انمول پنکی کے نیٹ ورک کیخلاف گھیرامزید تنگ، ملکی گیرکریک ڈائون
شیئر کریں
اکائونٹنٹ سے تفتیش میں مزید 6خفیہ بینک اکائونٹس کا سراغ مل گیا، جن میں کروڑوں کی مشکوک ٹرانزیکشنز پائی گئی ہیں،تحقیقاتی حکام
کراچی، لاہور، قصور، اسلام آباد ،اندرون سندھ میں متعدد کارروائیاں،قریبی ساتھی کرن عرف بلیک انجیل سمیت 20افراد زیرحراست
کراچی میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی سے متعلق تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کے مبینہ نیٹ ورک، مالی لین دین، سفری ریکارڈ اور قریبی ساتھیوں کے خلاف ملک گیر کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔تحقیقاتی ذرائع کے مطابق پنکی کے نیٹ ورک کے خلاف کراچی، لاہور، قصور، اسلام آباد اور اندرونِ سندھ میں متعدد چھاپے مارے گئے، جہاں اس کی قریبی ساتھی کرن عرف بلیک انجیل، اس کے شوہر اور دیگر مشتبہ افراد سمیت 20 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ کرن عرف بلیک انجیل مبینہ طور پر شوبز انڈسٹری سے وابستہ شخصیات تک کوکین پہنچانے میں کردار ادا کرتی رہی، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں کئی نئے نام سامنے آئے ہیں، جبکہ مختلف شہروں میں سرگرم مبینہ منشیات سپلائی چین کی چھان بین جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس نیٹ ورک کے روابط بیرونِ ملک منشیات فروش گروہوں سے تو نہیں تھے۔مالی تحقیقات کے دوران اہم انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنکی کے گرفتار اکائونٹنٹ سے تفتیش میں مزید 6 خفیہ بینک اکائونٹس کا سراغ ملا ہے، جن میں کروڑوں روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز پائی گئی ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کو ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ منشیات کی خریداری کے لیے مختلف اوقات میں غیر ملکی شہریوں کو تقریبا 80 لاکھ روپے منتقل کیے گئے۔دوسری جانب انمول عرف پنکی کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی دستاویزات بھی منظر عام پر آگئی ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ملزمہ نے 17 اپریل 2018 کو کراچی سے پاسپورٹ حاصل کیا تھا، جو 17 اپریل 2023 کو ایکسپائر ہوگیا۔ اسی طرح اس نے 6 دسمبر 2016 کو قومی شناختی کارڈ بھی کراچی سے بنوایا تھا، جس پر گلشنِ اقبال کے علاقے ابوالحسن اصفہانی روڈ کا پتہ درج ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ نے مبینہ طور پر نام تبدیل کر کے نیا شناختی کارڈ بنوانے کی کوشش بھی کی، جس کے حوالے سے متعلقہ اداروں سے ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کے ممکنہ مقاصد، سفری سرگرمیوں اور مبینہ جعلی شناختوں کے استعمال سے متعلق مختلف پہلوں پر تحقیقات جاری ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ پنکی کی بیرونِ ملک آمد و رفت اور سفری تاریخ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اس کے اہلخانہ کے پاسپورٹس، شناختی کارڈز اور مالی روابط کی تفصیلات بھی اکٹھی کر لی گئی ہیں۔ تحقیقاتی ادارے اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا منشیات کے اس مبینہ نیٹ ورک کے بین الاقوامی روابط بھی موجود تھے یا نہیں۔ادھر سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک مبینہ بیان میں انمول عرف پنکی سے منسوب جملہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے بھی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، تاہم حکام کی جانب سے اس بیان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔تفتیشی حکام نے کہا کہ کیس کے تمام پہلوئوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں، مالی ریکارڈ اور اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔


