میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تین فیکٹریاں بند کرو!

تین فیکٹریاں بند کرو!

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۴ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

کبھی کبھی کسی ملک کی ترقی کے راستے میں سڑکیں، پل، بجلی یا پیسہ رکاوٹ نہیں بنتے ، بلکہ وہ چیزیں رکاوٹ بن جاتی ہیں جنہیں ہم
برسوں سے معمول سمجھ کر قبول کرتے آئے ہوتے ہیں۔پاکستان میں بھی شاید یہی ہو رہا ہے ۔ہم نئی فیکٹریاں لگانے کی بات کرتے ہیں، نئی
صنعتیں قائم کرنے کے منصوبے بناتے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری کے خواب دیکھتے ہیں، نوجوانوں کو کاروبار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں،
روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے نعرے لگاتے ہیں، مگرشاید ہم نے کبھی یہ سوال نہیں پوچھا کہ جو ملک ترقی کرنا چاہتا ہے ، وہاں ترقی کو
روکنے والی کتنی فیکٹریاں پہلے سے چل رہی ہیں۔۔۔؟یہ فیکٹریاں اینٹوں، لوہے اور مشینوں سے نہیں بنتیں۔ان کی کوئی چمنی نہیں ہوتی،
دھواں آسمان پرنہیں جاتا، باہر کوئی سائن بورڈ نہیں لگا ہوتا، مگر یہ دن رات چلتی ہیں۔۔۔اورعجیب بات یہ ہے کہ ان فیکٹریوں میں مصنوعات نہیں بنتیں، رکاوٹیں بنتی ہیں۔یہاں کاروبار کے راستے میں رکاوٹیں تیارہوتی ہیں، کامیاب آدمی کے خلاف حسد تیارہوتا ہے ،
ترقیاتی منصوبوں کے راستے میں کاغذی دیواریں تیارہوتی ہیں، اجازت ناموں کے نام پرتاخیرتیار ہوتی ہے ، رشوت کے نئے دروازے
تیارہوتے ہیں اور کبھی کبھی ایک ایسا ماحول تیارہوجاتا ہے جس میں محنت کرنے والا انسان آخرکار یہ سوچنے لگتا ہے کہ شاید اس ملک میں
محنت سے زیادہ ضروری کسی نہ کسی طاقتور شخص کی سفارش ہے ۔ہم اکثر پوچھتے ہیں کہ پاکستان ترقی کیوں نہیں کر رہا؟شاید سوال یہ نہیں
ہونا چاہیے ۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو ترقی کرنے سے کون روک رہا ہے ؟کیونکہ اگر ایک شخص کاروبار شروع کرنا چاہے ، اسے اتنے محکموں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں کہ کاروبار سے پہلے ہی اس کا حوصلہ ختم ہوجائے ،اگرکوئی شخص محنت کرکے کامیاب ہوجائے تو اس کی کامیابی دوسروں کے لیے خوشی کے بجائے حسد بن جائے اوراگرکوئی شخص ملک میں اسپتال، صنعت، تعلیمی ادارہ یا کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ
بنانا چاہے تو اسے ترقی کے بجائے اجازتوں، اعتراضات، فائلوں، مافیاز اورمطالبات کے ایسے جنگل سے گزرنا پڑے جہاں ہر قدم پر کوئی نہ کوئی دیوار کھڑی ہو،تو پھر ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں ترقی کی رفتار اتنی سست کیوں ہے ۔ہمیں نئی فیکٹریاں لگانے سے پہلے تین پرانی فیکٹریاں بند کرنا ہوں گی۔ایک فیکٹری ہے اینٹی بزنس، دوسری ہے ،اینٹی سکسس اورتیسری ہے ،اینٹی ڈویلپمنٹ۔یہ تینوں فیکٹریاں خاموشی سے چل رہی ہیں۔ اورشاید پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ان کے شورکے عادی ہوچکے ہیں۔

بات کرتے ہیں ‘‘اینٹی بزنس فیکٹری’’ کی۔پاکستان میں کاروبار کرنا صرف کاروبار کرنا نہیں، ایک طویل امتحان سے گزرنا ہے ۔ آدمی اپنے پیسے سے دکان کھولتا ہے ، فیکٹری لگاتا ہے ، صنعت شروع کرتا ہے ، لوگوں کو روزگار دیتا ہے ، حکومت کو ٹیکس دیتا ہے ، بجلی کا بل دیتا ہے ، گیس کا بل دیتا ہے ، کرایہ دیتا ہے ، مزدور کی تنخواہ دیتا ہے ، مگر اس کے باوجود اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کوئی جرم کر رہا ہے اور ریاست اس جرم کی تفتیش پر مامور ہے ،ہم نے کاروباری آدمی کو سہولت دینے کے بجائے اسے محکموں کے درمیان فٹ بال بنا دیا ہے ،ایک محکمہ اجازت مانگتا ہے ، دوسرا فائل، تیسرا معائنہ، چوتھا تصدیق، پانچواں اعتراض۔۔اورکہیں نہ کہیں کوئی ایسا دروازہ بھی آجاتا ہے جہاں فائل کی رفتار اچانک اس وقت تیزہوتی ہے جب ہاتھ گرم ہوجائیں۔یہی وہ ماحول ہے جس نے ہمارے نوجوان کے ذہن میں ایک خطرناک خیال پیدا کردیا ہے کہ نوکری محفوظ ہے ، کاروبار مصیبت ہے ،اس لیے ہمارا نوجوان کاروبار کا خطرہ مول لینے کے بجائے سرکاری یا نجی ملازمت کو ترجیح دیتا ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ نوکری میں کم از کم یہ خوف تو نہیں کہ کل پانچ محکمے اس کے دروازے پر کھڑے ہوں گے اور چھٹا محکمہ اس سے پوچھ رہا ہوگا کہ آپ نے کاروبار کرنے کی جرات کیسے کی؟

یہاں اصل سوال ریاست سے ہے ،دنیا بھرمیں حکومتیں کاروبار کو اپنے ملک کی معیشت کا انجن سمجھتی ہیں، ہم اکثر اسے آمدنی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہاں حکومت سوچتی ہے کہ کاروبار بڑھے گا تو روزگار بڑھے گا، پیداوار بڑھے گی، برآمدات بڑھیں گی، ٹیکس بڑھے گا اور ملک آگے جائے گا۔ہم سوچتے ہیں کہ کاروبار کرنے والا پہلے کتنا ٹیکس دے سکتا ہے ۔فرق صرف اتنا سا ہے ، مگراسی فرق نے کئی ملکوں کو ہم سے بہت آگے پہنچا دیا ہے ۔کاروباری آدمی کو اگر ہر قدم پر یہ احساس دلایا جائے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی نہیں بلکہ اس کی جیب میں کھڑی ہے تو وہ ایک دن اپنا سرمایہ اٹھا کر کہیں اور لے جائے گا،پھرہم بیٹھ کرغیر ملکی سرمایہ کاری کے منتظر رہتے ہیں،بھلا باہر کا سرمایہ کار کیوں آئے گا؟وہ اپنے ملک سے سرمایہ نکال کر ایسے ملک میں کیوں لائے گا جہاں اسے سب سے پہلے منافع نہیں، محکموں کا سامنا کرنا پڑے ؟ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستانی اپنا سرمایہ بیرون ملک لے جا رہے ہیں،لیکن کبھی یہ سوال بھی تو کریں کہ وہ اسے یہاں رکھیں کیوں؟ سرمایہ بھی انسان کی طرح ہے ،جہاں عزت، تحفظ اور مستقبل نظر آئے ، وہیں ٹھہرتا ہے اورجہاں ہر طرف خطرہ نظر آئے ، وہاں سے خاموشی سے چلا جاتا ہے ۔اینٹی بزنس فیکٹری صرف کاروبار بند نہیں کرتی، یہ روزگار بند کرتی ہے ، سرمایہ روکتی ہے ، نوجوانوں کے خواب چھوٹے کرتی ہے اور ملک کی ترقی کی رفتار کم کرتی ہے ۔مگر مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا،فرض کریں کوئی شخص تمام رکاوٹیں عبورکرکے کامیاب ہوجاتا ہے ،اس نے محنت کی، خطرہ مول لیا، سرمایہ لگایا، لوگوں کو روزگار دیا اور آخرکار کامیاب ہوگیا،اب اسے لگتا ہے کہ شاید اس کی محنت کا صلہ مل گیا۔مگر پاکستان میں ایک اور فیکٹری پہلے ہی اس کے استقبال کیلئے تیار بیٹھی ہے ۔

اینٹی سکسس فیکٹری۔۔ہمارے معاشرے میں کامیابی عجیب چیز ہے ، جیسے ہی کوئی شخص کامیاب ہوجائے ، کچھ لوگ اس کی کامیابی سے خوش ہونے کے بجائے یہ سوچنے لگتے ہیں کہ یہ اتنا آگے کیسے نکل گیا؟ پھرحسد پیدا ہوتا ہے ، حسد سے سازش جنم لیتی ہے اور سازش کے بعد کامیاب آدمی کے خلاف کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔کبھی کوئی سرکاری محکمہ آجاتا ہے ، کبھی کوئی سیاسی گروہ، کبھی کوئی بھتہ خوراور کبھی کوئی میڈیا ہاؤس اسے دباؤ میں لانے کی کوشش کرتا ہے ۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کامیاب آدمی اپنی کامیابی کو نعمت کے بجائے بوجھ سمجھنے لگتا ہے ۔

اور پھر آتی ہے تیسری فیکٹری، اینٹی ڈویلپمنٹ فیکٹری،آپ اسپتال بنانا چاہیں، صنعت لگانا چاہیں، کوئی بڑا منصوبہ شروع کرنا چاہیں، تو سب سے پہلے ترقی نہیں آتی، اجازتوں کی قطار آتی ہے ۔فائل ایک میز سے دوسری میز پرجاتی ہے ، اعتراض لگتا ہے ، نئی فائل مانگی جاتی ہے ، نیا محکمہ سامنے آجاتا ہے ۔ کہیں رشوت کا مطالبہ ہوتا ہے اور کہیں مختلف مافیاز منصوبے کو اپنے مفاد کے لیے گھیر لیتے ہیں،آخرکار بہت سے لوگ تھک جاتے ہیں،سرمایہ بچا لیتے ہیں، منصوبہ چھوڑ دیتے ہیں۔اورہم پھر حیران ہوتے ہیں کہ پاکستان میں بڑے منصوبے کیوں نہیں بن رہے ؟ ملک صرف بجٹ سے ترقی نہیں کرتے ، ماحول سے ترقی کرتے ہیں۔اگرکاروبار کرنے والا خوفزدہ ہو، کامیاب ہونے والا غیرمحفوظ ہو اورترقیاتی منصوبہ بنانے والا ذلیل ہو تو پھر ترقی کے نعرے کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں، ملک آگے نہیں بڑھتا۔اس لیے پاکستان کو شاید سب سے پہلے نئی فیکٹریاں لگانے کی نہیں، یہ تین فیکٹریاں بند کرنے کی ضرورت ہے ۔جب کاروبارکوعزت ملے گی، کامیابی کو تحفظ ملے گا اور ترقی کو راستہ ملے گا، تب شاید پاکستان میں فیکٹریاں بھی لگیں گی، روزگار بھی بڑھے گا اور وہ سرمایہ بھی واپس آئے گا جو آج بہتر مستقبل کی تلاش میں سرحد پار جا رہا ہے ۔ترقی تقریروں سے نہیں آتی، ترقی کے راستے سے رکاوٹیں ہٹانے سے آتی ہے ۔
٭٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں