میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عالمی توانائی کا بحران، آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز !

عالمی توانائی کا بحران، آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز !

جرات ڈیسک
هفته, ۳ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

دنیا کے نقشے پر کئی ایسے سمندری راستے موجود ہیں جو بظاہر ایک محدود جغرافیائی علاقے میں واقع ہیں، لیکن ان کی اہمیت پوری دنیا کی معیشت سے جڑی ہوئی ہے ۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک اہم سمندری راستہ ہے ۔ یہ خلیج فارس کو بحیرہ عمان اور پھر بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔ اس کے ایک طرف ایران اور دوسری طرف عمان واقع ہے ۔ اس راستے سے گزرنے والی توانائی کی عالمی تجارت نے اسے دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شامل کر دیا ہے ۔

آبنائے ہرمز کی اصل اہمیت اس بات سے سمجھ آتی ہے کہ خلیج فارس کے کئی بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک اپنی عالمی تجارت کے لیے اسی سمندری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین جیسے ممالک کی توانائی کی پیداوار عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے اس علاقے سے جڑی ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کوئی بھی بڑی رکاوٹ صرف خلیجی ممالک کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتے ہیں۔

امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے ۔ حالیہ کشیدگی کے دوران یہاں سے تیل اور گیس کی ترسیل میں نمایاں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس سے واضح ہوا کہ دنیا کی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ ادارے کے مطابق متبادل راستے موجود ہیں، لیکن وہ آبنائے ہرمز کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے ۔آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف تیل تک محدود نہیں۔ مائع قدرتی گیس بھی اسی خطے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے ۔ خاص طور پر قطر جیسے بڑے گیس پیدا کرنے والے ملک کے لیے سمندری راستوں کی سلامتی انتہائی اہم ہے ۔ اگر جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو تو اس کا اثر ان ممالک پر بھی پڑتا ہے جو خلیج سے توانائی درآمد کرتے ہیں۔

یہ صورتحال پاکستان کے لیے بھی اہم ہے ۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرون ملک سے تیل اور گیس درآمد
کرتا ہے ۔ خلیجی ممالک پاکستان کے لیے توانائی کے اہم ذرائع ہیں۔ اس لیے خلیج میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور سمندری راستوں میں
رکاوٹ کا اثر پاکستان کی معیشت، توانائی کی فراہمی، صنعت، ٹرانسپورٹ اور عام صارف تک پہنچ سکتا ہے ۔آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا فوری اثر تیل کی عالمی قیمتوں پر پڑتا ہے ۔ جب عالمی منڈی کو یہ خدشہ ہو کہ تیل کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے تو قیمتوں میں اضافہ شروع ہوجاتا ہے ۔ رائٹرز کی حالیہ رپورٹس میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی تیل منڈی کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہے ۔

تیل کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ تیل مہنگا ہو تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، صنعت کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر بھی دباؤ آتا ہے ۔ اس طرح ایک دور دراز سمندری راستے میں پیدا ہونے والی کشیدگی عام آدمی کی زندگی کو بھی متاثر کرسکتی ہے ۔دنیا کے کئی ممالک نے آبنائے ہرمز کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے متبادل انتظامات کیے ہیں۔ بعض ممالک نے تیل کی پائپ لائنوں کے ذریعے دوسرے راستے استعمال کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض جگہوں پر جہازوں کے ذریعے متبادل طریقوں سے ترسیل جاری رکھنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن یہ متبادل راستے آبنائے ہرمز کی جگہ مکمل طور پر نہیں لے سکتے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس راستے کی سلامتی عالمی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔حالیہ حالات نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ سمندری تجارت صرف جہازوں اور بندرگاہوں کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے ۔

ایک راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے سے جہازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس سے وقت، ایندھن اور بیمہ کے اخراجات بڑھتے ہیں اور سامان کی ترسیل بھی متاثر ہوتی ہے ۔

رائٹرز کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی بحری سرگرمی میں کشیدگی کے دوران نمایاں کمی دیکھی گئی، اگرچہ بعد میں کچھ بحری آمدورفت میں بہتری کے آثار بھی سامنے آئے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر معمول پر آنے کے بجائے اب بھی علاقائی حالات اور سفارتی پیش رفت سے گہری طرح جڑی ہوئی ہے ۔آبنائے ہرمز کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی سلامتی صرف ایک ملک کے اختیار کا مسئلہ نہیں۔ یہ بین الاقوامی تجارت کا راستہ ہے اور اس سے مختلف ممالک کے تجارتی مفادات وابستہ ہیں۔ اس لیے یہاں امن اور محفوظ بحری آمدورفت پورے خطے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے مفاد میں ہے ۔ایسے حالات میں سفارت کاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے سے متعلق سفارتی کوششیں بھی جاری رہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کوئی بھی بڑی معیشت عالمی تجارت سے الگ نہیں رہ سکتی۔ ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے خطے کی منڈیوں، صنعتوں اور صارفین کو متاثر کرسکتا ہے ۔ آبنائے ہرمز اس عالمی باہمی انحصار کی ایک واضح مثال ہے ۔ یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں کی توانائی کی ضروریات اور اقتصادی سرگرمیوں پر اثر ڈال سکتی ہے ۔پاکستان کے لیے بھی اس صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ توانائی کے محفوظ اور مسلسل ذرائع کو یقینی بنایا جائے ۔ توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے ۔ اس لیے خلیج کی صورتحال پر نظر رکھنا، توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا اور عالمی سطح پر ہونے والی سفارتی کوششوں کو سمجھنا پاکستان کے لیے اہم ہے ۔

آبنائے ہرمز ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ عالمی معیشت صرف بڑے صنعتی ممالک، بینکوں اور منڈیوں سے نہیں چلتی بلکہ بعض اوقات ایک نسبتاً چھوٹا سا سمندری راستہ بھی پوری دنیا کی اقتصادی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ اس راستے کی اہمیت جغرافیہ سے کہیں آگے
بڑھ کر عالمی تجارت، توانائی اور معاشی استحکام سے جڑ چکی ہے ۔آج جب دنیا توانائی کے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہے اور شمسی، ہوا اور دیگر متبادل توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے ، اس کے باوجود تیل اور گیس عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت فوری طور پر ختم ہونے والی نہیں۔ جب تک عالمی معیشت خلیج فارس کی توانائی پر انحصار کرتی رہے گی، یہ سمندری راستہ عالمی توجہ کا مرکز بنا رہے گا۔
آبنائے ہرمز کا مسئلہ صرف ایران، عمان یا خلیجی ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن، محفوظ سمندری تجارت اور معاشی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے ۔

اس راستے میں امن اور معمول کی بحری آمدورفت صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے ان تمام ممالک کے لیے ضروری ہے جو توانائی درآمد کرتے ہیں اور عالمی تجارت کا حصہ ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو مستقل راستہ بنایا جائے ۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی شدید کمی موجود ہے ، اس لیے کسی بھی بڑے معاہدے سے پہلے مرحلہ وار اعتماد سازی ضروری ہوگی۔ فوری طور پر فریقین کو ایک دوسرے کے خلاف نئی فوجی کارروائی روکنے ، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو تحفظ دینے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔ اس کے بعد براہِ راست یا ثالثی کے ذریعے مذاکرات کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے ۔

قطر اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ رائٹرز کے مطابق ایران کی طرف سے پیش کیے گئے سات روزہ اعتماد سازی کے منصوبے پر امریکا کی رائے بھی ایرانی حکام تک پہنچائی گئی ہے ، جبکہ دونوں جانب اختلافات میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ مختلف اقدامات کس ترتیب سے کیے جائیں۔ اس پیش رفت سے یہ امکان ضرور پیدا ہوا ہے کہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔تنازع کے خاتمے کے لیے آبنائے ہرمز کی محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہونی چاہیے ۔ ایران نے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کو بعض شرائط سے منسلک کیا ہے ، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، پابندیوں اور جوہری پروگرام سمیت متعدد معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ اس لیے ایک جامع سمجھوتے کے بجائے مرحلہ وار معاہدہ زیادہ قابلِ عمل راستہ ہوسکتا ہے ، جس میں ہر فریق کی جانب سے ایک قدم کے جواب میں دوسرا فریق بھی عملی قدم اٹھائے ۔بین الاقوامی برادری کو بھی اس عمل میں تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ اور علاقائی ممالک مذاکرات کے لیے محفوظ سفارتی ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، عمان اور دوسرے خلیجی ممالک کے مفادات بھی اس تنازع سے براہِ راست جڑے ہیں، اس لیے علاقائی ممالک کی مشاورت سے کوئی ایسا طریقہ کار بنایا جاسکتا ہے جس میں جنگ کے دوبارہ پھیلنے کے امکانات کم ہوں۔

آخرکار اس تنازع کا پائیدار حل فوجی طاقت سے زیادہ سیاسی سمجھوتے میں ہے ۔ امریکا اور ایران اگر اپنے اختلافات کو مرحلہ وار مذاکرات، باہمی یقین دہانیوں اور قابلِ عمل معاہدوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوسکتی ہے بلکہ آبنائے ہرمز، عالمی توانائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی زیادہ محفوظ ماحول پیدا ہوسکتا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں