مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں آلو کی برآمدات 2 لاکھ 48 ہزار ٹن رہیں
شیئر کریں
ابتدائی مرحلے میں روس نے 8 اپریل سے تین پاکستانی کمپنیوں کو آلو برآمد کرنے کی اجازت دی ہے
پاکستان نے مالی سال 2025-26 کی جولائی تا جنوری مدت کے دوران تقریبا 2 لاکھ 48 ہزار ٹن آلو برآمد کئے، جو بدلتے ہوئے تجارتی حالات کے باوجود عالمی منڈیوں میں مستحکم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی
مالیاتی لحاظ سے برآمدات کا حجم تقریبا 56 ملین ڈالر رہا، جو ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران طلب میں تسلسل اور رسد کے استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات سب سے بڑی برآمدی منڈی کے طور پر سامنے آیا، جس کے بعد سری لنکا کا نمبر رہا، جبکہ افغانستان ایک اہم علاقائی مارکیٹ کے طور پر برقرار رہا۔
مالی سال کی پہلی ششماہی میں افغانستان کو برآمدات 29,411.90 ٹن رہیں۔ خلیجی خطہ جس میں متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان شامل ہیں ۔پاکستانی آلو کے لیے مسلسل مستحکم طلب کا مظاہرہ کرتا رہا۔
دیگر منڈیوں میں سری لنکا ایک اہم خریدار کے طور پر ابھرا تاہم اس کی درآمدات مقامی رسد کی صورتحال کے مطابق اتار چڑھا کا شکار رہیں۔
صومالیہ جیسے نسبتا چھوٹے ممالک نے بھی محدود مقدار میں درآمدات کیں، جو پاکستان کی برآمدی منڈیوں میں تدریجی تنوع کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس شعبے کے لیے ایک اہم مثبت پیش رفت روسی مارکیٹ کی بحالی ہے۔


