میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اُتر پردیش میں ہزار سالہ پرانی مسجد شہید

اُتر پردیش میں ہزار سالہ پرانی مسجد شہید

جرات ڈیسک
منگل, ۲۱ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بھارت میں برسرِاقتدار بی جے پی کی ہندوتوا قیادت مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو مٹانے پر تل گئی، بھارتی ریاست اترپردیش کے تاریخی شہر وارانسی میں واقع 1000 سال قدیم "گنجِ شہیداں” مسجد کو مسمار کرنے کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ معروف بھارتی جریدے ‘مسلم مرر’کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مودی سرکار مسلمانوں کے مذہبی اور ثقافتی وجود کو ختم کرنے کے ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مودی حکومت نے گزشتہ 45 دنوں کے دوران 23 سے زائد مساجد، مدارس، عیدگاہیں اور درگاہیں منہدم کیں ، اب ہندوتوا سرکار کی جانب سے 1000 سال پرانی تاریخی مسجد سے لے کر 200 سال پرانی درگاہوں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔صرف مئی سے اب تک 20 سے زائد مسلم مذہبی مقامات کو مسمار کیا جا چکا ہے، جبکہ اترپردیش کے ہی شہر سنبھل میں ایک 600 سال پرانی درگاہ کو عدالت سے ریلیف نہ ملنے کے بعد زمین بوس کر دیا گیا۔

پاکستان نے وارانسی میں 1000 سال پرانی گنجِ شہیداں مسجد کو مسمار کرنے کے نوٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔بھارت مسلمانوں کی تاریخ اور شناخت مٹانے کی پالیسی پر گامزن ہے، مودی سرکار ایسی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے اور اقلیتوں کے حقوق سمیت مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنائے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم "جسٹس فار آل” نے بھی بھارت میں مسلم مذہبی اور تاریخی مقامات کی منظم مسماری اور انہیں لاحق شدید خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔حکومتی رہنماؤں نے کہا کہ مساجد کی یہ عمارتیں مبینہ طور پر اجازت کے بغیر غیر قانونی طریقے سے تعمیر کی گئی تھیں۔بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانونی اور انتظامی ضابطوں کے مطابق کی جا رہی ہیں۔یاد رہے کہ مودی کے بھارت میں اس سے قبل بھی درجنوں مذہبی ڈھانچے گرائے جا چکے ہیں۔

بھارت میں مودی حکومت کے دور میں مسلم دشمن پالیسیوں اور اقدامات میں تیزی آ گئی ہے جس سے مسلمانوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کی ریاستی حکومت اور اس کے زیر اثر پولیس آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رہی ہے۔ متھورا شہر کو ستمبر 2021میں مقدس قرار دیے جانے کے بعد سے مسلم اکثریتی علاقوں میں گوشت کی دکانیں اور ہوٹل بند کر دیے گئے ہیں جس سے مقامی مسلمانوں کا روزگار شدید متاثر ہوا ہے۔پولیس کو گائے کے تحفظ کے قوانین کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہیں جنہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات کا اندراج، بلاجواز گرفتاریاں اور سماجی امتیاز ایک معمول بن چکا ہے۔ مسلمانوں میں خوف کی فضا اس قدر پھیل چکی ہے کہ وہ گوشت کھانے یا خریدنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ متھورامیں مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند رہنما مسلمانوں کو دیمک کہہ کر پکارتے ہیں جبکہ نوجوان مسلمان ہندو شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ہندو مذہبی رنگوں والے زعفرانی کپڑے پہننے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے قبرستانوں کے قریب کچرے کے ڈھیر لگائے جا رہے ہیں اور مساجد کے قریب بیت الخلاء تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں مساجد پر قبضوں، اذان پر پابندی اور گھروں کی مسماری کی کارروائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں جو آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی مودی حکومت کے نظریاتی بیانیے اور ہندو قوم پرستی کے عروج کا نتیجہ ہے جس نے ملک کے سیکولر تشخص کی دھجیاں اڑادی ہیں۔ مساجد کے خلاف کارروائیاں دلی، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور ہریانہ سمیت مختلف ریاستوں میں تجاوزات کے خاتمے اور سڑکوں کی توسیع کے نام پر کی گئیں۔انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور گرانے سے قبل متاثرہ فریقوں کو مناسب نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانونی اور انتظامی ضابطوں کے مطابق کی جا رہی ہیں۔امریکی تنظیم "جسٹس فار آل” نے بھی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی آزادی اور قانون کے مساوی اطلاق کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں