کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟
شیئر کریں
ب نقاب /ایم آر ملک
بد روحیں
جب دیار ِصحافت میں ہر سو خاموشی ہے، جب ہر ترقی پسند چی گویرا اور رجعت پسند ،ہری چگ قلم کار مہر بلب ہے، ہر سو سکوت مرگ طاری ہے، جب چمچماتی شمشیر کی ہیبت نے مین اسٹریم میڈ یا کی سانسیں تک روک رکھی ہیں، جب سب کامریڈ صحافی سرکار دربار کے حکم ـ لب بستگی کے سامنے زر خرید کنیزوں کی طرح سر خمیدہ چپ سادھے ہوئے ہیں۔ جب آہنی ہاتھوں نے آزاد صحافت کے سینے میں سنسر شپ کا خنجر گھونپ رکھا ہے، جب مجموعی طور پر میڈیا کے طیور سرمہ در گلو ہیں۔ جب فضائیں فغاں بہ لب ہیں کہ اللہ رے سناٹا کوئی آواز نہیں آتی۔ ایسے میں وہ صحافی جو عصر حاضر کے یزیدوں کے دربار میں کلمۂ حق کے پر چم کو سر بلند کر کے افضل جہاد کر رہے ہیں۔ سینکڑوں بار انہیں ڈرایا دھمکایا گیا، بیسیوں پرچے کاٹے گئے۔ وہ ہاتھ جس میں قلم اور مائیک سجتا ہے، ان ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنائی گئیں۔ جھوٹے، لغو اور بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے۔ حق گوئی کی پاداش میں حوالاتوں اور سیف ہاؤ سوں میں پابند سلاسل کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جیل کی اونچی دیواروں کے پیچھے جرم بے گناہی میں دھکیلا گیا۔ کال کوٹھریوں میں قید تنہائی اور حبس بے جا میں رکھا گیا۔ بلال حبشی کے ان سچے پیروکارو ں کو بیسیوں مرتبہ قید و بند کے خارزاروں اور اذیت و صعوبت کے تپتے اور دہکتے ریگستانوں کی ریگ ِبے نم پر گھسیٹا گیا۔ لیکن یہ مردانِ حر زمینی خداؤں کو ایک ہی پیغام دیتے ہیں ۔۔ اللہ احد۔۔ وہ آج بھی ان کی مسلط کردہ جعلی حاکمیت اور مینڈیٹ لیس حکومت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
تاریخ کے اوراق میں ان ممتاز، معروف، جید، نڈر، بے باک، حق گو، راست شعار،بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کی طرح جگر داری سے فاشسٹ حکمرانوں کے سامنے کلمہ ء حق کو بلند کرنے والے فسطائیانہ پابندیوں کی زنجیروں کو توڑ کر سچائی کا پرچار کر رہے ہیں۔کیاپاکستان کو 18 ویں صدی میں دھکیلنے والے طاقت ور اس غلط فہمی کے چنگل سے نجات حاصل کرلیں گے کہ اطلاعات تک رسائی کے حقیقی ذرائع کو قابو کرکے عوام کو اپنا ہم نوا بنا یا جا سکتا ہے ۔وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کر تے تھے۔ وہ دور بھی لد گیا، جب managed, compromised and hired media ذہن سازی اور اس کے sold outلفافہ خور رائے عامہ سازی کے دعوے کیا کرتے تھے۔ اس میڈیا کے غلبے کا دور خواب و خیال ہوا۔ اب تو کوئی انتہائی لا علم اور حقائق سے نابلد بد ذوق شہری ہی ہوگا، جو ان ذرائع ابلاغ کے بزعم خویش افلاطونوں واینکر پر سنز کو سنتا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے dictatedتجزیے اور گفتگوئیں سگریٹ کے کش سے بھی زیادہ بے وقعت ہیں۔ ان کے الفاظ کوڑے کر کٹ کے ڈھیر پر بیٹھی غلیظ مکھی کی بھنبھناہٹ سے بھی زیادہ کراہت آمیز ہوتے ہیں۔
اب سچی خبریں سننے کے عادی عوام جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے والے جید صحافیوں ہی کو پڑھتے اورسنتے ہیں۔ تمام الیکٹرانک میڈیا اور نیوز چینلز کی مجموعی طور پر وہ ویور شپ نہیں رہی جو حریت فکر کے مجاہدوں کے حصے میں آ تی ہے۔ آپ جانیں ۔ ان حق گو، صداقت شعار اور جری لکھاریوں اور ولاگرزکے سبسکرا ئبرز کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہے۔
یہی وجہ ہے ارباب اقتدار و اختیار کبھی ٹویٹر پر پابندی لگاتے ہیں اور کبھی یو ٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کھسیانی اور شیطانی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اگر بہ فرض محال پابندیاں لگا دی جائیں تو کیا سچ کے سفر کو روکا جا سکتا ہے۔ سچ تو روشنی کی رفتار سے تیز تر انداز میں عوام تک پہنچ جاتا ہے۔ پابندیوں اور جکڑ بندیوں سے حق سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ فاشسٹ حکمران یہ نہیں سوچتے کہ سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی اور رسوائی ہو رہی ہے۔ پاکستان کا سافٹ امیج مسخ ہوگا۔
عالمی میڈیا بر ملا کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں دھاندلی زدہ انتخابات کرانے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیف اور دیگر ذمہ داران کو خفیہ ہاتھوں کی تھپکی حاصل رہی۔ اس میڈیا کا یہ کہنا سو فیصد سچ ہے کہ دھاندلی کے سنگین ترین جرم کے ارتکاب میں پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا، میڈیا ہاؤسز کے مالکان، ان کے تجزیہ نگار، ڈائریکٹر نیوز، ایڈیٹوریل اسٹاف اور اینکر پرسن برابر کے شریک جرم ہیں۔ وہ اس جرم کا ارتکاب دانستہ کر رہے ہیں کہ اس کارِبد کے عوض بلکہ انہیں مبینہ طور پر باقاعدہ بھاری بھر کم رشوت بہ عنوان اشتہاروں کی پیمنٹ کی شکل میں کی گئی ۔ فارم 47 کے میڈیا سیل نے اکثر چھوٹے موٹے تجزیہ نگار اور اینکر پر سنز کو اعزازیے، مشاہرے اور پرکشش سہولیات اور مراعات دے کر اپنی ڈالر خرید کنیزیں اور غلام بنا رکھا ہے۔ وہ ن لیگی قیادت کی اکائیاں چاٹتے اور انہی کی بولیاں بولتے ہیں۔ سچ ہے، مراثی جس کا کھاتے، اسی کا گاتے ہیں۔ یہ ادا فروش، صدا فروش، حیاء فروش، قلم فروش، ضمیر فروش، خیال فروش اور خود فروش ہیں، جن کے ہونٹوں پر ہر وقت یہ فرمائش رہتی ہے۔
یہ بتلاؤ کہاں رکھی ہے روٹی رات کی
یہ کالی صحافت کے مائیک بردار،قلم بردار فری پریس، فری میڈیا کے اس دور میں لاکھوں کروڑوں لے کر اخفائے حقائق، کتمان ِشہادت، سچی خبروں کا بلیک آؤٹ کرتے اور بھانڈوں کی طرح حق سچ کا تمسخر اڑاتے اور حقیقی عوامی قیادت اور ناقابل تردید حقائق کو ٹوئسٹ کرتے اور ان کا ٹھٹھہ اڑاتے ہیں۔ انہی کی وجہ سے عوام پی ٹی وی، نام نہاد مین اسٹریم میڈیا کے پروگرامز اور ٹاک شوز کو فارغ خطی ہی نہیں طلاقِ مغلظہ دے چکے ہیں۔ وہ ان کی شکلیں دیکھتے ہی لاحول ولا پڑھ کر ٹی وی بند کر دیتے اور اپنے موبائلز پر حقیقت کا چہرہ دیکھتے ہیں۔
٭٭٭


