دعوت میں حکمت و بصیرت قرآن کریم کا اُسلوب اور موجودہ ضرورت
شیئر کریں
مولانا محمد راشد شفیع
دعوتِ دین دراصل انبیاء کرام علیہم السلام کا وہ مقدس مشن ہے جس پر امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیا گیا ہے ۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ انسانوں کو رب کی پہچان کرائی جائے ، بندوں کو بندگی کی طرف بلایا جائے ، اور باطل کے اندھیروں میں بھٹکنے والی انسانیت کو حق کے نور تک پہنچایا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس اُمتِ محمدیہ کو امتِ دعوت بناکر بھیجا اوراس کا خاص وصف یہ قرار دیا کہ وہ انسانیت کو صراطِ مستقیم کی طرف بلائے ، چنانچہ ارشاد ہوا:‘‘کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ’’، ‘‘تم بہترین اُمت ہوجو لوگوں کے لیے برپا کی گئی ہو، تم بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہو’’۔نیز فرمایا:‘‘وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا’’ اور اسی طرح ہم نے تم کو درمیانی ومعیاری اُمت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہوں۔ جب اس کو یہ منصب دیا گیا ہے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ اس منصب کا حق ادا کرے ۔ قرآنِ کریم نے دعوت کو صرف ایک ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک فریضۂ نبوت قرار دیا ہے :
‘‘ ٰیااَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِن رَّبِّکَ’’ (المائدہ: ۶۷)
یعنی:‘‘اے رسول! پہنچادیجیے وہ جو آپ پر آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے’’ ۔
دعوت کا یہ فریضہ قیامت تک جاری ہے ، مگر افسوس کہ وقت کے تغیر کے ساتھ ساتھ اس کی روح کمزور اور اُسلوب میں افراط و تفریط دَر آئی۔ آج کے دور میں جہاں ذرائع ابلاغ نے پیغام رسانی کو آسان کیا ہے ، وہیں اس نے اخلاص و حکمت کی روح کو مجروح بھی کیا ہے ۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منصبِ رسالت کا حق جس اخلاص، صبر، استقامت اور جاں فشانی سے ۲۳ برس کے طویل عرصے میں ادا فرمایا، اس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ابتدا سے لے کر وصال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا غم، سب سے بڑی فکر اور سب سے اہم مقصد یہی تھا کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پوری وضاحت اور محبت کے ساتھ پہنچ جائے ۔ شب و روز کی محنت، قربانیوں، اذیتوں اور تکلیفوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ کا مرکز یہی فریضۂ تبلیغ رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو نہ صرف دین کے بڑے بڑے اصول سکھائے ، بلکہ زندگی کے معمولی سے معمولی آداب بھی تعلیم فرمائے ۔ عبادت و معاملات سے لے کر حکومت و سیاست کے اُمور تک، اور طہارت و نظافت کے طریقوں سے لے کر انسانی تعلقات کے آداب تک کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو ہدایت نہ دی ہو۔
چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘میں تمہارے لیے باپ کی مانند ہوں، تمہیں ہر چیز سکھاتا ہوں’’۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء میں جائے تو نہ قبلہ رخ ہو، نہ پیٹھ کرے ، اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین پتھروں یا ڈھیلوں سے استنجا کرنے کا حکم دیا اور گوبر و ہڈی کے استعمال سے منع فرمایا۔ (سنن نسائی، کتاب الطہارۃ)
اسی طرح حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مشرک نے ان سے مذاق کے انداز میں کہا:‘‘تمہارا نبی تو تمہیں ہر چیز سکھاتا ہے ، حتیٰ کہ قضائے حاجت کے آداب بھی’’؟! حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے بڑے فخر سے جواب دیا:‘‘ہاں! بالکل! ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کریں، دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کریں، اور تین پتھروں سے کم پر اکتفا نہ کریں، اور وہ پتھر بھی نہ ہوں جن میں ہڈی یا گوبر ہو’’۔ (سنن نسائی، کتاب الطہارۃ)
یہی وہ جامع اور کامل تعلیمات تھیں جن کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طبقے کے انسانوں تک ہدایت پہنچائی، حاکم ہوں یا عوام، عالم ہوں یا عامی، ہر ایک کو اس کے فہم اور ظرف کے مطابق پیغامِ الٰہی دیا۔ پھر وصال سے تقریباً دو ڈھائی مہینے قبل حجۃ الوداع کے موقع پر جب عرفات کے میدان میں ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عظیم اجتماع موجود تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کی ذمہ داری پوری کرنے کی شہادت خود اُمت سے لی، آسمان کی طرف انگلی اُٹھا کر تین مرتبہ فرمایا:’’اللّٰہم اشہد‘‘ اے اللہ! تو گواہ رہنا کہ میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا’’۔(صحیح مسلم، کتاب الحج)
قرآنِ مجید کا دعوتی اُسلوب
قرآنِ حکیم نے دعوت کے لیے جو بنیاد مقرر کی، وہ ہے :
‘‘اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ’’(النحل: ۱۲۵)
ترجمہ:‘‘ آپ اپنے رب کی راہ کی طرف علم کی باتوں اور اچھی نصیحتوں کے ذریعے سے بلائیے اور ( اگر بحث آن پڑے تو) ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بحث کیجیے (کہ اس میں شدت و خشونت نہ ہو) ’’۔
یہ آیتِ مبارکہ دراصل دعوت کا جامع منشور ہے جس میں تین اصول بیان کیے گئے :
1 ۔حکمت کے ساتھ دعوت
‘‘حکمت’’ کا مطلب صرف علم نہیں، بلکہ موقع، مزاج، اور عقلِ سلیم کے مطابق بات پہنچانا ہے ۔ حکمت یہ ہے کہ داعی‘ مخاطَب کی سطح، نفسیات اور حالات کو سمجھ کر بات کرے ۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس حکیمانہ دعوت کی روشن مثال ہے ، کبھی نرمی، کبھی خاموشی، کبھی مسکراہٹ، اور کبھی سختی ہر موقع پر حکمت غالب نظر آتی ہے ۔
2 ۔ موعظۂ حسنہ (خیرخواہانہ نصیحت)
دعوت کا دوسرا رکن ‘‘موعظۂ حسنہ’’ ہے ، یعنی نرمی، محبت، اور خیر خواہی کے جذبے سے بات کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو بھی فرعون جیسے متکبر سے گفتگو کے لیے فرمایا:
‘‘فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشَیٰ (سور ۃ طہ – آیت ۴۴)
ترجمہ: پھر اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے ’’۔
3 ۔خوبصورت مکالمہ
اگر دلیل و مناقشہ کی نوبت آئے تو وہ بھی شائستگی اور احترام کے ساتھ ہو۔ مقصد جیتنا نہیں، بلکہ حق کو واضح کرنا ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اُسلوب مخالفین کے دلوں پر بھی اثر چھوڑ جاتا تھا۔
دعوت میں بصیرت کی ضرورت
دعوت کے لیے علم کے ساتھ بصیرت ناگزیر ہے ۔ قرآن نے فرمایا:
‘‘قُلْ ہٰذِہِ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْٓا اِلَی اللہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ’’(یوسف: ۱۰۸)
ترجمہ:‘‘ آپ فرما دیجیے کہ یہ میرا طریق ہے ، میں (لوگوں کو توحید) خدا کی طرف اس طور پر بلاتا ہوں کہ میں دلیل پر قائم ہوں ’’۔‘‘
بصیرت کا مطلب ہے : حالات، ماحول، اور فتن کی گہری سمجھ بوجھ۔ آج کے داعی کو صرف شرعی دلائل پر عبور کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ عصرِ حاضر کی ذہنیت، نوجوان نسل کی نفسیات، اور میڈیا کے اثرات سے آگاہی بھی ضروری ہے ۔ داعی اگر بصیرت سے محروم ہو تو وہ یا تو شدت میں مبتلا ہو جاتا ہے یا بے جا نرمی میں بہہ جاتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ درمیانی راہ اختیار فرمائی، نہ دل آزاری، نہ حق پوشی، یہی بصیرت کا کمال ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدائش ہی سے نہایت نرم مزاج، شفیق اور ہمدرد بنایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی تکالیف پر بے حد رِقت محسوس کرتے ، صبر و برداشت کی اعلیٰ مثال تھے ، اور دشمنوں کے ساتھ بھی حلم و اخلاق سے پیش آتے تھے ۔ زندگی بھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے ساتھ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیا۔
قرآن کریم(سورۃ التوبۃ: ۱۲۸) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کی تعریف یوں کی گئی ہے :
‘‘تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آیا ہے ، تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسے بہت شاق گزرتی ہے ، وہ تمہاری بھلائی کا خواہاں ہے ، اور مومنوں کے ساتھ نہایت مہربان اور شفیق ہے ’’۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فطری طور پر اعلیٰ اخلاق، بے مثال صبر اور غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا، مگر پھر بھی آپ کو حکم دیا گیا کہ دین کی دعوت حکمت، دانائی اور بصیرت کے ساتھ دیجیے ، اور اگر کسی وقت گفتگو یا مناقشہ کی نوبت آئے تو حسنِ اخلاق کا دامن
ہاتھ سے نہ چھوڑیے ۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے فرمایا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون راہِ
حق سے بھٹکا ہوا۔ حکمت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ دعوت و نصیحت کے وقت موقع و محل، مخاطب کی فکری سطح، اور سننے کی آمادگی کا لحاظ رکھا جائے ۔
خصوصاً مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے اس بات کا خیال رہنا چاہیے کہ بات دل میں اُترنے والی ہو، اور اس کے انداز میں سنجیدگی،
خلوص اور خیر خواہی نمایاں ہو، کیونکہ موعظت وہ نصیحت ہے جو دلوں کو متاثر کرے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وقفے وقفے سے نصیحت فرمایا کرتے ، تاکہ ہم اُکتاہٹ محسوس نہ کریں۔ (صحیح البخاری، باب الموعظۃ ساعۃ بعد ساعۃ) ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:‘‘تم کسی قوم سے ایسی بات نہ کرو جو اُن کی سمجھ سے بالاتر ہو، کیونکہ اس سے ان میں فتنہ پیدا ہو سکتا ہے ’’۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
‘‘لوگوں سے وہی بات کرو جو وہ سمجھ سکتے ہیں، کیا تم چاہتے ہو کہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلانے لگیں؟’’!(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب من خص بالعلم قوماً دون قوم)
آج کے دورِ فتن میں دعوت کا یہی سب سے بڑا تقاضا ہے کہ داعی علم و حکمت کے ساتھ بصیرت و شعور سے کام لے ، اپنے لہجے میں نرمی اور دل میں خیر خواہی رکھے ۔ اگر امتِ مسلمہ نے دوبارہ اسی قرآنی اسلوبِ دعوت کو اختیار کر لیا تو وہ پھر سے انسانیت کے لیے ہدایت و رحمت کا سرچشمہ بن سکتی ہے ۔
٭٭٭


