میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایک نظر انداز کی گئی داستان

ایک نظر انداز کی گئی داستان

جرات ڈیسک
جمعرات, ۳۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض نعرے وقتی جوش پیدا کرتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں، جبکہ کچھ آوازیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی بازگشت برسوں بعد زیادہ واضح سنائی دیتی ہے۔‘‘سیاست نہیں، ریاست بچاؤ’’۔بھی ایسا ہی ایک نعرہ تھا، جس نے 23 دسمبر 2012 کو قومی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے اسے ایک سیاسی مہم یا احتجاجی سرگرمی سمجھا، لیکن اس کے پس منظر میں ایک بنیادی سوال موجود تھا: کیا پاکستان کا بحران صرف حکومتوں کی تبدیلی کا ہے ، یا ریاستی نظام کی کمزوری کا؟اب یہ سمجھ آرہا ہے جب کئی سانحات جنم لے چکے مگرقوم میں شعور کی آنکھ کا کھلنا ابھی باقی ہے ۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا مؤقف یہ تھا کہ اگر انتخابی نظام شفاف نہ ہو، آئین پر مکمل عملدرآمد نہ ہو، احتساب کا نظام کمزور ہو، کرپشن اداروں میں سرایت کر جائے اور قانون کی حکمرانی محض کتابوں تک محدود رہ جائے ، تو صرف حکمرانوں کے چہرے بدلنے سے عوام کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ ان کے نزدیک مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ نظام کا تھا، اور جب تک نظام میں بنیادی اصلاحات نہیں ہوں گی، سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اورعوامی بے چینی کا سلسلہ جاری رہے گا۔یہ سوچ پاکستان کی سیاسی روایت سے کسی حد تک مختلف تھی، کیونکہ یہاں سیاست زیادہ تر حکومت گرانے یابنانے کے گرد گھومتی رہی ہے ، جبکہ ریاستی اصلاحات، انتخابی شفافیت، ادارہ جاتی خودمختاری اور آئینی عملداری پر نسبتاً کم توجہ دی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ‘‘سیاست نہیں، ریاست بچاؤ’’کا نعرہ محض ایک انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ایک فکری بحث کی صورت اختیار کر گیا۔اسی سوچ کے تسلسل میں جنوری 2013 میں اسلام آباد کا پانچ روزہ دھرنا منعقد ہوا، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے نمایاں پُرامن احتجاجوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ شدید سردی، بارش اور سخت موسمی حالات کے باوجود ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت نے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی۔ اس احتجاج کے اختتام پر حکومت اور تحریکِ منہاج القرآن کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پایا، جس میں انتخابی اصلاحات، امیدواروں کی جانچ پڑتال، آئینی تقاضوں کے مطابق انتخابات کے انعقاد اور انتخابی عمل کو زیادہ شفاف بنانے جیسے نکات شامل تھے ۔ اس معاہدے نے یہ تاثر پیدا کیا کہ عوامی دباؤ کے ذریعے بھی آئینی اور انتخابی اصلاحات پر قومی سطح پر گفتگو ممکن ہے ۔

اگرچہ اس معاہدے کے تمام نکات مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکے ، تاہم اس نے انتخابی اصلاحات کے موضوع کو قومی بحث کا حصہ ضرور بنا دیا۔ بعد کے برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں، پارلیمانی کمیٹیوں اور انتخابی اداروں نے بھی انتخابی شفافیت، ووٹر لسٹوں، انتخابی اخراجات، امیدواروں کی اہلیت اور انتخابی قوانین میں تبدیلی جیسے معاملات پر توجہ دی۔ اس اعتبار سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس تحریک نے بعض ایسے سوالات کو نمایاں کیا جو بعد میں قومی ایجنڈے کا حصہ بنے ۔

2014 میں انقلاب مارچ نے اس بحث کو مزید وسعت دی۔ اس مارچ میں انتخابی شفافیت، احتساب، کرپشن کے خاتمے اور بہتر طرزِ حکمرانی کے مطالبات دوبارہ سامنے آئے ۔ اگرچہ مختلف سیاسی قوتوں نے اس مارچ کو اپنے اپنے زاویے سے دیکھا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس نے پاکستان میں عوامی احتجاج، آئینی اصلاحات اور ریاستی احتساب کے حوالے سے نئی سیاسی بحثوں کو جنم دیا۔

اسی سال پیش آنے والا سانحۂ ماڈل ٹاؤن پاکستان کی سیاسی اور قانونی تاریخ کا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ثابت ہوا۔ اس سانحے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ، جس کے بعد انصاف، شفاف تحقیقات، ریاستی طاقت کے استعمال اور قانون کی بالادستی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ۔ اس واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ وسیع تر معاشرے میں بھی یہ احساس پیدا کیا کہ ریاستی اداروں کی طاقت ہمیشہ قانون اور آئین کے دائرے میں استعمال ہونی چاہیے ۔ بعد ازاں اس سانحے کے مختلف قانونی اور عدالتی پہلو زیرِ بحث رہے اور یہ معاملہ آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے ۔

ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کی جماعت کے حامیوں کا مؤقف رہا کہ انہوں نے برسوں پہلے جن مسائل کی نشاندہی کی، وہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید نمایاں ہوتے گئے ۔ ان کے مطابق انتخابی اصلاحات، میرٹ، کرپشن کے خاتمے ، آئین کی بالادستی، عوامی نمائندگی کے معیار، ادارہ جاتی اصلاحات اور ریاستی احتساب جیسے موضوعات بعد میں تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے منشور اور بیانیے کا حصہ بن گئے۔ ان کا استدلال ہے کہ اگر ان تجاویز پر بروقت عمل کیا جاتا تو شاید پاکستان کو متعدد سیاسی اور آئینی بحرانوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

دوسری طرف ناقدین نے ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی حکمت عملی، ان کے مختلف سیاسی اتحادوں اور بعض مواقع پر اختیار کیے گئے فیصلوں پر سوالات بھی اٹھائے ۔ ان کے نزدیک بعض سیاسی اقدامات مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے اور بعض فیصلوں نے مزید سیاسی پیچیدگیاں پیدا کیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں ایسے اختلافات فطری ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سیاسی تحریک یا رہنما کا جائزہ جذبات کے بجائے حقائق، دستاویزی شواہد، آئینی اصولوں اور عملی نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے ۔

آج جب پاکستان بار بار سیاسی کشیدگی، آئینی تنازعات، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی چیلنجز سے دوچار ہوتا ہے تو‘‘سیاست نہیں، ریاست بچاؤ’’کا سوال ایک مرتبہ پھر اہم محسوس ہوتا ہے ۔ کیا ہمارا اصل مسئلہ صرف اقتدار کی تبدیلی ہے ، یا ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جو شفاف انتخابات، آزاد احتساب، قانون کی مساوی حکمرانی، مضبوط اداروں، مؤثر مقامی حکومتوں اور عوامی خدمت پر مبنی حکمرانی کو یقینی بنا سکے ؟ یہ سوال صرف ایک جماعت یا ایک شخصیت سے متعلق نہیں بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے سے وابستہ ہے ۔دنیا کے کامیاب ممالک کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ مضبوط ریاستیں مضبوط اداروں سے بنتی ہیں، نہ کہ صرف مضبوط شخصیات سے ۔ جہاں قانون سب پر یکساں لاگو ہو، احتساب بلاامتیاز ہو، انتخابی عمل شفاف ہو، عدلیہ آزاد ہو اور ریاستی ادارے آئینی حدود میں کام کریں، وہاں سیاسی اختلافات بھی جمہوری طریقے سے حل ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس کمزور ادارے ہر چند سال بعد نئے بحرانوں کو جنم دیتے ہیں۔

پاکستان کے نوجوان، جو آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، بھی اب روایتی سیاسی نعروں سے زیادہ عملی نتائج چاہتے ہیں۔ وہ روزگار، معیاری تعلیم، انصاف، میرٹ، معاشی استحکام اور شفاف حکمرانی کے خواہاں ہیں۔ ان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون اقتدار میں ہے ، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست انہیں مساوی مواقع، تحفظ اور بہتر مستقبل فراہم کر سکتی ہے ۔

اختلافِ رائے ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے ، اور یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے ۔ تاہم کسی بھی سیاسی تحریک، رہنما یا نظریے کا جائزہ صرف نعروں یا شخصیات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے دلائل، مقاصد، آئینی مطابقت، عوامی اثرات اور عملی نتائج کی روشنی میں لیا جانا چاہیے ۔ باشعور معاشرے اسی طرزِ فکر کو فروغ دیتے ہیں، کیونکہ شخصیات وقتی ہوتی ہیں لیکن ریاستیں مستقل ہوتی ہیں۔ اگر سیاسی مقابلہ ریاستی مفاد پر غالب آ جائے تو نقصان پوری قوم کو اٹھانا پڑتا ہے ، جبکہ اگر ریاستی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے تو سیاسی اختلافات بھی قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے ۔
شاید یہی وہ بنیادی پیغام تھا جو ایک دہائی قبل ‘‘سیاست نہیں، ریاست بچاؤ’’کے نعرے کے ذریعے دیا گیا تھا۔ اس پیغام سے اتفاق یا اختلاف ہر فرد کا حق ہے ، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان آج بھی انہی بنیادی سوالات سے نبرد آزما ہے : شفاف انتخابات، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مضبوط ادارے ، مؤثر احتساب اور عوامی فلاح۔ جب تک ان بنیادی مسائل کا پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاتا، حکومتیں بدلتی رہیں گی مگر عوام کی مشکلات اور ریاست کو درپیش چیلنجز مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے ۔ ریاستیں صرف اقتدار کی تبدیلی سے
نہیں بلکہ مضبوط نظام، مؤثر اداروں، آئینی عملداری اور قومی یکجہتی سے مستحکم ہوتی ہیں، اور یہی ہر باشعور قوم کی اصل منزل ہونی چاہیے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں