ایک عدالت ایسی بھی ہونی چاہیے!
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ اس دنیا میں ایک عدالت کم ہے ۔ نہیں، میں ان عدالتوں کی بات نہیں کررہا جہاں وکیل قانون کی کتابیں کھولتے ہیں،جج فائلوں کے ڈھیرمیں سچ تلاش کرتے ہیں اور فیصلے دفعات کی روشنی میں سنائے جاتے ہیں۔ ایسی عدالتیں تو موجود ہیں، صدیوں سے موجود ہیں، میں ایک ایسی عدالت کا تصور کرتا ہوں جو کسی شہرمیں نہ ہو، کسی عمارت میں نہ ہو، جس کے دروازے پرنہ پولیس کھڑی ہو اورنہ ہی اس کے باہر تاریخِ پیشی کا ہجوم ہو۔ یہ عدالت انسان کے اندر کہیں قائم ہو، وہاں نہ تعزیراتِ پاکستان کی کتاب رکھی ہو، نہ آئین کے اوراق، وہاں صرف ایک ترازو رکھا ہو، جس کے ایک پلڑے میں انسانیت ہو اور دوسرے میں انسان کا کردار، اس عدالت میں عجیب مقدمے آئیں۔ایک بوڑھی ماں داخل ہو اور شکایت درج کرائے کہ اس کا بیٹا ہرماہ پیسے تو بھیجتا رہا، مگر پانچ سال سے اس کی آواز سننے نہیں آیا، ایک باپ لرزتے ہاتھوں سے درخواست دے کہ اس نے اپنی جوانی اولاد کے نام کر دی، مگربڑھاپے میں اس کے حصے میں تنہائی آئی۔ عدالت خاموشی سے سنتی رہے ، وہاں سوال یہ نہ ہوکہ قانوناً جرم ثابت ہوا یا نہیں؟ بلکہ سوال یہ ہو کہ دل کتنا زخمی ہوا ؟
پھرایک دن اس عدالت کے دروازے کھلیں اوراندرایک لمبی قطارداخل ہو، یہ چوروں، ڈاکوؤں یا قاتلوں کی قطارنہ ہو، یہ اُن لوگوں کی قطارہوجنہوں نے خواب قتل کیے ہوں، سب سے پہلے چند سیاستدان کٹہرے میں کھڑے کیے جائیں، جج ان سے نہ پوچھے کہ انہوں نے کون سا قانون توڑا ہے ، نہ یہ پوچھے کہ ان کے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں، بلکہ ان کے سامنے ان کے اپنے وعدے رکھ دیے جائیں، وہ وعدے جوالیکشن کے دنوں میں قسمیں اٹھا کر کئے تھے ، وہ تقریریں جن میں غربت کے خاتمے کا اعلان تھا، وہ دعوے جن میں نوجوانوں کو روشن مستقبل دکھایا گیا تھا، پھرعدالت ایک ایک وعدہ کھول کر پوچھے ۔۔بتاؤ !! ان وعدوں کا کیا بنا؟ کتنے لوگوں نے تمہاری باتوں پریقین کرکے امیدیں باندھی تھیں ؟ کتنے نوجوانوں نے تمہاری تقریروں کو سچ سمجھ کراپنے خواب مؤخرکردیے تھے ؟ اورپھراگلا مقدمہ شروع ہو، اس بارکٹہرے میں وہ لوگ ہوں جو محبت بیچتے ہیں، وہ جوتعلقات کوکاروباربنا دیتے ہیں، جوخلوص کے بدلے مفاد لیتے ہیں، جولوگوں کے جذبات کو سیڑھی بنا کراپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔ عدالت ان سے پوچھے !! تم نے کتنے دلوں کو یقین دلایا کہ تم ساتھ ہو؟ اورپھرکتنی آسانی سے ان کا ہاتھ چھوڑدیا؟ یہاں ثبوت موبائل فون نہیں ہوں گے ، نہ چیٹوں کے اسکرین شاٹس، یہاں ثبوت آنکھوں کی نمی ہوگی، وہ خاموش راتیں ہوں گی جن میں کسی نے تم پراعتبار کرکے خود کو تنہا پایا تھا۔
اگلے دن عدالت کا دروازہ ایک بارپھرکھلے ۔اس مرتبہ اندرآنے والے لوگ خود کو مجرم سمجھتے ہی نہ ہوں،ان کے چہروں پراعتماد ہو، زبان پربڑے بڑے الفاظ ہوں اورسینوں پرنیکی کے تمغے سجے ہوں ،یہ وہ لوگ ہوں جو ہردورمیں خود کو قوم کا رہنما، سماج کا مصلح اورسچ کا علمبردار کہتے رہے ،مگرعدالت کے پاس ان کے لیے بھی کچھ سوال ہوں، کٹہرے میں سب سے پہلے وہ شخص کھڑا کیا جائے جو ہرروزانسانیت کے لیکچردیتا ہے ، مگرگھر میں اپنے بوڑھے والدین سے دو منٹ بات کرنے کا وقت نہیں نکالتا، وہ عورت یا مرد بھی بلایا جائے جو دنیا کو اخلاقیات سکھاتا ہے ، مگرملازم، مزدوریا کمزور انسان سے بات کرتے وقت اس کی آواز بدل جاتی ہے ۔ عدالت ان سے پوچھے ۔!! تمہاری تقریروں اورتمہارے کردارکے درمیان اتنا فاصلہ کیوں ہے ؟ تم دوسروں کے لیے جو معیار مقررکرتے ہو، خود اس پر کیوں پورے نہیں اترتے ؟ پھر چند دانشور آئیں، وہ جو ہرحادثے پرمضمون لکھتے ہیں، ہرالمیے پرتبصرہ کرتے ہیں، مگرکبھی کسی روتے ہوئے انسان کے کندھے پرہاتھ نہیں رکھتے ۔ ان سے پوچھا جائے !! تم نے درد کو محسوس زیادہ کیا یا استعمال زیادہ کیا؟ تم زخموں پرمرہم رکھنے آئے تھے یا ان زخموں سے اپنی شہرت کا چراغ جلانے ؟ اورپھرسوشل میڈیا کے وہ مسیحا پیش ہوں جو ہرروز انصاف، محبت اورانسانیت کے نعرے لگاتے ہیں۔ عدالت ان کے سامنے آئینے رکھ دے ، ایسے آئینے جو چہرہ نہیں، نیت دکھاتے ہوں، وہاں لائکس کی گنتی نہ ہو، فالوورزکا ہجوم نہ ہو، تعریفوں کے طوفان نہ ہوں۔ صرف ایک سوال ہو، جو کچھ تم نے کہا، کیا تم نے اس پرعمل بھی کیا؟
مگرشاید اس عدالت کا سب سے مشکل دن وہ ہو، جب جج ایک غیرمتوقع حکم سنائے ۔ وہ کہے !! آج کٹہرے میں کوئی سیاستدان نہیں آئے گا، کوئی دانشور نہیں آئے گا، کوئی مشہور شخصیت نہیں آئے گی، پھروہ سامنے بیٹھے لوگوں کی طرف اشارہ کرے اورکہے !! آج آپ سب اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر کٹہرے میں آجائیں، کمرہ یک دم خاموش ہو جائے ، کیونکہ دوسروں کے جرائم گنوانا آسان ہوتا ہے ، اپنے حساب کا سامنا کرنا مشکل، پھرایک ایک کرکے عام لوگ سامنے آنے لگیں، وہ شخص جو ساری عمر اپنے نصیب کو کوستا رہا مگر کبھی اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہ کر سکا۔ وہ دکاندار جس نے چند روپے کے لیے جھوٹ بولا ۔ وہ افسرجس نے اختیارکو خدمت کے بجائے برتری سمجھا۔ وہ پڑوسی جس نے برسوں حسد کی آگ اپنے دل میں جلائے رکھی۔ وہ دوست جس نے دوستی نبھانے کے وعدے کیے مگر ضرورت کے وقت غائب ہو گیا۔ وہ رشتہ دارجس نے خوشیوں میں مسکرا کرمبارک باد دی، مگردل ہی دل میں ناکامیوں کی دعائیں مانگتا رہا۔
پھروہ لمحہ آ جائے جس کا سب کو انتظار تھا، کمرہ عدالت میں سناٹا ہو۔ نہ کسی وکیل کی آواز سنائی دے ، نہ کسی دلیل کی گونج، سب نظریں جج پرجمی ہوں۔وہ آہستہ سے کھڑا ہو، سامنے سیاستدان بھی ہوں، دانشور بھی، محبت کے سوداگر بھی، بے حس تماشائی بھی، اورعام لوگ بھی، ہر کوئی اپنے بارے میں فیصلہ سننے کے لیے بے چین ہو، مگرجج ایک عجیب بات کہے ۔ وہ بولے !! میں نے سب کی فائلیں دیکھ لیں۔میں نے ٹوٹے ہوئے دلوں کے بیانات بھی سن لیے ، ادھورے خوابوں کی گواہیاں بھی، خاموش آنسوؤں کے ثبوت بھی اورضمیر کی شہادتیں بھی۔ پھروہ چند لمحے خاموش رہے ۔ اوراچانک اپنا فیصلہ سنائے ۔اس عدالت میں کوئی مکمل مجرم نہیں ہے ۔اور اس عدالت میں کوئی مکمل بے گناہ بھی نہیں۔ کمرے میں حیرت پھیل جائے ، لوگ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگیں۔جج دوبارہ بولے !! تم میں سے ہر شخص نے کسی نہ کسی دن کسی کا دل دکھایا ہے ۔ اورتم میں سے ہرشخص نے کسی نہ کسی دن کسی کے لیے آسانی بھی پیدا کی ہے ، تم سب خطاکار بھی ہو، اورتم سب میں اصلاح کی صلاحیت بھی موجود ہے ۔ پھروہ ترازو کی طرف اشارہ کرے ، وہی ترازو جس کے ایک پلڑے میں انسانیت رکھی تھی اوردوسرے میں کردار۔ جج کہے !! سزا یہ نہیں کہ تمہیں قید کردیا جائے ۔”سزا یہ ہے کہ تمہیں اپنے اعمال کے ساتھ زندہ رہنا ہوگا ”۔اوران زخموں کی یاد
کے ساتھ بھی، جو تم نے دوسروں کو دیے ، پھر وہ آخری جملہ بولے ، مگرمیں تمہیں ایک موقع دیتا ہوں”واپس جاؤ ۔ اپنی ماؤں کو فون کرو، اپنے باپوں کا حال پوچھو، اپنے وعدے پورے کرو، جس دل کو توڑا ہے ، اس سے معافی مانگو، جس کا حق مارا ہے ، اسے لوٹا دو۔ اوراگر کسی کے لیے آسانی پیدا کرسکتے ہو توآج ہی کردو۔ یہ سن کر عدالت میں موجود لوگ خاموش کھڑے رہیں، کیونکہ پہلی بارانہیں معلوم ہوا ہو کہ سب سے سخت فیصلہ وہ نہیں ہوتا جو جج سناتا ہے ، سب سے سخت فیصلہ وہ ہوتا ہے جو انسان کا اپنا ضمیر سناتا ہے ۔ اورشاید اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ دنیا میں ایک عدالت ایسی بھی ہونی چاہیے ، جہاں مقدمے قانون نہیں، انسانیت کی بنیاد پرچلیں اورجہاں فیصلے سنانے سے پہلے انسان کو ایک موقع دیا جائے کہ وہ خود اپنا فیصلہ بدل لے ۔
٭٭٭


