میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بلدیہ عظمیٰ،محکمہ انجینئرنگ کی اربوں کی ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز پر تنازعات

بلدیہ عظمیٰ،محکمہ انجینئرنگ کی اربوں کی ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز پر تنازعات

ویب ڈیسک
پیر, ۱۸ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

منظور نظر ٹھیکیداروں پر ترقیاتی اسکیموںکی نوازشیں، کمیشن وصولی ور غیر قانونی ڈائریکٹ کنٹریکٹ
متعدد کنٹریکٹرز فرموں نے پریکیومنٹ کمیٹی پربدعنوانیوں کے انتہائی سنگین الزامات عائد کردیے

بلدیہ عظمی کراچی کے محکمہ انجینئرنگ کی جانب سے شہر قائد کے ا نفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے طلب کیے گئے اربوں روپے کی ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز پر تنازعات شدت اختیار کرگئے ہیں ۔متعدد کنٹریکٹرز فرموں نے کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ خاص طور پر پریکیومنٹ کمیٹی پربدعنوانیوں کے انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں کنٹریکٹرز نے منظور نظر ٹھیکیداروں کو ترقیاتی اسکیمیں سے نوازنے کمیشن وصول کرنے اور غیر قانونی ڈائریکٹ کنٹریکٹ پر نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں کو درخواست دینے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام اور حکومت سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ کنٹریکٹرز کی نمائندہ تنظیم کراچی کنسٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نعیم کاظمی، صدر علی رضا عابدی، جنرل سیکریٹری عابد برنی اور سید شفیع حیدر کاظمی سمیت عہدیداروں نے ہنگامی اجلاس میں کے ایم سی میں سیپرا رولز اور قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے ،کراچی کی ابتر صورتحال اور مسلسل ڈائریکٹ کنٹریکٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور گورنر سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پرائڈ کنسٹرکشن اینڈ بلڈرز نے پریکیومنٹ کمیٹی کے خلاف ڈائریکٹر جنرل نیب کے لیے تحریری درخواست جمع کرادی ہے ۔ انا انجینئرنگ نے ٹینڈر دستاویزات میں ٹمپرنگ کرنے پریکیومنٹ اور سی آر سی کمیٹی کے خلاف سیپرا سے رجوع کرتے ہوئے عدالت جانے کا عندیہ دیا ہے ۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں