میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار

کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار

جرات ڈیسک
منگل, ۱۴ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کی آئی جی سندھ اور اعلیٰ پولیس حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس

…………….

 

گلستان جوہر میں رینجرز کیمپ پر حملے میں ملوث سہولت کاروں کا نیٹ ورک بے نقاب کردیا گیا، حملے کے ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کو رینجرز نے گرفتار کرلیا۔

کراچی میں وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے آئی جی سندھ جاوید عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک، ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 27 جون کو سندھ رینجرز کی کراچی ٹرانسپورٹ کمپنی پر چار دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں تین دہشت گردوں کا تعلق افغانستان جبکہ ایک کا باجوڑ سے تھا جو 20 برس افغانستان میں رہا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ دہشت گردوں کے تمام ہینڈلرز افغانستان سے اُنہیں ہدایات دے رہے تھے، دہشت گردوں کا مقصد لوگوں کو یرغمال بناکر جانی نقصان پہنچانا تھا، سندھ رینجرز کے کامیاب آپریشن میں تین دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا، سیکیورٹی فورسز نے دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دی۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے کہا کہ اس دہشت گردی کی کارروائی کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلے افغانستان میں منصوبہ بندی ہوئی، دوسرے مرحلے میں دہشتگردوں کو پاکستان پہنچایا گیا، تیسرا مرحلہ سہولت کار گروپ کا تھا اور آخر میں اسلحہ و خود کش جیکٹس فراہم کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک خودکش بمبار جانان افغانی تھا، دوسرا باجوڑ کا رہنے والا تھا، تیسرا دہشت گرد عمر فاروق افغانستان کنڑ کا رہائشی تھا اور چوتھا دہشت گرد جو زندہ گرفتار ہوا ہوا اسکا صوبہ نگر ہار سے تعلق ہے۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی نے کہا کہ حملے کی منصوبہ بندی میں نور ولی، شیر علی، سعید شاہ، جماعت الاحرار کا امیر بصیر عرف احرار اور دیگر ملوث ہیں،

حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر ہے جسے پاکستان سے افغانستان بلا کر یہ ٹاسک دیا گیا۔ رینجرز نے ایک کارروائی کے دوران قاری بشیر کو گرفتار کرلیا ہے جس نے حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق تمام جرائم کا اعتراف کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں حملے کے لئے افغانستان میں ہی دہشت گردوں کا چناؤ ہوا۔ دہشت گرد عثمان جو زخمی پکڑا گیا اس نے اعتراف کیا کہ اسے مختلف کیمپس پر تربیت دی گئی، دہشت گرد عثمان کو افغانستان کے ایک جامعہ سے منتخب کیا گیا تھا، دہشت گردوں کو کراچی بھیجنے سے قبل افغانستان میں دو کیمپس پر تربیت فراہم کی گئی۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے کہا کہ مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے یہ تمام دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوئے، گرفتار زخمی دہشت گرد نے اعترافی بیان میں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے، پریس کانفرنس کے دوران گرفتار ماسٹر مائنڈ دہشت گرد قاری بشیر کا اعترافی ویڈیو بیان اور خودکش بمبار جانان کا ویڈیو بیان بھی اسکرین پر چلایا گیا۔

عرفان بہادر نے بتایا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا یہ گروہ حب سٹی پہنچا، وہاں سے ایک گاڑی کے ذریعے دہشت گرد چمڑا چورنگی تک آئے، قاری بشیر نے دہشت گردوں کا کرائے پر کمرہ حاصل کرکے فراہم کیا، قاری بشیر سمیت مجموعی طور پر دہشت گردی کی کارروائی میں 13 لوگ ملوث ہیں۔ دہشت گرد عثمان نے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر موسمیات جاکر ریکی کی۔

انہوں نے کہا کہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تمام دہشت گرد افغانستان میں موجود ہیں، افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، دہشت گردوں کو باقاعدہ تربیت دے کر کراچی میں حملوں کے لئے بھیجا جارہا ہے، قاری بشیر نے ناقابل تردید شواہد پیش کئے ہیں، فتنہ الخوارج کے لئے محفوظ پناہ گاہ کے طور افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان میں حملوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملے کا ماسٹرمائنڈ قاری بشیر گرفتار ہوچکا ہے جس نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے، قاری بشیر کے موبائل فون سے حملے کی تیاری اور حملے کیلئے روانگی کی ویڈیوز بھی مل گئیں جس میں دہشت گردوں کو تیاری کرکے حملے کے لیے نکلتے دیکھا جاسکتا ہے۔ قاری بشیر نے حملے سے قبل دہشت گردوں کو رخصت کیا اور ویڈیو بنائی۔

گرفتار دہشت گرد قاری بشیر کے مطابق حملے کیلئے ہتھیار سعید شاہ نے کراچی بھیجے، احسان اللہ نامی شخص سے تمام ہتھیار وصول کئے، پہلے مرحلے میں کلاشنکوف بعد میں دستی بم فراہم کئے گئے، قاری بشیر نے بتایا کہ وہ اسلحہ فراہم کرنے والے کو نہیں جانتا تھا، ہتھیار فراہم کرنے والے گروپ میں رحیم افریدی سمیت چھ لوگ ملوث ہیں۔

دہشت گرد قاری بشیر نے ویڈیو بیان میں کہا کہ ٹی ٹی پی کمانڈر سعید شاہ نے مجھ سے رابطہ کرکے ہتھیار پہنچانے کا کام دیا، میں نے لیاقت سے تمام ہتھیار وصول کئے اور کراچی میں کورنگی کراسنگ پر فراہم کئے، جب تیاری مکمل ہوئی تو قاری بشیر نے دہشت گردوں کو ٹیکسی پر روانہ کیا، دہشت گرد جانان نے خود کو دھماکے سے اڑایا جس کے بعد تین ساتھی اندر داخل ہوئے، پہلے دو دہشت گرد پھر تیسرا اندر داخل ہوا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں