میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۹ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر)
عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ججز کے حالیہ تبادلوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے آزاد عدلیہ کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر بیرسٹر علی ظفر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز کا تبادلہ اکثریت سے ہوا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ 28 اپریل 2026 عدلیہ کے لیے افسوسناک دن ہے اور آج عدلیہ پر ‘تیز وار’ کیا گیا، تمام ہائیکورٹس میں ججز کی تعداد مکمل تھی، اس کے باوجود تبادلے کیے گئے جو عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ججز کے تبادلہ سے قبل رولز بننے چاہیے تھے، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد رولز بنانے کا پہلے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، ججز نے جب حلف لیا تھا تو آئین میں لکھا تھا مرضی کے بغیر تبادلہ نہیں کیا جائے گا، ججز کا موقف سنے بغیر پسند نا پسند پر تبادلہ عدلیہ پر حملہ ہے۔ چیٔرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو رات انجکشن کے لیے اسپتال لایا گیا، بانی چیٔرمین کی صحت کا معاملہ سنجیدگی سے لیا جائے۔ بانی اور بشریٰ بی بی کا علاج ذاتی معالجین سے کرایا جائے، بہترین علاج معالجہ دونوں شخصیات کا بنیادی حق ہے۔ بیرسٹرگوہر نے کہا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہو سکی، مقبول لیڈر کو دیوار میں چُن دیں، ایسے ملک نہیں چل سکتا۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کسی بھی جج کا بلاوجہ تبادلہ نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کرنا آئین کے منافی ہے، ان کے مطابق ججز کی ٹرانسفر کو بطور ‘سزا’ استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے عدالتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، تبادلوں کی وجوہات سامنے لانا ضروری ہے، بصورت دیگر یہ بدنیتی پر مبنی اقدام تصور ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججز کے تبادلوں سے قبل واضح قواعد و ضوابط بنائے جانے چاہئیں تھے جبکہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اس حوالے سے رولز بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ ججز کی رضامندی کے بغیر تبادلہ نہیں ہونا چاہیے اور اس طرح کے فیصلے آزاد عدلیہ کے تصور کے خلاف ہیں، پارٹی اس اقدام کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ اس موقع پر انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں اور بشریٰ بی بی کو ذاتی معالجین کے ذریعے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں