انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک
شیئر کریں
منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا
گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع
مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع کا دعوی ہے کہ ملزمہ کو بچانے کے لیے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک ہیں۔ دوسری جانب گارڈن تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے پراسرار طور پر غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق گارڈن تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دستیاب نہیں، جس کے باعث یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے منتقل کیا گیا۔ پولیس حکام نے اس حوالے سے مقف اختیار کیا ہے کہ متعلقہ وقت میں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث ریکارڈنگ نہیں ہو سکی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وضاحت کے باوجود شکوک و شبہات ختم نہیں ہو رہے۔ذرائع کے مطابق کیس میں بعض اہم شواہد کے غائب کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سی سی ٹی وی نظام فعال نہیں تھا تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔تفتیشی ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ مبینہ طور پر پنکی کا آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک اب بھی متحرک ہے، تاہم حالیہ کارروائیوں کے بعد نیٹ ورک سے وابستہ افراد نے اپنے رابطہ نمبرز تبدیل کر لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مبینہ خریداروں کو نئے نمبرز سے پیغامات بھیجے گئے جن میں بتایا گیا کہ میڈم پنکی کا سابقہ نمبر بند ہو چکا ہے اور اب سروس ان کے قریبی ساتھی فراہم کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ پیغامات میں کراچی بھر میں چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کوکین کی دستیابی کا دعوی بھی کیا گیا۔ پیغامات میں مختلف اقسام کے منشیات کی قیمتیں بھی درج تھیں، جبکہ صارفین کو ہدایت کی گئی کہ رقوم پہلے استعمال ہونے والے اکانٹ میں منتقل نہ کی جائیں کیونکہ وہ بلاک ہو چکا ہے۔ذرائع کے مطابق نیٹ ورک اب نئے مالیاتی ذرائع اور متبادل رابطہ نمبرز کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس پورے معاملے پر تاحال کوئی تفصیلی اور باضابطہ مقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کے مختلف پہلوئوں، مبینہ سہولت کاروں اور شواہد کی گمشدگی کے دعوں کی تحقیقات جاری ہیں۔


