میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نئے صوبے: ضرورت،سیاست یاقومی مصلحت؟

نئے صوبے: ضرورت،سیاست یاقومی مصلحت؟

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان کے قیام کو آٹھ عشرے مکمل ہونے میں چند ماہ رہ گئے ہیں لیکن ریاستی نظام کا بنیادی جغرافیائی ڈھانچہ آج بھی بڑی حد تک وہی
ہے جوآج سے مختلف تاریخی حالات میں طے پایاتھا ۔حالانکہ اِس دوران آبادی کئی گُنا بڑھ چکی ،شہروں کا پھیلاؤ ہوا،معاشی مراکز تبدیل
ہوئے ،نئی لسانی اور علاقائی شناختیں مضبوط ہوئیں اور کئی علاقوں میں یہ احساس پیداہوا کہ بڑے صوبوں کے اندر اُن کی سیاسی ،انتظامی اور
معاشی ضروریات کو وہ اہمیت نہیں مل رہی جس کے وہ حقدار ہیں۔ یہی احساس نئے صوبوں کے مطالبات کو جنم دینے کا باعث ہے ۔
آج ایک مرتبہ پھر یہ سوالات اہم ہیں کہ کیا پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے ؟اور کیا موجودہ چار صوبے اِتنے غیر متوازن ہوچکے
ہیں کہ انتظامی طورپر اُن کی تقسیم ضروری ہے یا نئے صوبوں کا قیام محدودوسائل رکھنے والے ملک کے لیے ایک نیا مالی بوجھ ثابت ہوگا؟
کیونکہ یہ سوال کسی ایک جماعت ،علاقے یا زبان کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کی بات ہے ۔

2023کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی چوبیس کروڑ پندرہ لاکھ ہے۔ پنجاب بارہ کروڑ ستتر لاکھ آبادی کے ساتھ ملک کا
سب سے بڑا صوبہ ہے جبکہ سندھ کی آبادی پانچ کروڑ ستاون لاکھ،خیبر پختونخواہ چارکروڑ نو لاکھ اور بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ اُنچاس
لاکھ ہے مگررقبے کے اعتبارسے صورتحال اِس کے برعکس ہے۔ بلوچستان ملک کے رقبے کا چوالیس فیصدہونے کے باوجود آبادی کا صرف
چھ فیصد رکھتا ہے۔ یہ اعداد و شمار خو داِ س بحث کی بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ کیا اِتنے بڑے انتظامی یونٹس موجوددور کی ضررویات پوری کر سکتے
ہیں ؟ پنجاب میں جنوبی پنجاب اور بہاولپورکو الگ صوبہ بنانے کے مطالبات ،خیبر پختونخواہ میں ہزارہ صوبے کی آواز،سندھ میں کراچی
کوالگ انتظامی حیثیت دینے کی بحث اور بلوچستان میں مختلف علاقوں کی محرومی کے احساس کو محض سیاسی نعرے قراردیکر نظر انداز نہیں کیا جا
سکتا کیونکہ اِن مطالبات کے پیچھے کہیں لسانی شناخت ہے،کہیں تاریخی وابستگی ہے ،کہیں معاشی محرومی اور کہیں انتظامی مرکز سے فاصلے کا
مسئلہ ہے تاہم یہاں ایک اور بنیادی سوال پیداہوتا ہے کہ ہر لسانی یا علاقائی شناخت کے لیے الگ صوبہ ضروری ہے؟اگر جواب ہاں میں ہو
توپاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کا مسئلہ شاید کبھی ختم نہ ہو کیونکہ ایک علاقے کی شناخت دوسرے علاقے سے مختلف ہے اور ہر خطے
کے اپنے تاریخی اور ثقافتی حوالے موجود ہیں۔ لیکن ریاستیں صرف زبان،نسل یا ثقافت کی بنیادپر نہیں چل سکتیں۔ انتظامی صلاحیت ،معاشی
استطاعت، جغرافیہ ،وسائل،آبادی اور قومی مفاد بھی اتنی ہی اہم حقیقتیں ہیں۔ لہٰذا نئے صوبوں کی بحث کو لسانی اور قومیت کے بجائے
انتظامی ضرورت اور عوامی رضامندی کے اصول پر رکھنا زیادہ مناسب ہوگا ۔

نئے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس حکومت کوعوام کے قریب لے آتے ہیں۔ اگر کسی
علاقے کا دارالحکومت سینکڑوں کلومیٹر دور ہو،اہم فیصلے ایک بڑے شہری مرکز میں ہوتے ہوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مسلسل دوسرے
علاقوں پر انحصار کرناپڑے تومحرومی کااحساس پیداہونافطری عمل ہوتا ہے ۔جنوبی پنجاب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اگر کسی خطے کے
لوگوں کو یہ محسوس ہو کہ اُن کے علاقے کے وسائل،ترقیاتی منصوبے اور انتظامی فیصلے کسی دورکے مرکز میں طے ہوتے ہیں تو الگ صوبے کا
مطالبہ محض سیاسی خواہش نہیں رہتا بلکہ نمائندگی کا سوال بن جاتا ہے لیکن دوسری طرف نئے صوبے کا مطلب صرف نئی سرحدنہیں، اِس کے
ساتھ نئی صوبائی اسمبلی ،گورنر ہاؤس،وزیرِ اعلیٰ سیکریٹریٹ ،پولیس،محکموں کے دفاترعدالتوں کا ڈھانچہ اور دیگر اِدارے بھی درکار ہوں گے۔

یہاں یہ سوال ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی مالی وسائل محدودہیں اور حکومتیں اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونِ ملک اور
اندرونِ ملک قرض لینے جیسی مشکلات کا سامنا کررہی ہیں توکیااِن حالات میں ہم مزید انتظامی ڈھانچے کا بوجھ اُٹھا سکتے ہیں ؟
یہاں قومی مالیاتی کمیشن یعنی این ایف سی کا سوال بھی انتہائی اہم ہے نئے صوبے بننے کے بعد وفاقی وسائل کی تقسیم کا فامولہ دوبارہ زیرِ
بحث آئے گا۔وسائل آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہوں، رقبے کو اہمیت دی جائے ،پسماندگی کو معیاربنایا جائے یا محصولات پیداکرنے کی صلاحیت
کو؟ یہ سب سوالا ت ایسے ہیں جن پر سیاسی اتفاق آسان نہیں ہوگا۔ اِس لیے یہ سمجھنا درست نہیں کہ صوبہ بن جانے کے بعد پسماندگی
خودبخود ختم ہوجائے گی اگر کسی علاقے میں بدعنوانی ،کمزوراِدارے،ناقص تعلیم،صحت کی سہولتوں کی کمی ،بے روزگاری اور سیاسی مداخلت
بڑھ جائے تو صرف صوبائی دارالحکومت تبدیل کرنے سے یہ مسائل ختم نہیں ہوں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بلدیاتی نظام کی اہمیت زیادہ
واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔

ایک عام شہری کے لیے شاید زیادہ اہم نہیں کہ اُس کاصوبائی دارالحکومت کتنی دورہے ؟اُسے صاف پانی،اچھی سڑک، اسکول، ہسپتال،
روزگار، صفائی،نکاسی آب اور مقامی سطح پر فوری انصاف چاہیے۔ اگر یہ اختیارات مضبوط اور باختیاربلدیاتی اِداروں کو دے دیے جائیں تو
بڑے صوبوں کے اندرموجود بہت سی انتظامی شکایات ختم کی جا سکتی ہیں ۔پاکستان میں صوبوں کی بحث کے ساتھ ایک دوسری بحث بھی ہونی
چاہیے کہ کیا ہم اختیارات صوبائی دارالحکومتوں سے نکال کر ضلعی اور مقامی سطح تک منتقل کرنے کے لیے تیارہیں؟اگر نہیں تو نئے صوبے بھی
شاید وہی مرکزیت دوبارہ پیداکردیں گے جس کے خلاف آج آوازیں بلند ہورہی ہیں۔اِس کے باوجودنئے صوبوں کے مطالبات کو صرف
بلدیاتی نظام کا حوالہ دیکریکسر مسترد کرنا بھی درست نہیں۔

اسلام آباد کو محض ضمنی طورپر نہیں بلکہ نئے صوبوں کی بحث کے ایک اہم کیس کے طورپر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ آئینی حیثیت میں
اسلام آباد وفاقی دارالحکومت اور صوبوں سے الگ علاقہ ہے۔ ایسے حالات میں جب نئے صوبوں کی بحث میں آئینی اور سیاسی پیچیدگیاں
موجود ہیں توضرورت اِس امر کی ہے کہ فیصلے کرتے وقت کوشش کی جائے کہ نئی نسلی ،علاقائی شناختیں مضبوط کرنے کی بجائے ایسے فیصلے کیے
جائیں جن سے وسائل اور اختیارات کی منتقلی کا شفاف عمل بنے اور عام شہری کے مسائل حل ہوں۔ کراچی،بہاولپوراورہزارہ صوبے اگربنانا
ہے تو لسانیت یاقومیت کو بنیاد نہ بنایاجائے ۔اگر ایسا کیا جاتاہے تو فوائد سے مُضمرات بڑھ جائیں گے ۔معاشرے کی تقسیم کا عمل مزید فروغ
پائے گا۔لہٰذالازم ہے کہ نئے صوبے بناتے وقت سیاسی ضرورتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتظامی ضرورتوں کو مدِ نظر رکھاجائے تاکہ
ملک مضبوط اور مستحکم ہواور ترقی کے ثمرات دوردراز علاقوں تک پہنچائے جا سکیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں