کراچی دنیا کا بدترین شہر کیوں قرار دیا گیا؟
شیئر کریں
مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا یہ ایمان ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے، لیکن کیا عملی طور پہ ہم نے یہ ثابت کیا ؟ اس نقطہ نظر سے ہمیں اپنی ذات کے ساتھ ساتھ جہاں ہم قیام کرتے ہیں ،ان جگہوں کی بھی صفائی رکھنا ہم پر لازم ہے۔
میرا ذاتی تجربہ ہے کہ صفائی کے اعتبار سے ڈنمارک اور سنگاپور دنیا کے دو بہترین ممالک ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔ مجھے 15 ماہ ڈنمارک میں اور کچھ دن سنگاپور رہنے کا اتفاق ہوا، ان ممالک کی صفائی کی مثال دنیا بھر میں دی جاتی ہے۔ یہ آپ کو معلوم ہے کہ رہائش کے لیے دنیا کا بہترین شہر کون سا ہے؟ اگر نہیں تو جان لیں کہ یورپی ملک ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن نے مسلسل دوسرے سال آسٹریلیا کے شہر ویانا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں رہائش کے لیے بہترین شہر کا اعزاز حاصل کیا۔ اس سے قبل ویانا 2022سے 2024تک مسلسل تین بار رہائش کے لیے دنیا کا بہترین شہر قرار دیا گیا تھا۔ اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ ای آئی یو نے 2026کے لیے دنیا بھر میں رہائش کے لیے بہترین شہروں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں 173شہروں کی درجہ بندی مختلف عناصرجیسے طبعی سہولیات، تعلیم ،استحکام ،انفرااسٹرکچر اور ماحولیات کو مد نظر رکھ کر کی گئی۔ کوپن ہیگن کے بعد دوسرا نمبر مشترکہ طور پر ویانا کے نام رہا۔ آسٹریا کے شہروں میلبرن اور سڈ نی کے حصے میں بالترتیب تیسرا اور چوتھا نمبرآیا ۔سوئس شہر زیورخ اور بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر رہے۔ ایشیا میں رہائش کے لیے سب سے بہتر شہر جاپان کا اوساکا قرار پایا جس کے حصے میں ساتواں نمبر آیا ،جبکہ آسٹریلیا کا شہر ایڈیلیڈ آٹھویں نمبر پر رہا۔ کینیڈا کا شہر وینکوور جبکہ جاپانی دارالحکومت ٹوکیو دسواں بہترین شہر قرار پایا۔
اس فہرست میں پاکستان کا ایک ہی شہر شامل ہے اور وہ کراچی ہے جو 173میں سے 170ویں میں نمبر پر موجود ہے ۔گزشتہ سال بھی کراچی کے حصے میں یہی نمبر آیا تھا۔ کراچی سے نیچے بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا 171لیبیا کا شہر تریپولی 172 اور شام کا شہر دمش 173ویں نمبر پر رہے ۔ایران امریکہ اور اسرائیل جنگ کے نتیجے میں مشرقی وسطیٰ کے شہروں کی درجہ بندی میں نمایاں تنزلی دیکھنے میں آئی اور ایرانی دارالحکومت تہران 164ویں میں نمبر پر رہا۔ سب سے زیادہ کمی عمان کے دارالحکومت مسقط کی رینکنگ میں آئی جو 14درجے تنزلی سے 130ویں نمبر پر پہنچ گیا جبکہ کویت سٹی 12درجے تنزلی سے 105 میں نمبر پر چلا گیا۔
المیہ یہ ہے کہ روشنیوں کے شہر کراچی جس کے نصیب میں کبھی کوئی اچھی حکمرانی نہیں آئی جس کے نتیجے میں وہ پسماندگی کی لپیٹ میں ہے ،پاکستان جب سے بنا ہے کتنی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں ۔کراچی شہر کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ مسلم لیگ نون کی حکومت ہو یا پیپلز پارٹی کی یا کوئی فوجی حکومت، ہر دور میں کراچی کے ساتھ سوتیلے پن کا سلوک کیا گیا۔ سب سے زیادہ کراچی شہر ایم کیو ایم کے دور میں پسماندگی کی لپیٹ میں آیا، افسوس سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ۔میری جب بھی اپنی بڑی بہن شمیم باجی سے پاکستان پر بات ہوتی ہے وہ ہمیشہ ایک ہی بات کرتی ہیں کہ بھائی نہ پانی ہے نہ بجلی ہے اور نہ ہی گیس اور کراچی شہر گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ زندگی اجیرن ہو کے رہ گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میری بہن اپنی فیملی کے ساتھ 35سال سعودی عرب میں رہائش پذیر رہی ہیں، جہاں پر ہر شخص کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ پاکستان واپس آنا ان کے لیے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ بہن باہر نکلیں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں ان کا کہنا ہوتا ہے کہ بھائی عمران خان کی طرح ہمیں بھی جیل بھیجنا چاہتے ہو، یہاں ایک منٹ میں گولی مار دیتے ہیں۔ انسان کی کوئی قدر نہیں ہے۔
ای آئی یو انڈیکس شہری رہائش اور لچک کے لیے ایک وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ معیار ہے۔ یہ صحت کی دیکھ بھال استحکام ثقافت اور ماحولیات تعلیم اور بنیادی ڈھانچے جیسے اشارے کی بنیاد پر شہروں کا جائزہ لیتا ہے جبکہ رہائشیوں کو روزمرہ کی زندگی میں درپیش چیلنجوں کی پیمائش کرتا ہے۔ یہ درجہ بندی اس وقت سامنے آئی ہے جب کراچی کے رہائشیوں کو بجلی گیس پانی کی فراہمی اورا سٹریٹ کرائم جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔جون میں گیس اور بجلی کی بندش کی وجہ سے رہائشیوں کو عاشورہ کے لیے سحری اور افطار کا کھانا تیار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کے الیکٹرک نے کہا تھا کہ اس نے کئی علاقوں کو 11محرم تک شیڈول لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے لیکن بہت سے رہائشوں کو مذہبی اجتماعات کے دوران بھی بجلی کے متبادل انتظامات پر انحصار کرنا پڑا۔ انڈیکس کے مطابق صدر، برنس روڈ ،لیاری ،کلفٹن ڈیفنس اتھارٹی، فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی، لیاقت آباد، ملیر ،کورنگی ،شاہ فیصل کالونی، اورنگی ٹاؤن ،کیماڑی اور بلدیہ ٹاؤن سمیت شہر کے بڑے علاقوں کو بجلی کی طویل بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے علاقوں میں گیس کی سپلائی پہلے سے ہی محدود تھی۔ کئی محلوں میں مکمل طور پر بجلی غائب ہو گئی۔ خاص طور پر افطار کے دوران جس سے مکینوں کو محرم کے دوران کھانا تیار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے لوگوں کو پانی کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کے نلکوں میں پانی پمپ کرنے کے لیے بجلی کی ضرورت تھی۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ شدت اختیار کر چکا ہے۔
مئی میں سٹیزن پولیس رابطہ کمیٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ رواں سال جنوری سے اپریل کے درمیان رہائشیوں سے سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں موبائل فون چھین لیے گئے جبکہ قتل اور بھتا خوری کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا۔ ای آئی یو کے مطابق گلوبل لائلٹی انڈیکس کا مقصد دنیا کے مختلف شہروں میں رہنے کے معیار کا تقابلی جائزہ لینا ہے ۔اس کے لیے 173 شہروں کو 30مختلف اشاروں کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے جنہیں پانچ بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں استحکام صحت کی سہولتیں ثقافت اور ماحول، تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔ انہی شعبوں کے مجموعی نمبروں کی بنیاد پر شہر کو 100میں سے اسکور اور عالمی درجہ بندی دی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ 2022اور 2023میں انڈیکس کی درجہ بندی کے اعتبار سے کراچی انتہائی تنزلی کا شکار تھا اور اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کراچی اس وقت افریقہ کے پسماندہ شہروں سے بھی بدتر شکل اختیارکر چکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور کراچی میں سیاست دانوں نے اپنے مفادات سے آگے نہیں دیکھا اور کراچی کے شہریوں کی بدقسمتی ہے کہ اس عظیم شہر کو کوئی مخلص سیاستدان نصیب نہیں ہوا۔کراچی کی تنزلی میں سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ کراچی کے شہریوں کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے کیونکہ وہ ووٹ دیتے وقت یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ وہ ووٹ کس کو دے رہے ہیں؟ یہی وجہ ہے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا شمار عالمی سطح پر درجہ بندی کے اعتبار سے دنیا کے بدترین شہروں میں ہوتا ہے۔
٭٭٭


