معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں
شیئر کریں
محمد آصف
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرتی اقدار اور ثقافتی روایات یک دم تبدیل نہیں ہوتیں بلکہ آہستہ آہستہ ایک منظم عمل کے ذریعے بدلی
جاتی ہیں۔ اگر ہم مغربی معاشرے کی مثال دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی ہر تبدیلی کو ابتدا میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یورپ
میں 1940ء تک عورتوں کے بکنی پہننے کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ بکنی ایک انتہائی مختصر لباس ہے جو آج یورپ اور امریکہ میں عام ہے ، مگر
اس کی ابتدا آسان نہیں تھی۔ جولائی 1946ء میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے فوراً بعد پہلی بار فرانس میں ایک ماڈل کو بکنی پہنا کر عوام
کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس وقت عوامی ردعمل نہایت سخت تھا۔ نہ صرف عام لوگوں نے بلکہ مقامی میڈیا نے بھی اس لباس کو سخت تنقید کا نشانہ
بنایا۔ چرچ نے بھی اس معاملے میں مداخلت کی اور پوپ نے اسے بے ہودہ اور شرمناک قرار دیا۔لیکن اس لباس کو متعارف کرانے والی
قوتیں پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھیں۔ 1951ء میں پہلی بار ایک عالمی مقابلۂ حسن میں ماڈل نے بکنی زیب تن کی، مگر عوامی دباؤ کے باعث اس پر
پابندی عائد کر دی گئی۔ 1953ء میں کینز فلم فیسٹیول کے موقع پر ایک اداکارہ نے ساحلِ سمندر پر بکنی میں فوٹو شوٹ کروایا۔ میڈیا نے اسے
خوب کوریج دی، لیکن عوامی سطح پر اسے دوبارہ مسترد کیا گیا۔ اس کے بعد خاموشی سے مردوں کے مخصوص میگزینز میں بکنی پہنے ماڈلز کی تصاویر
شائع ہونا شروع ہو گئیں۔ 1962ء میں ایک مشہور ہالی ووڈ فلم میں اداکارہ کو سمندر میں بکنی پہنے دکھایا گیا اور پھر 1966ء میں ایک اور فلم
میں اسی طرز کی عکاسی کی گئی۔ یوں 1946ء سے 1966ء تک بیس سال کے عرصے میں شدید مخالفت کے باوجود بکنی کو مختلف ذرائع سے
معاشرے میں پیش کیا جاتا رہا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوامی ردعمل میں کمی آتی گئی اور جو چیز کبھی ناقابلِ قبول سمجھی جاتی تھی، وہ رفتہ رفتہ معمول بن گئی۔ آج
مغربی دنیا میں بکنی کلچر کا حصہ ہے اور ساحلِ سمندر پر جانا ہو تو اسے عام لباس سمجھا جاتا ہے ۔ یہ مثال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ کسی بھی
معاشرے میں اقدار کو تبدیل کرنے کے لیے تسلسل، میڈیا کی طاقت اور ذہنی تربیت کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ انسانی ذہن ابتدا میں بے حیائی
یا غیر مانوس چیز کو قبول نہیں کرتا، مگر اگر اسے بار بار مختلف انداز سے پیش کیا جائے تو رفتہ رفتہ اس کی حساسیت کم ہو جاتی ہے ۔
اسی تناظر میں اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اسی طرز کی تبدیلیاں یہاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ پاکستان ایک
اسلامی معاشرہ ہے جس کی بنیاد مذہبی اور خاندانی اقدار پر قائم ہے ۔ مگر گزشتہ دو دہائیوں میں میڈیا کے پھیلاؤ، نجی ٹی وی چینلز کی بہتات اور
سوشل میڈیا کی یلغار نے معاشرتی ڈھانچے کو تیزی سے متاثر کیا ہے ۔ ریٹنگ اور ویورشپ کی دوڑ میں بعض ڈراموں اور پروگراموں میں
ایسے موضوعات پیش کیے جا رہے ہیں جو ہمارے خاندانی نظام سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ سالی اور بہنوئی، بھابی اور دیور جیسے رشتوں کو
متنازع انداز میں دکھایا جاتا ہے ۔ شادی شدہ افراد کے غیر محرم افراد سے تعلقات کو کہانی کا مرکزی نکتہ بنایا جاتا ہے اور بعض اوقات طلاق
جیسے حساس معاملے کو بھی غیر سنجیدہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔
سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز نے ہر فرد کو اپنی نمائش کا موقع دیا ہے ۔
بظاہر یہ اظہارِ رائے کی آزادی ہے ، مگر اس آزادی کی حدود و قیود بھی ضروری ہیں۔ ہر سال ٹک ٹاک پاکستان میں ایک سالانہ تقریب منعقد
کرتا ہے جس میں ابھرتے ہوئے انفلوئنسرز کو ایوارڈز دیے جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کم عمر لڑکیوں کو بھی محض اس بنیاد پر ایوارڈز دیے
گئے کہ وہ مخصوص طرز کے ویڈیوز بنا رہی ہیں۔ ان ویڈیوز میں اکثر بھارتی گانوں پر رقص یا ایسے انداز اپنائے جاتے ہیں جو کم عمری کے لحاظ
سے مناسب نہیں سمجھے جاتے ۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے مواد پر آنے والے تبصرے نہایت نازیبا ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں کردار کشی، جسمانی خدوخال
پر تبصرے اور غیر اخلاقی گفتگو عام ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات والدین خود ان تقریبات میں موجود ہوتے ہیں اور اسے
کامیابی سمجھتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہماری حساسیت کم ہوتی جا رہی ہے ۔ جو چیز کبھی معیوب سمجھی جاتی تھی، وہ اب
کیریئر اور شہرت کا ذریعہ قرار دی جا رہی ہے ۔ اگر ہم صرف پندرہ سال پہلے کے پاکستان کو یاد کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرہ کس قدر
مختلف تھا۔ جن امور پر شدید ردعمل سامنے آتا تھا، آج وہی باتیں معمول سمجھی جا رہی ہیں۔ یہ تبدیلی یک دم نہیں آئی بلکہ میڈیا، فلم، ڈرامہ اور
سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے آہستہ آہستہ ذہن سازی کی گئی۔ یہی طریقہ ہر معاشرے میں اپنایا جاتا ہے کہ پہلے کسی نئی چیز کو متعارف کروایا
جاتا ہے ، پھر اس پر بحث ہوتی ہے ، پھر اسے آزادیٔ اظہار یا جدیدیت کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے ، اور آخرکار وہ سماجی رویے کا حصہ بن
جاتی ہے ۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ تبدیلی کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے اور معلومات کی ترسیل چند سیکنڈز میں ہو جاتی
ہے ۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کو کس سمت میں لے کر جاتے ہیں۔ اگر میڈیا مثبت کردار ادا
کرے ، تعلیمی ادارے کردار سازی پر توجہ دیں اور والدین اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو جدیدیت اور اخلاقیات کے درمیان توازن
قائم کیا جا سکتا ہے ۔ ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم نے اپنے اصل ہیروز کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے ۔ ہمارے ہاں
بے شمار سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر اور محققین موجود ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر نام کمایا، مگر انہیں وہ پذیرائی نہیں ملی جو شوبز شخصیات یا سوشل
میڈیا اسٹارز کو ملتی ہے ۔ نتیجتاً نئی نسل کے سامنے کامیابی کا معیار بدل گیا ہے ۔ اب نوجوان مصنوعی ذہانت، سائنسی تحقیق یا طب کے میدان
میں نمایاں ہونے کے بجائے وائرل ویڈیوز اور فالوورز کی تعداد کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔یہ رجحان مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے ۔
ایک قوم کی ترقی کا دارومدار اس کی علمی اور اخلاقی بنیادوں پر ہوتا ہے ۔ اگر بنیادیں کمزور ہو جائیں تو عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ہمیں
یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی کا مطلب مادر پدر آزادی نہیں ہوتا۔ ہر معاشرے کی کچھ سرحدیں اور اقدار ہوتی ہیں جو اس کی شناخت کو برقرار رکھتی
ہیں۔ اگر ہم نے اپنی تہذیبی شناخت کو نظرانداز کیا تو آنے والی نسلیں اپنی جڑوں سے کٹ جائیں گی۔ اس تمام صورتحال کا حل محض تنقید نہیں
بلکہ مثبت متبادل پیش کرنا ہے ۔ ہمیں ایسا معیاری مواد تخلیق کرنا ہوگا جو تفریح کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی کرے ۔ تعلیمی نصاب میں
میڈیا لٹریسی شامل کی جائے تاکہ نوجوان اچھے اور برے مواد میں فرق کر سکیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر
رکھیں اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ وہ رہنمائی حاصل کر سکیں۔ علما، اساتذہ، دانشور اور میڈیا پرسنز کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
آخر میں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آنے والی نسل کا مستقبل ہمارے آج کے فیصلوں سے جڑا ہوا ہے ۔ اگر آج ہم نے غفلت برتی تو
کل ہمیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ جدیدیت کو اختیار کرنا بری بات نہیں، مگر اپنی اقدار کو قربان کر کے ترقی حاصل کرنا دانشمندی نہیں۔
ہمیں توازن، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ہماری نسلیں نہ صرف جدید علوم میں آگے ہوں بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط
ہوں۔ یہی ایک صحت مند اور باوقار معاشرے کی ضمانت ہے ۔
٭٭٭


