کراچی ، شہری بدستور خود ساختہ مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور
شیئر کریں
نئے سرکاری نرخ جاری ، چکی کا آٹا سرکاری قیمت سے 10روپے مہنگا، 160روپے فی کلو فروخت
دکانداروں اور فلور ملز مالکان نے ایک دوسرے پر اضافی قیمت وصول کرنے کی ذمہ داری عائد کردی
کراچی میں آٹے کے نئے سرکاری نرخ جاری ہونے کے باوجود شہری بدستور مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ دکانداروں اور فلور ملز مالکان نے ایک دوسرے پر اضافی قیمت وصول کرنے کی ذمہ داری عائد کردی ہے۔کمشنر کراچی کی جانب سے آٹے کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم مختلف علاقوں میں ان نرخوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث عوام کو سرکاری قیمت سے زائد ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق چکی کا آٹا سرکاری نرخ 150 روپے فی کلو کے بجائے 160 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ فائن آٹے کی مقررہ قیمت 121 روپے فی کلو ہونے کے باوجود 140 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ڈھائی نمبر آٹے کی سرکاری قیمت 113 روپے فی کلو مقرر کی گئی، مگر مارکیٹ میں یہ 130 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔شہریوں نے بتایا کہ مہنگائی کے اس دور میں آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو بجٹ مزید متاثر کردیا ہے۔ عوام نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔دوسری جانب ریٹیلرز نے قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار فلور ملز کو قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سرکاری ریٹ لسٹ جاری ہوتے ہی فلور ملز نے آٹے کی سپلائی مہنگے داموں فراہم کرنا شروع کردی۔ انہوں نے کہاکہ وہ مہنگا آٹا خرید کر کم قیمت پر فروخت نہیں کرسکتے۔ریٹیلرز نے کمشنر کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر فلور ملز سے سرکاری نرخوں پر آٹا فراہم کیا جائے تو وہ بھی عوام کو مقررہ قیمت پر آٹا فروخت کرنے کے پابند ہوں گے۔


