میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فیلڈمارشل عاصم منیر کی اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں،امریکا ،ایران معاہدے کے قریب پہنچ گئے، جلد اعلان متوقع

فیلڈمارشل عاصم منیر کی اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں،امریکا ،ایران معاہدے کے قریب پہنچ گئے، جلد اعلان متوقع

ویب ڈیسک
هفته, ۲۳ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایران امریکا تنازع پرپاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی؟ ایران امریکا معاہدے کا 9 نکاتی مسودہ سامنے آگیا،جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، پابندیوں میں نرمی اور یورینیم تنازع پر تجاویز شامل
دونوں فریقین فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے، ابتدائی معاہدہ دونوں فریقین کی جانب سے باضابطہ اعلان کے فوراً بعد نافذ العمل ہو جائے گا،9 نکاتی مسودے کا متن

پاکستان کی سفارتی کوششوں میں تیزی کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان رضامندی کی صورت میں متوقع معاہدے کا ایک مسودہ سامنے آگیا ہے۔ایران امریکا تنازع پر پاکستانی سفارتی رابطے جاری، عسکری و سول قیادت متحرک، مذاکرات کا اگلا دور بقرعید کے بعد اسلام آباد میں متوقع ۔چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران اور امریکا کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچ گئے۔تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنیٰ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق وہ اپنے دورے میں ایران-امریکا بات چیت، خطے میں قیام امن اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقات کریں گے۔میڈیا روپورٹ کے مطابق ذرائع نے جمعہ کے روز العربیہ؍الحدث کو بتایا ہے کہ اس مسودے میں 9 نکات شامل کیے گئے ہیں جن میں تمام محاذوں پر فوری، جامع اور غیر مشروط جنگ بندی شامل ہے۔مسودے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کی فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے۔ اس کے علاوہ مسودے میں فوجی کارروائیاں روکنے اور میڈیا وار یعنی تشہیری جنگ کو بھی بند کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ مسودے میں دونوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحر عمان میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا بھی اس مسودے کا حصہ ہے۔ اس مسودے میں نگرانی اور تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار قائم کرنے کی بات بھی شامل کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ معطل شدہ مسائل پر مذاکرات کا آغاز 7 دنوں کے اندر کر دیا جائے گا۔ایران کی جانب سے شرائط کی پابندی کے بدلے میں امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں مرحلہ وار اٹھانے کا عمل شروع ہو گا۔ اس معاہدے میں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ابتدائی معاہدہ دونوں فریقین کی جانب سے باضابطہ اعلان کے فوراً بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔دوسری جانب ایک پاکستانی ذریعہ نے العربیہ؍الحدث کو بتایا ہے کہ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے جاری رابطوں میں محتاط امید پرستی کا عنصر نمایاں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کا کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اختلافات کو کم کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ دونوں فریقین کے مطالبات کی سطح بہت زیادہ ہے۔انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ یورینیم اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر اختلافات کو کم کرنے کے لیے رابطے مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا سب سے بڑا مرکز اب بھی یہی رہا ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کے معاملے سے کیسے نمٹا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے بڑے مسائل پر بات چیت کے لیے طویل وقت درکار ہے۔علاوہ ازیں، انہوں نے بتایا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے چین پر بہت زیادہ بھروسہ کر رہا ہے۔واضح رہے کہ تہران نے رواں ہفتے امریکہ کو ایک نئی تجویز پیش کی تھی لیکن اس کے مندرجات کے بارے میں جو کچھ علانتی طور پر کہا گیا، وہ انہی نکات کا اعادہ تھا جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کا معاوضہ، تمام امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور بیرون ملک منجمد تمام ایرانی اثاثوں اور فنڈز کی واگزاری شامل ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں