایسا ثبوت پیش کرنا چاہیے جو قانونی معیار پر پورا اترے ۔
ایک خطرناک غلط فہمی: گرفتاری کو تحقیق سمجھ لینا
یہاں اصل خطرہ شاید قانون سے زیادہ قانون کے نفاذ کے طریقے میں ہے ۔اگر کسی شکایت پر پہلے مواد دیکھا جائے ،پھر فریقین کا مؤقف لیا جائے، پھر ماہرین سے جانچ کرائی جائے ،پھر جرم کے قانونی اجزا پرکھے جائیں،اور اس کے بعد فوجداری کارروائی ہو،تو یہ ایک نظام ہے ۔لیکن اگر ترتیب الٹ جائے :شکایت،پھر نوٹس،پھر گرفتاری،پھر ریمانڈ،پھر ڈیوائس قبضے میں،پھر تفتیش،اور آخر میں معلوم ہو کہ الزام ثابت کرنے کے لیے ثبوت ہی کمزور تھا،تو سوال صرف مقدمے کے نتیجے کا نہیں رہتا،سوال ریاستی اختیار کے استعمال کی ترتیب کا بن جاتا ہے ۔
کیا قانون صحافی کو خصوصی استثنیٰ دے؟
نہیں۔ صحافی قانون سے بالاتر نہیں۔اگر صحافی جان بوجھ کر جعلی خبر پھیلاتا ہے ، کسی کی شناخت چراتا ہے ، مالی فراڈ کرتا ہے ، بلیک میلنگ کرتا ہے یا ایسا مواد پھیلاتا ہے جو قانون کے واضح دائرے میں جرم ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔لیکن یہی اصول الٹا بھی ہونا چاہیے :ریاست بھی اپنی بات کو محض ریاست ہونے کی وجہ سے سچ ثابت نہیں کرسکتی۔ حکومت کی تردید، عدالت کا فیصلہ نہیں۔سرکاری شکایت، جرم کا ثبوت نہیں۔ایف آئی آر سزا نہیں۔گرفتاری، جرم ثابت ہونا نہیں۔ریمانڈ، اعترافِ جرم نہیں۔چالان، عدالتی سزا نہیں۔
اور ضمانت، مکمل بریت نہیں۔یہ تمام فرق اگر عوامی بحث سے مٹا دیے جائیں تو پھر خبر نہیں رہتی، صرف بیانیہ رہ جاتا ہے ۔
اصل امتحان:ایک ہی معیار سب کے لیے
یہاں ہماری پوری بحث ایک نہایت سادہ مگر فیصلہ کن سوال تک پہنچتی ہے :کیا حکومت اپنے خلاف آنے والی خبر کے لیے وہی معیار
استعمال کرے گی جو اپنے حق میں آنے والی خبر کے لیے کرتی ہے ؟اگر کسی صحافی نے حکومت کے خلاف غلط عدد دیا تو کیا کارروائی ہوگی؟اور
اگر حکومت نے اپنے حق میں غلط عدد دیا تو؟اگر کسی سیاسی جماعت نے جھوٹا دعویٰ کیا تو؟اگر کوئی سرکاری ترجمان غلط معلومات دے تو؟ اگر
کسی سرکاری محکمے نے ایسی رپورٹ جاری کردی جو بعد میں غلط ثابت ہوگئی تو؟اگر کسی وزیر نے سوشل میڈیا پر غیرمصدقہ دعویٰ کیا تو؟کیا وہاں بھی وہی قانونی معیار ہوگا؟اگر جواب ہاں ہے تو نظام قابلِ دفاع ہے ۔اگر جواب نہیں ہے تو مسئلہ فیک نیوز نہیں رہے گا۔مسئلہ طاقت کے غیرمساوی استعمال کا بن جائے گا۔
ایف آئی اے کا پرانا سایہ این سی سی آئی اے تک
الزام تو یہ ہے کہ ایف آئی اے خود ریاستی انتقام کا چہرہ بن گئی ہے،اگر چہ ایک تحقیقی تحریر کے لیے یہ جملہ بھی ایک بوجھ ہے۔ مگر گرفتاریاں، مقدمات کا ثابت نہ ہونااور ضمانتوں کے بعد مقدمات سے لے کر تفتیشی عمل تک کاسست پڑجانا کیا ثابت کرتا ہے کہ مخصوص رجحانات کے لوگ ناقابل برداشت بوجھ بن رہے ہیں، ریاستی بیانیہ سے موافقت نہ رکھنے والے حکمرانی کے‘ معمول’ کو چیلنج کررہے ہیں،لہٰذا اُنہیں ریاستی طاقت کا مزہ چکھا کر نچلے بٹھایا جائے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کا بھی کوئی جواب ہو، اس لیے فیصلہ ہم نہیں سناتے ۔ہم صرف فائلیں میز پر رکھتے ہیں۔شاہ زیب جیلانی کا مقدمہ ثبوت نہ ہونے پر ختم ہوا۔ظفراللہ اچکزئی ناکافی ثبوت اور متضاد گواہیوں کی بنیاد پر بری ہوئے ۔
خالد جمیل کے خلاف مقدمہ ختم ہوا۔اسد طور ضمانت پر باہر آئے ، اور ان کے مقدمے میں شواہد اورایف آئی آرکی قانونی ساخت پر سوالات اٹھے۔ عامر میر اور عمران شفقت گرفتار ہوئے اور بعد میں ضمانت پر باہر آئے ۔فرحان ملک گرفتار ہوئے ، دو الگ مقدمات کا سامنا کیا اور دونوں میں ضمانت حاصل کی۔وحید مراد گرفتار ہوئے ، جسمانی ریمانڈ ہوا اور پھر ضمانت مل گئی۔2026میں بلال غوری گرفتار ہوئے اور بعد از گرفتاری ضمانت پر رہا ہوئے ۔اور وقار ذکا کے معاملے میں خود این سی سی آئی اے نے عدالت سے استغاثہ واپس لینے کی درخواست کی کیونکہ تحقیقات کے بعد قابلِ قبول ڈیجیٹل فرانزک شواہد اور بنیادی الزام کو برقرار رکھنے کے لیے کافی مواد سامنے نہیں آیا۔پھر سینیٹ کو بتایا گیا کہ صحافیوں کے خلاف 13 ایف آئی آرز میں سے 11 ابتدائی تفتیش کے بعد منسوخ ہوگئیں۔ان واقعات سے کوئی حتمی سیاسی فیصلہ اخذ کرنا صحافت نہیں۔لیکن ان واقعات سے سوال اٹھانا ضرور صحافت ہے۔ اور سوال یہ ہے: کیا ہمارے سائبر قوانین میں جرم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ شہری کو غیرضروری ریاستی کارروائی سے بچانے کے لیے بھی کافی حفاظتی دیواریں موجود ہیں؟کیا فیک نیوز کی آڑ میں نگرانی کے نظام کی طرح اس کے لیے بھی کوئی نظام نہیں ہونا چاہئے؟ کیوں؟
مقدمہ عدالت میں جاتا ہے ، مگر سزا کبھی کبھی پہلے شروع ہوجاتی ہییہ شاید اس پوری بحث کا سب سے اہم جملہ ہے :عدالت سزا بعد میں دیتی ہے ؛ ریاستی کارروائی کا اثر پہلے شروع ہوسکتا ہے ۔ملازمت جاتی ہے ۔پیشہ متاثر ہوتا ہے ۔سوشل میڈیا اکاؤنٹس نگرانی میں آتے ہیں۔
موبائل اور کمپیوٹر قبضے میں جاتے ہیں۔خاندان عدالتوں کے چکر لگاتا ہے ۔وکیل مقرر ہوتا ہے ۔شہری کا وقت اور پیسہ خرچ ہوتا ہے ۔اور دوسرے صحافی دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کے ساتھ کیا ہوا۔یہی وہ مقام ہے جہاں ‘اظہارِ رائے پر خوف کا سایہ’ پیدا ہوسکتا ہے ۔ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہر مقدمہ اسی مقصد سے بنایا گیا۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ قانون بنانے والوں کو ‘اس ممکنہ اثر’کو بھی قانون کے ڈیزائن میں شامل کرنا ہوگا۔
پھر حل کیا ہے؟
فیک نیوز کے خلاف ریاستی کارروائی ضروری ہوسکتی ہے۔ مگر اس کارروائی کا ایک واضح راستہ ہونا چاہیے ۔شکایت، ابتدائی جانچ ، ثبوت کی تصدیق، متعلقہ فریق کا جواب، آزادانہ جائزہ، جرم کے قانونی اجزا کی جانچ، آخری ضرورت کے طور پر فوجداری کارروائی، عدالتی نگرانی۔
اور اس پورے نظام میں چند اصول ناقابل گفت و شنید ہونے چاہئیں:واضح تعریف۔ثبوت کا قابلِ جانچ معیار۔جواب کا حق۔ آزادانہ نظرثانی۔اختیار کا تناسب۔پارلیمانی نگرانی۔اعدادوشمار کی شفافیت۔ اور سب سے بڑھ کر،ایک ہی قانون، ایک ہی معیار، ایک ہی ریاست میں چاہے شکایت حکومت کے خلاف ہو یا حکومت کی طرف سے ۔

سوال یہ نہیں کہ فیک نیوز کے خلاف قانون ہونا چاہیے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ اس قانون کی حد کون طے کرے گا؟
آخری سوال
سائبر جرم سے لڑنے کے لیے ریاست کو طاقت چاہیے۔ لیکن طاقت کے ساتھ حدود بھی چاہئیں۔ریاست کو جھوٹی خبر روکنے کا اختیار چاہیے ۔لیکن خبر کو جھوٹا قرار دینے کے لیے معیار بھی چاہیے ۔ریاست کو شہری کی عزت بچانے کا اختیار چاہیے ۔لیکن تنقید اور توہین میں فرق بھی چاہیے ۔ریاست کو گرفتاری کا اختیار چاہیے ۔لیکن گرفتاری سے پہلے ثبوت کا معیار بھی چاہیے ۔ریاست کو تفتیش کا اختیار چاہیے ۔لیکن تفتیش کار کے اختیار کی بھی نگرانی چاہیے ۔اور سب سے بڑھ کرریاست کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خود ہی شکایت کنندہ بھی ہو، خود ہی خبر کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنے والا بھی، خود ہی تفتیش کار بھی اور پھر اپنی ہی تفتیش کو آخری سچ بھی سمجھ لے ۔کیونکہ جمہوری ریاست میں سوال یہ نہیں ہوتا کہ ریاست کے پاس کتنی طاقت ہے ؟اصل سوال ہوتا ہے ،ریاست کی طاقت کو روکنے والی دیواریں کتنی مضبوط ہیں؟
اور اگر فیک نیوز کے خلاف بننے والا نظام واقعی عوام کے تحفظ کے لیے ہے تو اگلا سوال اس سے بھی زیادہ اہم ہے ۔کیا وہ نظام حکومت کے حق میں پھیلنے والی جھوٹی خبر کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے پکڑے گا جتنی حکومت کے خلاف پھیلنے والی جھوٹی خبر کو؟یہی وہ مقام ہے جہاں معاملہ صرف این سی سی آئی اے کا نہیں رہتا۔یہ معاملہ ریاست، اطلاعات، طاقت اور عوام کے حقِ معلومات کا بن جاتا ہے ۔
اگلی قسط ہمیں ان ہی لکیروں کے درمیان لے جائے گی۔
(جاری ہے)
٭٭٭


