خوب صورت جال!
شیئر کریں
کبھی کبھی جال اتنا خوبصورت بچھایا جاتا ہے کہ شکاراسے راستہ سمجھ کر اس میں داخل ہوجاتا ہے ۔ سامنے دانہ رکھا ہوتا ہے ، راستہ کھلا ہوتا ہے ، دروازہ کہیں دکھائی نہیں دیتا، مگر چند قدم آگے بڑھتے ہی معلوم ہوتا ہے کہ جسے راستہ سمجھا تھا، وہ واپسی کا راستہ نہیں تھا۔سیاست میں بھی ایسے جال بچھائے جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جال رسی کا نہیں، الفاظ کا ہوتا ہے ۔ یہاں پھندا مطالبات، شرائط، معاہدوں اورسیاسی بیانات سے تیار کیا جاتا ہے ۔
حکومت اورتحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کو بھی اگر اسی زاویے سے دیکھا جائے تو ایک تلخ سوال سامنے آتا ہے ،کیا مذاکرات واقعی سیاسی بحران ختم کرنے کے لیے تھے یا تحریک انصاف کو ایک ایسے سیاسی جال میں لانے کے لیے جہاں وہ اپنے ہی خلاف چارج شیٹ پر دستخط کردے؟ کیونکہ صلح نامہ اور اعتراف نامہ میں فرق ہوتا ہے ،صلح نامہ دو فریقوں کو قریب لاتا ہے ،اعتراف نامہ ایک فریق کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے ۔اوراگر مذاکرات کی میزپرایک فریق اپنے چند بنیادی مطالبات لے کر بیٹھا ہو اور دوسرا فریق مطالبات کی ایک لمبی فہرست لے آئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں صلح کس سے ہونی ہے ؟ ایک دوسرے سے یا پہلے مخالف کو مجرم ثابت کرنا ہے ؟تحریک انصاف کے مطالبات میں ایسا کیا تھا جس سے آسمان گر پڑتا؟ عمران خان سے ملاقات، علاج کی سہولت، گرفتارخواتین کی رہائی۔یہ کوئی آئینی انقلاب کے مطالبات نہیں تھے ، ریاست کی بنیادیں ہلانے والی شرائط نہیں تھیں۔ عمران خان کی فوری رہائی کی کوئی شرط نہیں تھی۔ پھرحکومت ان مطالبات سے کیوں بھاگ گئی؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب صرف مذاکرات کی میز پرنہیں، اس میز کے پیچھے تلاش کرنا پڑے گا۔
حکومت جانتی ہے کہ تحریک انصاف اورحکومتی اتحاد کے درمیان صرف سیاسی اختلاف نہیں۔ چارسال سے جاری کشمکش نے دونوں کے
درمیان ایسی خلیج پیدا کردی ہے جس میں اعتماد نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ ایک طرف طاقت، اختیاراور ریاستی مشینری ہے ، دوسری طرف
ایک ایسی جماعت ہے جو مسلسل دباؤ، گرفتاریوں، مقدمات اور سیاسی مشکلات کا سامنا کررہی،حکومت اگر واقعی سیاسی بحران ختم کرنا چاہتی
تو اسے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ مذاکرات کی پہلی شرط اعتماد ہے ۔ مگراعتماد وہاں کیسے پیدا ہوتا جہاں ایک فریق دوسرے کے خلاف پہلے ہی
مقدمات، الزامات اور سیاسی حساب کتاب لیے بیٹھا ہو؟ یہیں سے شک پیدا ہوتا ہے ،کہیں مذاکرات کا مقصد مذاکرات تو نہیں تھا؟کہیں مقصد یہ تو نہیں تھا کہ تحریک انصاف کو ایسی دستاویز پردستخط کرنے پرمجبورکیا جائے جسے کل اسی کے خلاف سیاسی چارج شیٹ کے طور پر استعمال کیا جاسکے ؟ زمینی حقائق تویہی ہیں،حالات وواقعات تو یہی بتاتے ہیں،حکومت تحریک انصاف کو راستہ نہیں دینا چاہتی، کھیل یہی ہے ،تحریک انصاف کو اُکسایا جائے ،غصہ دلایا جائے ،اشتعال بڑھایا جائے ،اسلام آباد لایا جائے ،راستے بند ہوں، تصادم ہو، پتھر چلیں، گولیاں چلیں، لاشیں گریں۔ اورپھرحکومت کے پاس پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے اورتحریک انصاف پر پابندی لگانے کا جوازپیدا ہو جائے ۔فوج اورپی ٹی آئی کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوں اوران کشیدہ تعلقات کے حکومت فائدے اٹھائے ۔ ایسا فائدہ،جیسا 2024کے الیکشن میں اٹھایا گیا تھا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں تحریک انصاف کی قیادت کو جذبات نہیں، عقل سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ حکومت چاہے جتنے راستے کھولے ، تحریک انصاف کو دیکھنا ہوگا کہ ان راستوں کے آخر میں منزل ہے یا جال۔حکومت کے پاس اختیار ہے ، انتظامی طاقت ہے ، ریاستی وسائل ہیں۔ تحریک انصاف کے پاس کیا ہے ؟صرف اپنے کارکن، اپنی قیادت اور اپنے سیاسی فیصلے ۔اس لیے اسے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے مخالف کے بچھائے ہوئے راستے پر چلے گی یا اپنا راستہ خود بنائے گی۔کیونکہ سیاست میں سب سے خطرناک غلطی مخالف کے حملے کا جواب دینا نہیں ہوتی۔سب سے خطرناک غلطی یہ ہوتی ہے کہ آپ مخالف کے بنائے ہوئے میدان میں اس کی مرضی کے مطابق کھیلنا شروع کردیں۔
مذاکرات ناکام ہونا حادثہ نہیں، ایک منصوبہ تھا، حکومت مذاکرات سے سیاسی بحران ختم نہیں کرنا چاہتی تھی، یہ سیاسی جال تھا جس میں تحریک انصاف خود اپنے خلاف چارج شیٹ پر دستخط کردے ۔ حکومت تحریک انصاف سے صلح نامہ نہیں، اعتراف نامہ لکھوانا چاہتی تھی۔ حکومتی اتحاد کیوں پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم کرے ؟ کیا آگ اور پانی ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟ حکمران تو سازش میں مصروف،انہیں تو اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے ایک اور 9مئی درکار ہے ۔یہ تو تحریک انصاف کے رہنماؤں کا امتحان ہے وہ حکومت کی سازش کامیاب ہونے دیتے ہیں یا نہیں۔جذبات نہیں،عقل سے فیصلہ کرنا ہوگا،کیونکہ سیاست میں سب سے خطرناک غلطی مخالف کے حملے کا جواب دینا نہیں ہوتی۔سب سے خطرناک غلطی یہ ہوتی ہے کہ آپ مخالف کے بنائے ہوئے میدان میں اس کی مرضی کے مطابق کھیلنا شروع کردیں۔
٭٭٭


