گلشن اقبال ،پولیس سرپرستی میں گٹکے ماوے کی فروخت جاری
شیئر کریں
بلاک 13 ڈی-2 ملنگ ہوٹل والی گلی میں 3 مختلف مقامات پر کھلے عام گٹکے کی فروخت جاری ہے
رضوان اور ذاکر نامی افراد علاقے میں گٹکے کی ترسیل اور فروخت کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں، ذرائع
کراچی پولیس چیف و ڈی آئی جی ایسٹ زون کے احکامات گلشن اقبال پولیس نے ہوا میں اڑا دیٔے، تھانہ گلشن اقبال کی حدود میں گٹکے ماوے کی کھلے عام فروخت جاری ہے جبکہ متعلقہ پولیس مبینہ طور پر گٹکا فروشوں کی سرپرست بن گئ، نمائندہ روزنامہ جرات کو موصول ہونے والی ویڈیو میں گٹکا ماوا فروشوں کے چونکا دینے والے دعوے سامنے آئے ہیں، ذرائع کے مطابق گلشن اقبال بلاک 13 ڈی-2 میں ملنگ ہوٹل والی گلی میں 3 مختلف مقامات پر قائم کیبنوں سے کھلے عام گٹکے کی فروخت جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ساجد، رضوان اور ذاکر نامی افراد علاقے میں گٹکے کی ترسیل اور فروخت کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں جبکہ ان کی سرگرمیاں عرصہ دراز سے جاری ہیں، ذرائع نے مزید بتایا کہ علی نامی شخص جو خود کو ایک سیاسی جماعت کا مقامی ذمہ دار ظاہر کرتا ہے مبینہ طور پر گٹکا ماوا فروشوں کا سہولت کار بنا ہوا ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کی سرگرمیوں کے باعث سیاسی جماعت کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، گٹکا فروش رضوان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ تھانہ گلشن اقبال کے ایس ایچ او کو ہفتہ وار رقم ادا کرتا ہے جبکہ پولیس نفری کو بھی الگ سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں، علاقہ مکینوں نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ایسٹ زون و ایس ایس پی ایسٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو اور الزامات کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کوئی اہلکار یا فرد غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، واضح رہے کہ گٹکے ماوے کی فروخت سندھ میں قانوناً ممنوع ہے تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں اس کی دستیابی متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر مسلسل سوالات اٹھا رہی ہے۔(نمائندہ جرأت)


