میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ہر انسان کے اندر ایک کہانی

ہر انسان کے اندر ایک کہانی

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

سگمنڈ فرائڈ سے منسوب ایک مشہور خیال ہے: "اظہار نہ کیے گئے جذبات کبھی نہیں مرتے؛ وہ زندہ دفن رہتے ہیں اور پھر کہیں زیادہ
بدصورت شکل میں واپس آتے ہیں۔” اس جملے میں انسانی نفسیات کا ایک ایسا المیہ پوشیدہ ہے جسے صرف فرد کی ذہنی کیفیت سمجھنا غلط ہوگا۔
بعض اوقات ایک انسان کی خاموشی دراصل ایک پورے معاشرے کے اندر دفن کیے گئے غصے، خوف، محرومی اور شکست کی آواز ہوتی
ہے۔ انسان صرف گوشت، ہڈی اور عقل کا نام نہیں؛ وہ یادوں، خواہشوں، خوفوں، محبتوں، نفرتوں اور ادھورے خوابوں کا مجموعہ بھی ہے۔ جو
کچھ وہ کہہ نہیں پاتا، ضروری نہیں کہ وہ ختم بھی ہوجائے۔ بعض احساسات زبان سے نکلنے کے بجائے انسان کے اندر اتر جاتے ہیں، وہاں
خاموشی اختیار کرلیتے ہیں اور پھر اس کے رویوں کو اندر سے تشکیل دینے لگتے ہیں۔فرائڈ نے انسانی ذہن کے لاشعور کو سمجھنے کی کوشش کی تو یہ
واضح کیا کہ انسان اپنے بارے میں جتنا جانتا ہے، اس سے کہیں زیادہ چیزیں اس کے اندر ایسی موجود ہوتی ہیں جن سے وہ خود بھی پوری
طرح واقف نہیں ہوتا۔ انسان اپنے شعوری ذہن میں ایک کہانی بناتا ہے، مگر اس کے اندر ایک اور کہانی مسلسل لکھی جارہی ہوتی ہے۔ یہی
وہ جگہ ہے جہاں دبے ہوئے خوف، خواہشیں، صدمات اور احساسات اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔ایک معاشرہ برسوں تک ناانصافی سہتا
ہے، مگر اسے صبر کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ظلم ہوتا ہے تو اسے مصلحت کہہ کر نگل لیا جاتا ہے۔ طاقتور کمزور کا حق چھینتا ہے تو اسے نظام کا حصہ
سمجھ لیا جاتا ہے۔ قانون ایک کے لیے ڈنڈا اور دوسرے کے لیے ڈھال بن جائے تو اسے بھی معمول کہہ دیا جاتا ہے۔ غریب کی بھوک کو
اس کی قسمت، مظلوم کی چیخ کو اس کی کمزوری اور طاقتور کی زیادتی کو اس کی مجبوری قرار دے دیا جاتا ہے۔پھر سماج میں صرف ظلم نہیں رہتا،
ظلم کی عادت پیدا ہوجاتی ہے۔یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔
جب ایک انسان دوسرے انسان کی تذلیل دیکھ کر خاموش رہتا ہے، جب کسی بے گناہ پر زیادتی ہوتی ہے اور لوگ نظریں چرا لیتے ہیں،
جب حق چھینا جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں ‘‘ہمیں کیا’’، جب سچ بولنے والے کو پاگل، باغی یا مصیبت کا سبب قرار دیا جاتا ہے، تو ظلم صرف
ظالم کا عمل نہیں رہتا؛ خاموش تماشائی بھی اس کے نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسا سماج باہر سے زندہ اور اندر سے سڑا ہوا ہوتا ہے۔وہاں
انصاف عدالتوں میں نہیں، تعلقات میں تقسیم ہوتا ہے۔ وہاں میرٹ قابلیت سے نہیں، قربت سے طے ہوتا ہے۔ وہاں غریب کا جرم اس کی
غربت بن جاتا ہے اور طاقتور کا جرم اس کی طاقت اسے معاف کرا دیتی ہے۔ وہاں عزت کردار کی نہیں، حیثیت کی ہوتی ہے؛ سچ دلیل سے نہیں، طاقت کے وزن سے ناپا جاتا ہے۔اور پھر مظلوم اپنے ہی دکھ کا دفاع کرنا چھوڑ دیتا ہے۔یہیں سے انسان کی اندرونی شکست شروع ہوتی ہے۔تاریخ میں بڑی بغاوتیں اکثر کسی ایک واقعے سے شروع ہوتی دکھائی دیتی ہیں، مگر ان کی جڑیں برسوں کی محرومی میں ہوتی ہیں۔ انقلابِ فرانس سے پہلے صرف ایک دن میں بھوک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ روسی انقلاب سے پہلے صرف ایک رات میں عوام کے اندر غصہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ نوآبادیاتی نظام کے خلاف تحریکیں بھی کسی ایک حکم سے نہیں پھوٹیں؛ ان کے پیچھے نسلوں کی بے اختیاری، تحقیر اور استحصال جمع ہوتا رہا۔کارل مارکس نے معاشرتی تاریخ میں مادی حالات اور طبقاتی کشمکش کی اہمیت پر زور دیا۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو بھوک بھی ایک جذباتی حقیقت ہے، غربت بھی، محرومی بھی اور استحصال بھی۔ جب انسان مسلسل یہ محسوس کرے کہ اس کی محنت کسی اور کی آسائش بن رہی ہے، اس کا حق کسی اور کی طاقت میں تبدیل ہورہا ہے اور اس کی آواز کسی بند دروازے سے ٹکرا کر واپس آرہی ہے، تو اس کے اندر صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا؛ ایک نفسیاتی زخم بھی پیدا ہوتا ہے۔اور زخم اگر بولا نہ جائے تو کردار بن جاتا ہے۔انسانی معاشرے کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب لوگ ظلم کو ظلم کہنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب ناانصافی معمول بن جائے، جھوٹ حکمت کہلانے لگے، بزدلی مصلحت بن جائے اور خاموشی شرافت کا لباس پہن لے تو معاشرہ بظاہر پرسکون مگر اندر سے بیمار ہوچکا ہوتا ہے۔ایسے معاشرے میں لوگ صرف دوسروں سے نہیں، خود اپنے وجود سے بھی جھوٹ بولنے لگتے ہیں۔ وہ اپنی شکست کو کامیابی کا نام دیتے ہیں، اپنی غلامی کو وفاداری، اپنے خوف کو احتیاط اور اپنی بے بسی کو قسمت کہہ کر مطمئن ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر انسان کا لاشعور اتنا آسان فریب قبول نہیں کرتا۔وہ سب کچھ محفوظ رکھتا ہے۔البرٹ کامیو نے انسان کی بغاوت کو اس احساس سے جوڑا کہ ایک مقام پر انسان کہتا ہے: بس، یہاں تک۔ مگر بغاوت اور انتقام میں فرق ہے۔ بغاوت انسان کو وقار دیتی ہے؛ انتقام اسے اسی ظلم کی نقل بنا سکتا ہے جس کے خلاف وہ کھڑا ہوا تھا۔اس لیے جذبات کا اظہار ضروری ہے، مگر اظہار کا مطلب تباہی نہیں۔

غصے کو زبان دینا ضروری ہے، مگر غصے کو نفرت میں بدل دینا نہیں۔ دکھ کو بیان کرنا ضروری ہے، مگر دکھ کو دوسروں کے لیے اذیت بنا دینا
نہیں۔ خاموشی توڑنا ضروری ہے، مگر الفاظ کو تشدد کا ہتھیار بنانا نہیں۔اصل تہذیب شاید یہی ہے کہ انسان اپنے اندر کے طوفان کو پہچان
لے اور اسے تخلیق، مکالمے، احتجاج، ادب، سیاست اور اخلاقی جدوجہد میں تبدیل کردے۔جہاں ہر سوال کو بغاوت، ہر اختلاف کو دشمنی
اور ہر تنقید کو جرم سمجھا جائے، وہاں جذبات زیرِ زمین چلے جاتے ہیں۔اور زیرِ زمین جانے والی ہر چیز ختم نہیں ہوتی۔کبھی وہ زیرِ زمین دریا
بن جاتی ہے۔کبھی آتش فشاں۔کبھی انقلاب۔اور کبھی ایک ایسے معاشرے کی اجتماعی تلخی، جس میں لوگ بظاہر زندہ ہوتے ہیں مگر اندر سے
مسلسل کچھ دفن کر رہے ہوتے ہیں۔فرائڈ کے خیال کی سب سے بڑی معنویت شاید یہی ہے کہ انسان کو اپنے اندر کے سچ سے فرار نہیں مل
سکتا۔ وہ اپنے غم کو چھپا سکتا ہے، مگر ختم نہیں کرسکتا۔ اپنے غصے کو دبا سکتا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کرسکتا۔ اپنی شکست کو مسکرا کر چھپا سکتا  ہے، مگر لاشعور میں وہ شکست اپنا نشان چھوڑ دیتی ہے۔اس لیے انسان کی حقیقی آزادی شاید وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں وہ اپنے اندر
دفن چیزوں کو پہچاننے لگتا ہے۔اور معاشرے کی حقیقی اصلاح وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں وہ اپنے لوگوں کو خاموش رکھنے کے بجائے
بولنے کا حق دیتا ہے۔کیونکہ جو معاشرہ اپنے لوگوں کو بولنے نہیں دیتا، ایک دن اس کے لوگ اپنے خاموش جذبات کی زبان میں بولتے
ہیں۔پھر الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، شور بڑھ جاتا ہے، اور تاریخ اچانک کروٹ لیتی ہے۔لیکن تاریخ کی سب سے خوفناک کروٹ وہ نہیں ہوتی
جب لوگ چیخنے لگتے ہیں؛ سب سے خوفناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہ چیخنا چھوڑ دیتے ہیں، جب ان کے اندر احتجاج بھی مر جاتا ہے اور امید
بھی۔ کیونکہ غصے والا انسان ابھی زندہ ہے، مگر وہ انسان جس نے ناانصافی کو تقدیر سمجھ لیا ہو، وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی اندر سے دفن ہوچکا
ہوتا ہے۔اسی لیے ہر خاموشی کو امن سمجھنا حماقت ہے۔کبھی خاموشی طوفان سے پہلے کی آخری سانس ہوتی ہے۔ہر آنکھ جو نہیں روتی، ضروری
نہیں کہ اس میں درد نہیں؛ بعض آنکھوں نے اتنا کچھ دیکھا ہوتا ہے کہ آنسو بھی بے معنی ہوجاتے ہیں۔ ہر شخص جو خاموش ہے، ضروری نہیں
کہ وہ مطمئن ہے؛ ممکن ہے اس کے اندر برسوں سے ایک پوری دنیا چیخ رہی ہو۔اور ہر دبا ہوا سچ، وقت کے سینے میں ایک قرض بن کر محفوظ
رہتا ہے۔ وقت اس قرض کو معاف نہیں کرتا۔وہ اسے سود سمیت واپس کرتا ہے۔اس لیے جذبات کو دفن مت کیجیے، سچ کو خاموش مت کیجیے،
سوال کو قتل مت کیجیے۔ کیونکہ انسان کے اندر دفن کی جانے والی ہر حقیقت ایک دن اپنا کفن پھاڑ کر باہر آتی ہے۔پھر نہ دروازے اسے روک
سکتے ہیں، نہ دیواریں، نہ قوانین، نہ تخت، نہ تاج۔کیونکہ دفن کیا ہوا انسان کبھی کبھی مر جاتا ہے، مگر دفن کیا ہوا سچ کبھی نہیں مرتا۔وہ انتظار کرتا
ہے۔وقت کا۔ایک دراڑ کا۔ایک آواز کا۔اور پھر پوری تاریخ سے کہتا ہے:”میں مرا نہیں تھا؛ تم نے مجھے صرف دفن کیا تھا۔ پاکستان کا مسئلہ
صرف سیاسی یا معاشی بحران نہیں؛ اس کے اندر ایک طویل اجتماعی نفسیاتی بحران بھی سانس لے رہا ہے۔پاکستانی انسان نے دہائیوں سے
مہنگائی، غربت، بے روزگاری، طبقاتی فرق، سیاسی بے یقینی، ناانصافی اور طاقت کے غیر مساوی استعمال کو برداشت کیا ہے۔ اس نے بہت
کچھ دیکھا، بہت کچھ سہا، مگر اکثر اس کے پاس اپنی تکلیف کو بیان کرنے کے لیے نہ محفوظ جگہ رہی، نہ مؤثر آواز۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محرومی نے غصے
کی، غصے نے تلخی کی اور تلخی نے اجتماعی رویے کی شکل اختیار کرلی۔ارسطو نے انسان کو ‘‘سیاسی حیوان’’ کہا تھا، مگر جب شہری سیاست اور
ریاستی فیصلوں سے خود کو بے اختیار محسوس کرنے لگے تو وہ فعال شہری کے بجائے خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔ پاکستانی سماج میں یہی
کیفیت بارہا دکھائی دیتی ہے۔ لوگ ظلم دیکھتے ہیں، افسوس کرتے ہیں، چند لمحوں کے لیے غصہ کرتے ہیں اور پھر اپنی روزمرہ زندگی میں
واپس چلے جاتے ہیں۔مگر دبایا ہوا غصہ ختم نہیں ہوتا۔وہ گھروں، بازاروں، دفاتر، سڑکوں اور سوشل میڈیا کے رویوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
ٹریفک کا معمولی تنازع، معمولی اختلاف پر گالی، کمزور پر رعب، عورت کے خلاف تحقیر، ملازم کے ساتھ بدسلوکی-97یہ سب کبھی کبھی اس
اجتماعی بے بسی کے چھوٹے چھوٹے دھماکے ہوتے ہیں جو برسوں سے انسان کے اندر جمع ہے۔

فرانز کافکا کی دنیا میں انسان ایک ایسے نظام کے سامنے کھڑا ہے جس کے دروازے موجود ہیں مگر راستہ معلوم نہیں۔ پاکستانی انسان بھی
اکثر اسی کافکائی کیفیت میں مبتلا دکھائی دیتا ہے: اسے معلوم نہیں کہ انصاف کہاں ملے گا، اختیار کس کے پاس ہے اور اس کی آواز کہاں سنی
جائے گی۔لیکن امید ابھی زندہ ہے۔کیونکہ جس معاشرے میں سوال باقی ہو، وہاں انسان مکمل طور پر شکست نہیں کھاتا۔ کامیو کے ‘‘باغی
انسان’’ کی طرح پاکستانی انسان کو بھی ایک دن کہنا ہوگا: بس، یہاں تک۔یہ ‘‘نہیں’’ کسی شخص کے خلاف نہیں، ظلم، ناانصافی، خوف اور
غلامانہ ذہن کے خلاف ہونا چاہیے۔پاکستان کی حقیقی تبدیلی حکومت بدلنے سے نہیں، پاکستانی انسان کے اندر موجود خوف بدلنے سے شروع
ہوگی۔جس دن شہری رعایا بننے سے انکار کرے گا، جس دن طاقت کے بجائے قانون عزت کا معیار ہوگا، جس دن کمزور کی تکلیف بھی
طاقتور کے دکھ جتنی اہم سمجھی جائے گی، اس دن یہ معاشرہ صرف زندہ نہیں ہوگا-97بالغ بھی ہوگا۔کیونکہ دفن کیے گئے جذبات تاریخ میں کبھی
واقعی دفن نہیں رہتے؛ وہ کسی نہ کسی دن سوال بن کر واپس آتے ہیں، اور پھر سوال اگر اجتماعی شعور بن جائے تو کوئی دیوار ہمیشہ کے لیے قائم
نہیں رہتی۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں