بھارت میں مزدوروں کا احتجاج
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش نے صنعتی مرکز نوئیڈا میں کئی روزہ پرتشدد احتجاج کے بعد مزدوروں کی کم از کم اجرت میں اضافہ کر دیا گیا ہے، مزدوروں نے تاہم اسے ‘غیر منصفانہ’ قرار دیا ہیمظاہروں کے سلسلے میں سات مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ایسا قدم اٹھانے والی اتر پردیش دوسری ریاست ہے۔ اس سے قبل ہریانہ کی ریاستی حکومت نے بھی کم از کم اجرت میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ملکی دارالحکومت نئی دہلی سے متصل صنعتی علاقے نوئیڈا میں جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس سمیت متعدد ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے صنعتی یونٹ موجود ہیں۔ وہاں مظاہرین نے زیادہ تنخواہوں کے مطالبے پر گاڑیوں کو آگ لگا دی اور پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور اس کارروائی کے دوران متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ نوئیڈا کی کئی فیکٹریاں بند رہیں کیونکہ بعض مقامات پر احتجاج جاری رہا۔ مظاہرین سڑکوں پر مارچ کرتے اور نعرے لگاتے رہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں تعینات رہی۔گزشتہ ہفتے آٹو موبائل صنعت کے مرکز ریاست ہریانہ میں بھی اسی طرح کے احتجاج ہوئے تھے، جس کے بعد وہاں کی حکومت نے کم از کم اجرت میں 35 فیصد اضافہ کرنے کا حکم دے دیا تھا۔یہ احتجاج ایسے وقت پر سامنے آیا جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے سے دنیا بھر میں اخراجات زندگی بڑھ گئے ہیں۔ اس ہفتے اعلان کردہ اجرتوں میں اضافہ یکم اپریل سے نافذ العمل ہو گا، جس کے بعد نوئیڈا میں غیر ہنرمند مزدوروں کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 121 ڈالر کے برابر سے بڑھ کر 147 ڈالر کے برابر ہو جائے گی۔ نیم ہنرمند اور ہنرمند مزدوروں کی تنخواہوں میں بھی اسی طرح اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ریاست کے دیگر حصوں میں بھی مختلف شرحوں سے اجرتیں بڑھائی گئی ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادیو نے کہا کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار حکومتی اقدامات ہیں، جن کی وجہ سے مزدور طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور انہیں اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنا پڑ رہا ہے۔کانگریس کے رہنما اجے رائے نے بھی مزدوروں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں اور حکومت کو فوری طور پر عملی اقدامات کرنے چاہییں۔ مہنگائی اور کم اجرت نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث عوامی غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشی دباؤ نے مزدور طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ مظاہرے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جو نہ صرف معاشی بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی چیلنج بن سکتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ نے عالمی توانائی بحران کو جنم دے دیا ہے جس کے نتیجے میں بھارتی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں، کیونکہ بھارت اپنی توانائی کی بڑی ضروریات خلیج سے پوری کرتا ہے اور وہاں کام کرنے والے تقریباً 91 لاکھ بھارتی ہر سال تقریباً 50 ارب ڈالر وطن بھیجتے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 سے 30 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جنگ کے باعث عملی طور پر بند ہوچکی ہے جس سے تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ بھارت اپنی 80 فیصد گیس اور تقریباً 60 فیصد تیل اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، جس کے باعث ملک میں گیس کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا اور حکومت کو ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔ دوسری جانب خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں بھارتی کارکن جنگ کے پھیلنے کی صورت میں ملازمتوں اور سلامتی کے حوالے سے پریشان ہیں۔
اقوام متحدہ کے نیشنل ڈیولپمنٹ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران بھارت میں مزید 25 لاکھ افراد کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل سکتا ہے۔ اس اضافے کے بعد ملک میں غربت کا شکار افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 35 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو بھارت کی خریف فصل شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کے بحران کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے۔زرعی پیداوار میں کمی مہنگائی اور غذائی عدم تحفظ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ بھارت میں کاروباری سرگرمیاں بھی دباؤ کا شکار ہیں اور تقریباً 90 فیصد ملازمتیں خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی حالات کے اثرات نے بھارتی معیشت کی ساختی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق خلیجی بحران نے بھارت کی معیشت پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، جو پہلے ہی مختلف اندرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ موجودہ حالات میں مؤثر معاشی حکمت عملی اور پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف غربت بلکہ بے روزگاری اور مہنگائی کے مسائل بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
٭٭٭


