میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گلگت میں عوامی شعور کے قتل کا منصوبہ

گلگت میں عوامی شعور کے قتل کا منصوبہ

ویب ڈیسک
جمعه, ۵ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

ب نقاب /ایم آر ملک

شعور کی جھولی میں دانستہ شکست ڈال کر عوامی پذیرائی کا دعویٰ محض سراب ہوا کرتا ہے۔ 8فروری کے عام انتخابات کے پس منظر میں موجودہ حالات کی اسکرین پر نہ مٹنے والی ”دھاندلی ” کی فلم میں جن اداکاروں کی واہ واہ ہوئی اور جو بھی ہیرو قرار پایا پس پردہ ہدایت کار کوئی اور طاقت ٹھہری ؟مسلم لیگ ن کی قیادت بھاری عوامی مینڈیٹ کے زعم میں حیران مگر عوامی کنفیوژن کا سدِ باب ایسی صورت میں ممکن نہیں ہوا کرتا، بھاری مینڈیٹ کے نام پر عوام کا کردار مسخ ہوا ؟
جب حقِ خود ارادیت کا قتل ہو تو اجتماعی شعور میں تبدیلی کا جنم ہوتا ہے، 8فروری کے الیکشن میں عمران خان کے امیدواروں کا نتیجہ انائونس ہو گیا مگر اُن کے نتائج تبدیل ہوچکے تھے ۔اُنہوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا کہ کب تک عوام کے حق خود ارادیت کا قتل ہوتا رہے گا ، عوامی رائے کو کب تک ایک مافیا سبو تاژ کرتا رہے گا ،آمرانہ ہتھکنڈے اور پیسے کا کھیل کب تک الیکشن کے نتائج کو تبدیل کرائے گا ؟ تخت ِ لاہور پر قبضہ کیلئے عوام کے حقِ خود ارادیت کوبھی نہیں بخشا گیا ،جہاں رات بارہ بجے تک صنف آہن ڈاکٹر یاسمین راشد کی مسلسل جیت یقینی نظر آرہی تھی پھر اچانک ایک بھگوڑا فارم 47 پر فاتح اعظم قرار پایا،کیا نارووال میں ہونے والی دھاندلی پر آنکھیں بند کر لینی چاہئیں ؟ خود مسلم لیگ ن کے ورکرز معترف ہیں کہ عمران کے امیدوار کے ساتھ عوام کھڑے تھے، کیا وطن عزیز کے 53فیصد حصہ پر ضیائی مارشل لاء سے اب تک بلا شرکت غیرے مسلم لیگ ن کی حکمرانی کا عفریت نہیں ناچتا رہا ؟
کیا گلگت بلتستان میں متوقع دھاندلی کے منصوبہ ساز اور الیکشن کا ابہام ہمیں اُس جانب لیکر نہیں جارہا جہاں عوام کی اکثریت اپنے اقرار کا فیصلہ گلیوں میں کرتے ہیں۔ ملکی سطح پر سیاست کی جو رفتار اُبھر کر سامنے آئی اُس نے بہت سے نئے اندیشے پیدا کر دیئے ہیں ،اسد قیصر ،جنید اکبر کے ساتھ ہونے والا سلوک حالات کی مشکیں کسنے والا ہے ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں جس خوشگوار سکون اور ہمواریت کی اُمید تھی وہ ابھی تک ناپید ہے ،دھاندلی کے پس منظر میں اضطراب کی لہریں برابر اُٹھتی اور بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ شہروں میںموجودہ عمران کے ساتھ کھڑے عوام کے احتجاج سے سیاسی تصادم کے نئے امکانات نمودار ہو ں گے ،سکندر سلطان راجہ کی روح یہاں بھی اپنے منحوس سائے کے ساتھ دندناتی پھر رہی ہے ، عوام اس بارنئے مخالفانہ سیاسی زاویئے بنانے میں منہمک ہیں اور اُن کے نقطہ نظر میں تنگ دلانہ مایوسی روز افزوں ہے ۔
کیا یہ صورت حال انتخابات کے نتائج سے پیدا ہونے والی جمہوریت طلب اُمیدوں اور آرزئو ں کیلئے اندیشوں اور خطرات سے خالی ہے؟8فروری کے الیکشن میں حقیقی تبدیلی کے انتظار میں عوام اُمید و بیم کی کیفیت سے دوچار ہوئے اور اس دوران ماضی کا روایتی مفاد پرست طبقہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب رہا ،مکمل نتائج کے اعلان سے قبل رات میاں برادارن کا اچانک ٹی وی چینلز پر نمودار ہونا اور وکٹری تقریر کیا علم نجوم کا شاخسانہ تھا ؟ ذرائع ابلاغ پر مسلط کو رچشم عناصر اس کا میا بی پر یوں شاداں و فرحاں تھے جیسے آسمان سے کوئی وحی نازل ہو گئی ہو، 9مئی کا خود ساختہ ڈرامہ در اصل اندر کا وہ خوف تھا جو انتخابی نتائج کو سبو تاژ کرنے کی منظم سازش کے ردِ عمل کے طور پر اُبھرنے والی ممکنہ تحریک کی شکل میں پیش نظر تھا ،ایک جوکر اور میثاق ِ جمہوریت کے چیمپیئن کی کارکردگی بکائو میڈیا کی نگاہ ناز کا شکار رہی، میاں برادران کے راتب پر پلنے والے قلمکار اُن کی ادائوں پر جی جان سے قربان ہوتے رہے ۔
گلگت کے الیکشن میں رجیم چینج کے ذریعے مسلط ہونے والوں کے دور ِ قہر مانی نے ملت کی آنکھیں کھول دی ہیں ، عوامی اکثریت اور نسل نو عزم ِ جواں لیکر اُٹھے گی ،اب 8فروری کی غنڈہ گردی ،دھاندلی کا وہ ڈرامہ شاید اپنی اگلی قسط پوری نہ کرپائے ،عوام سمجھتے ہیں کہ بلے کا نشان چھیننے والے منصف نے ضمیر کو شریفوں کی دہلیز پر یوں بیچا کہ ناانصافی بھی سر پیٹ کر رہ گئی ،نتائج کوبد لنے کا وہ مکروہ ،شرمناک اور انسانیت و اخلاق سوز کھیل کھیلا گیا کہ الا مان اور یہ کارن اُس وقت ہوا جب قوم نے اپنے ووٹ اور رائے کا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈال دیا، وطن عزیز کے ایک سرے سے دو سرے سرے تک جس طرح ووٹ کی تقدیس پامال کی گئی ،بیلٹ بکسپر کراس کا نشان لگا ، ،تھوک کے حساب سے فارم 47پر نتائج مسخ ہوئے اُس نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبدار پر کالک مل دی ،اسے قبل کہ کوئی سانحہ جنم لے ،حکمران وقت کی آواز پر کان دھریں ،7مارچ 1977کے انتخابی نتائج کو بھی قوم نے ماننے سے انکار کر دیا صرف 19نشستوں کے نتائج سبو تاژ ہوئے تو اُس تحریک نے جنم لیا جس کی مثال بر صغیر میں مشکل سے ملے گی ۔
اما م الہند مولانا ابو الکلام آزاد نے کہا تھا ”تاریخ کی کوئی زبان بند نہیں کر سکتا وہ جو سبق دیتی ہے وہ صرف ایک قسم کا ہوتا ہے دنیا میں بہت سی حقیقتیں ایسی ہیں جنہیں انسان جانتا ہے اور ماننے کیلئے مجبور ہو تا ہے تاہم اُن کی صدائوں کو سننا پسند نہیں کرتا ،چاہتا ہے کہ لوگوں کی زبان سے اُن کو سنے، لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ اِن سب حقیقتوں کی آواز سننے پر مجبور ہو جاتا ہے اور زبان سے اُٹھتی ہوئی صدائیں نہیں بلکہ واقعات کے ہجوم سے پیدا شدہ طاقتیں اُس کے کانوں کو کھول کر بجلی کی کڑک اور بادل کی گرج کی طرح سب کچھ بتا دیتی ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں